• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

امام ضامن باندھنے کا حکم

استفتاء

امام ضامن کیا ہے ؟ اور کیوں باندھتے ہیں ؟

تنقیح :لغت کی کتا ب”فرہنگ آصفیہ”کے مطابق امام ضامن حضرت علی رضا بن موسی کاظم رحمہ اللہ کا لقب ہے۔یہ خلیفہ مامون بن  ہارون رشید کے زمانے میں موجود تھےاسی زمانے میں خلیفہ وقت نےکربلا جانے پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں ۔امام علی رضا وہاں جانے والوں کے کفیل و ضامن ہو جایا کرتے تھے۔اسی وجہ سے ان کو امام ضامن کہا جانے لگا۔اسی طرح آپ حیوانات کے بھی بعض اوقات صیادوں سے ضامن  ہو گئے۔انہی وجوہ کی بنیاد پر لوگوں کا عقیدہ یہ ہوگیا کہ جب کوئی سفر پر جا رہا ہو یا کہیں بیاہ و منگنی ٹھیرائی جا رہی ہو تو امام صاحب کے نام کا روپیہ ،پیسہ خواہ اشرفی ہو یا کوئی سکہ ہو بازو پر باندھا جائے تو آپ مراد پر پہنچانے کے ضامن ہو جاتے ہیں جس وقت مسافر منزل مقصود پر پہنچتا ہے تو اس رقم کو سیدوں پر تقسیم کر دیتا ہے ۔انٹر نیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق  اس رقم کو بطور منت ونذر سمجھا جاتا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

امام ضامن باندھنا جائز  نہیں ہے ۔

توجیہ: امام علی رضاؒ    کا اپنی زندگی میں  کسی کا ضامن بننا درست ہے کیونکہ یہ ظاہری اسباب کے موافق ہے جبکہ وفات کے بعد ضامن بننا درست نہیں کیونکہ یہ ظاہری اسباب کے خلاف ہے اور جو چیز ظاہری اسباب کے خلاف ہو اس کے دواماً ثبوت کا عقیدہ نص پر موقوف ہے اور اس بارے میں کوئی نص موجود نہیں اور کرامتاً ثبوت مانا جائے تو اس کا ہر کسی کے حق میں دواماً ہونا لازم نہیں۔

امدادالفتاوی (5/369) میں ہے:

الجواب : جو استعانت و استمد اد بالمخلوق با عتقاد علم و قدرت مستقل مستمد منہ ہو شرک ہے۔ اور جو باعتقاد علم و قدرت غیر مستقل ہو مگر وہ علم و قدرت کسی دلیل صحیح سے ثابت نہ ہو معصیت ہے، اور جو با اعتقاد علم و قدرت غیر مستقل ہو اور وہ علم و قدرت کسی دلیل سے ثابت ہو جائز ہے، خواہ وہ مستمدمنہ حی ہو یا میت اور جو استمداد بلا اعتقاد علم و قدرت ہو نہ مستقل نہ غیر مستقل، پس اگر طریق استمد او مفید ہو تب بھی جائز ہے جیسے استمداد بالنار والماء والواقعات التاریخیہ ، ورنہ لغو ہے۔

امدادالفتاوی (5/86) میں ہے:

اور بعض کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ ایسی قدرت مستقلہ تو کسی مخلوق میں نہیں مگر بعض مخلوق کو قرب وقبول کا ایسا درجہ عطا ہوتا ہے کہ یہ اپنے متوسلین کے لئے سفارش کرتے ہیں پھر اس سفارش کے بعد بھی ان کو نفع وضرر کا اختیار نہیں دیا جاتا؛ بلکہ حق تعالیٰ ہی نفع وضرر پہنچاتے؛ لیکن اس سفارش کے قبول میں تخلف کبھی نہیں ہوتا اور اس سفارش کی تحصیل کے لئے اس کے ساتھ بلاواسطہ یا بواسطہ معاملہ مشابہ عبادت کرتے ہیں یہ عقیدہ اعتقاد تاثیر نہیں ہے؛ لیکن بلا دلیل شرعی بلکہ خلاف دلیل شرعی ایسا عقیدہ رکھنا معصیت اعتقادیہ اور مشابہ عبادت معاملہ کرنا معصیت عملیہ ہے اور اسی مشابہت کے سبب اطلاقات شرعیہ میں اس کو مشرک کہدیا جاتا ہے۔

امداد الفتاویٰ (11/563) میں ہے:

الجواب: ایسے خطابات میں تین مرتبے ہیں ، اول ان کو متصرف بالا ستقلال سمجھنا یہ تو صریح شرک ہے، دوم متصرف بالاذن اوران خطابات پر مطلع بالمشیۃ سمجھنا یہ شرک تو کسی حال میں نہیں لیکن یہ کہ اس کا وقوع ہوتا ہے یا نہیں اس میں اکابرامت مختلف ہیں فمنهم المثبت ومنهم النافي لیکن جو مثبت بھی ہیں وہ یہ اجازت نہیں دیتے کہ بعید سے ندا کرو اور نہ بعید سے دواماً سننے کی کوئی دلیل ہے اور بلا دلیل شرعی ایسا اعتقاد رکھنا گو حقیقتاً شرک نہ ہو، مگر معصیت اورکذب حقیقتاً اورشرک صورۃً ہے، معصیت ہونے کی یہ دلیل ہے ولا تقف ما لیس لک بہ علم  اور کذب ہونا اس کی تعریف صادق آنے سے ظاہر ہے  اورشرک صورۃً اس لئے کہ اول اعتقاد والوں کے ساتھ عادت میں تشبّہ ہے اور اگر کسی بزرگ کی حکایت میں بطور کرامت کے ایسا امر منقول ہو، توخرق عادت سے دوام عادت ثابت نہیں ہوتا۔

معارف القرآن، مولانا ادریس کاندھلویؒ (1/22) میں ہے:

دوسری صورت یہ ہے کہ غیر کو قادر بالذات تو نہیں سمجھتا لیکن قادر بعطائے الہی سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قدرت اور اختیار عطا کیا ہے کہ جو امور طاقت بشری سے باہر ہیں ان میں جس طرح چاہے تصرف کرے ………………. امور عادیہ جو طاقت بشریہ کے تحت داخل ہوں اور کار خانہ عالم اسباب ان کے ساتھ مربوط اور متعلق ہو  …………….تو یہ استعانت بالغیر جائز ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved