- فتوی نمبر: 35-75
- تاریخ: 09 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کھانے پینے کی اشیاء
استفتاء
Shangrila(شنگریلا ) کمپنی کی Buffalo Sauce (بفّلو ساس)کھانا درست ہے ؟
جس کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں :
Water, Chilli Puree, Salt, Vinegar, Acitidy Regulator:Citric Acid(E330), Stabilizers: Xanthan Gum (E415) & Carboxymethyl Celluose (E466), Preservative Sodium Benzoate (E211), Permitted Food Color:Paprika (E160c) Artificial Butter Flavor
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
Shangrila (شنگریلا ) کمپنی کی Buffalo Sauce (بفّلو ساس) کے اجزائے ترکیبی میں سے کسی جز کے حرام ہونے پر ہمیں کوئی قابل اعتبار دلیل نہیں ملی۔ لہذا جب تک مذکورہ مصنوع میں کسی حرام جز کے شامل ہونے کی کوئی قابل اعتبار دلیل سامنے نہیں آتی اس وقت تک اس مصنوع کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔
توجیہ:مذکورہ مصنوع کے پیکٹ پر دس (10)اجزائے ترکیبی مذکورہیں جن میں چھ (6) نباتاتی ، تین (3) معدنی اور ایک (1) مصنوعی ہیں ۔ان اجزاء کی تفصیل اور ان كا حکم درج ذیل ہے:
نباتاتی اجزاء:
1۔ Vinegarوینیگر (سرکہ، مختلف پھلوں اور نباتات میں تخمیر کے عمل سے حاصل ہونے والے مادے کے
Acetic Acidایسیٹک ایسڈ میں تبدیل ہونے سے حاصل ہوتا ہے)
2۔ Chilli Puree چلی پیوری(مرچ کا پیسٹ)
3۔ Xanthan Gum (E415) زینتَھن گَم ( سبز پتوں والی سبزیوں سے حاصل ہونے والی گوند)
4۔ Carboxy methyl cellulose (E-466) کاربوکسی میتھائل سیلولوز (پودوں سے حاصل ہونے والا ایک مرکب ہے جسے چیزوں کو گاڑھا کرنے کےلیے استعمال کیا جاتا ہے)۔
5۔ Citric Acid(E330)سٹرک ایسڈ(لیموں،کینو اور مالٹے میں پایا جانے والا ایسڈ)
06۔ Paprika (E160c) سُرخ نارنجی مائل رنگ (ایک مصالحہ جو خشک اور پسی ہوئی مرچوں سے بنایا جاتا ہے)
نباتاتی اجزاء کا حکم:
ان میں سے نشہ آوریامضر اجزاء کے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ اجزاء میں سے کوئی بھی جز نشہ آور اور مضر نہیں ہے لہذایہ سب اجزاء حلال اور پاک ہیں اور سرکہ بھی تبدیل ماہیت کی وجہ سے حلال اور پاک ہے۔
معدنی اجزاء:
07۔ Water پانی
08۔Salt (نمک)
09۔ Sodium Benzoate (E211) (سوڈیم بنزویٹ) ( یہ بینزوک ایسڈ اور ہائیڈروجن آکسائڈ سے حاصل ہوتا ہے جسے خوراک کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے)
نوٹ: اگرچہ بنزوئک ایسڈ حیوانی یا نباتاتی ہوسکتا ہے لیکن صنعتی پیمانے پر عموماً معدنی ہی دستیاب ہے اور ہائیڈروجن آکسائڈ ایک کیمیائی مادہ ہے جو حلال ہے۔
معدنی اجزاء کا حکم
ان کا حکم بھی نباتات والا ہے کہ نشہ آور یا مضر اجزاءکے علاوہ سب حلال اور پاک ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ جز نشہ آور یا مضر نہیں ہے لہذا یہ جزبھی حلال اور پاک ہے۔
مصنوعی اجزاء:
10۔ Artificial Butter Flavor آرٹیفیشل بٹر فلیور(مصنوعی مکھن کا ذائقہ) کمیائی مرکبات مثلا ڈائی ایسیٹائل، ایسیٹائل پروپیونائل، ایسیٹائن اس کے اجزاء ہیں۔
مصنوعی اجزاء کا حکم
مصنوعی اجزاء بھی در حقیقت مذکورہ بالا تین اجزاء(نباتاتی،معدنی اور حیوانی) میں سےکسی ایک سے یا ایک سے زائد سے ہی تیارہوتے ہیں ان سے ہٹ کرکسی اور چیز سے تیار نہیں ہوتے ، اس لیے مصنوعی اجزاءکا اصل حکم تو اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ ان کو کن اشیاء سے تیار کیا گیا ہے اور پھر اس مصنوع میں ان میں سے کون سا مصنوعی فلیور استعمال کیا گیا ہے۔ مذکورہ صورت میں چونکہ ان اجزاء کےکسی حیوان یا دیگر حرام اشیاء سے تیار ہونے کا یقین یا غالب گمان نہیں اس لیے جب تک ان مصنوعی اجزاء کے کسی حرام جانور یا کسی حرام شے سے حاصل ہونے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک ان مصنوعی اجزاء کو بھی حلال کہا جائے گا۔
نیز شنگریلا کمپنی نے حلال سرٹیفکیشن کے معتبر ادارے سنہا (SANHA) سے مذکورہ مصنوع کے لیے حلال سرٹیفکیٹ بھی حاصل کیا ہوا ہے۔
لہذا جب تک اس مصنوع میں کسی حرام جز کے شامل ہونے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک اسے حلال کہا جائے گا۔
واضح رہے کہ مصنوعی جز کے حیوان سے ماخوذ ہونے کا احتمال شبہۃ الشبہہ کا درجہ رکھتا ہے ا س لیے اس کا اعتبار نہ ہوگا۔
نوٹ:ہمارے اس فتوے کا تعلق صرف صارف (Consumer) کے ساتھ ہے کیونکہ ایک مفتی اور عام صارف کو کسی مصنوع(Product)کے ان اجزائے ترکیبی تک ہی رسائی ہو سکتی ہے جو پیکٹ پر درج ہوں اور وہ ان اجزاء کو ہی سامنے رکھ کر اپنے لیئے یا دوسرے کیلئےحلال یا حرام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
جبکہ صانع(Manufacturer)کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے اس لیئے صانع(Manufacturer) نے اگر اپنی کسی مصنوع(Product)میں کوئی حرام جز شامل کیا ہو اور اسے کسی بھی مصلحت سے اجزائے ترکیبی میں ذکر نہ کیا ہو تو صانع (Manufacturer) کا یہ فعل بہر حال حرام ہوگا اور چونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم اس کی تحقیق کر سکیں کہ کسی مصنوع میں واقعتاً کوئی حرام جز شامل تو نہیں ،اس لیئے ہمارے اس فتوے کی صانع (Manufacturer) کے لیئے سرٹیفکیٹ کی حیثیت نہیں ہے۔
نیز ہمارا یہ فتوی موجودہ پیکٹ پر درج اجزائے ترکیبی کے بارے میں ہے لہذا اگر کمپنی آئندہ اجزائے ترکیبی میں کوئی تبدیلی کر ےتو ہمارا یہ فتوی اس کو شامل نہ ہوگا۔
إحياء علوم الدين(2/ 92)میں ہے:
«أما المعادن فهي أجزاء الأرض وجميع ما يخرج منها فلا يحرم أكله إلا من حيث أنه يضر بالآكل….. وأما النبات فلا يحرم منه إلا ما يزيل العقل أو يزيل الحياة أو الصحة»
بہشتی زیور (ص:604) میں ہے:
’’نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا مسکر ہو۔‘‘
بہشتی زیور (ص:600) میں ہے:
’’جمادات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا نشہ لانے والا ہو۔‘‘
امداد الفتاوی(96/4)میں ہے:
’’سوال (۲۳۷۴) : جب سے پتہ لگا ہے کہ بعض ولایتی رنگوں میں اسپرٹ کا شبہ ہے اسی وقت سے جب بھی کپڑا پہنتا ہوں تو طبیعت میں شک رہتا ہے کہ یہ کہیں ناپاک نہ ہو، حضرت اقدس ارشاد فرماویں کہ ولایتی رنگ دار کپڑوں مثلاً رنگین گرم کپڑے، رنگین دھاری دار سرد کپڑے، عورتوں کے لئے پختہ رنگ کی رنگین چھینٹیں وغیرہ بلا دھوئے پہننے اور پہن کر نماز پڑھنے میں حرج تو نہیں ہے؟
(۲) حضرت والا یہ بھی ارشاد فرماویں کہ عورتوں کے لئے ولایتی رنگوں سے دوپٹہ وغیرہ رنگ کر پہننے کا کیا حکم ہے؟
الجواب: اول تو خود ان رنگوں میں جزونجس شامل ہونے میں شبہ پھر ان کپڑوں میں ان رنگوں کے شامل ہونے میں شبہ تو کپڑوں کے نجس ہونے کا شبہۃ الشبہہ ہوگیا؛ اس لئے فتوے سے گنجائش ہے باقی اگر کوئی ورع اختیار کرلے اولیٰ واحسن ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved