- فتوی نمبر: 34-333
- تاریخ: 06 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > جن صورتوں میں نکاح منعقد نہیں ہوتا
استفتاء
علی کی بیوی کا نام فاطمہ ہے۔ فاطمہ عائشہ کی پھوپھی زاد و ماموں زاد بہن ہے اور فاطمہ نے عائشہ کے بڑے بھائی ساجد کے ساتھ دودھ بھی پیا ہے تو اس صورت میں علی کا عائشہ کے ساتھ نکاح درست ہے؟یعنی علی اپنی بیوی کے رضاعی بھائی کی چھوٹی بہن سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں ؟
وضاحت مطلوب : کیا فاطمہ نے ساجد اور عائشہ کی والدہ کا دودھ پیا تھا؟
جواب وضاحت: جی فاطمہ نے ساجد اور عائشہ کی ماں کا دودھ پیا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں جب تک فاطمہ علی کے نکاح میں ہے تب تک علی کا عائشہ کیساتھ نکاح نہیں ہو سکتا۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں فاطمہ اور عائشہ دونوں رضاعی بہنیں ہیں،اور جس طرح دو حقیقی بہنوں کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا جائز نہیں اسی طرح دو رضاعی بہنوں کو بھی ایک ساتھ نکاح میں رکھنا جائز نہیں۔البتہ بیوی کے انتقال کے بعد یا طلاق دینے کے بعد عدت گزر جانے کے بعد بیوی کی بہن کیساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔
المبسوط للسرخسی (4/204) میں ہے:
(قال): ولا يحل له أن يجمع بين امرأتين ذواتي رحم محرم من نسب أو رضاع؛ لأن الرضاع في حكم الحرمة بمنزلة النسب
ہندیہ (1/277) میں ہے:
(وأما الجمع بين ذوات الأرحام) فإنه لا يجمع بين أختين بنكاح ولا بوطء بملك يمين سواء كانتا أختين من النسب أو من الرضاع هكذا في السراج الوهاج
الجوہرۃ النیرۃ (2/4) میں ہے:
قوله (ولا يجمع بين أختين بنكاح ولا بملك يمين) معناه لا يجمع بين أختين بنكاح يعني عقدا ولا بملك يمين يعني وطئا أما في الملك من غير وطء فله أن يجمع ما شاء وسواء كانتا أختين من النسب أو الرضاع
شامی (3/38) میں ہے:
ماتت امرأته له التزوج بأختها بعد يوم من موتها كما في الخلاصة عن الأصل، وكذا في المبسوط
ہدایہ (1/188) میں ہے:
وإذا طلق امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا لم يجز له أن يتزوج بأختها حتى تنقضي عدتها
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved