- فتوی نمبر: 35-87
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > رخصتی سے قبل طلاق
استفتاء
میرا نکاح ہوگیا تھا جس کو تقریباً تین سال ہوچکے ہیں، میں نے گھر والوں کو کئی دفعہ رخصتی کا کہا لیکن گھر والے کسی وجہ سے مان نہیں رہے تھے۔ میں نے اپنی منکوحہ سے ملنا شروع کردیا، اور اس کو کھانے وغیرہ کے لیے لے جاتا تھا، بلکہ دو تین دفعہ ہم نے ایک ہوٹل میں دو دو تین تین گھنٹے گزارے تھے جہاں ہمارے ساتھ کوئی نہیں ہوتا تھا لیکن ہم نے ہمبستری نہیں کی۔ لیکن آہستہ آہستہ ہمارے تعلقات خراب ہونے لگ گئے حتی کہ میں نے ایک دفعہ فون کال پر اسے کہہ دیا کہ ”میری طرف سے تمہیں طلاق ہے طلاق ہے“ کتنی ہیں؟ یہ ذکر ہی نہیں کیا اور نہ اس وقت کچھ ذہن میں تھا۔ اس بات کا ہمارے خاندانوں کو نہیں پتہ۔ اب ہم دونوں اکٹھے رہنا چاہتے ہیں کیونکہ کچھ عرصہ بعد ہماری رخصتی ہونے والی ہے۔ کیا ہم اگر رخصتی کے موقع پر نکاح کرلیں تو ٹھیک ہے؟ اب ہمارے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دو بائنہ طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہوگیا ہے لہذا اب اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہیں تو نئے مہر اور گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ نکاح کرواکر رہ سکتے ہیں۔
نوٹ : مذکورہ صورت میں دوبارہ نکاح کرنے کے بعد شوہر کو ایک طلاق کا اختیار حاصل ہو گا۔
توجیہ : مذکورہ صورت میں چونکہ میاں بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ ہو چکی ہے ،خلوت صحیحہ کا مطلب یہ ہے کہ مرد،عورت دونوں ایسی جگہ میں تنہا جمع ہوں جہاں ازدواجی تعلقات قائم کرنے میں کوئی حسی ، شرعی یا طبعی مانع نہ ہو اور خلوت صحیحہ کے بعد شوہر ایک طلاق دے تو وہ بائنہ طلاق ہوتی ہے اور عورت پر عدت بھی واجب ہوتی ہے اور اس عدت میں دی گئی مزید طلاقیں بھی واقع ہوجاتی ہیں لہذا مذکورہ صورت میں شوہر کے دو بار طلاق کے الفاظ کہ ” تمہیں طلاق ہے ، طلاق ہے” بولنے کی وجہ سے دو بائنہ طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور بائنہ طلاقیں اگر تین سے کم ہوں تو عدت کے اندر اور اسی طرح عدت کے بعد بھی تجدید نکاح کیا جا سکتا ہے ۔
الدر المختار (4/240) میں ہے:
(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء ………… (كالوطء) فيما يجيء …….. في (تأكد المهر) المسمى (و) مهر المثل بلا تسمية و (النفقة والسكنى والعدة وحرمة نكاح أختها وأربع سواها) في عدتها ………. وكذا في وقوع طلاق بائن آخر على المختار
ردالمحتار (4/248) میں ہے:
والحاصل أنه إذا خلا بها خلوةً صحيحةً، ثمّ طلّقها طلقةً واحدةً فلا شبهة في وقوعها، فإذا طلقها في العدة طلقة أخرى فمقتضى كونها مطلقة قبل الدخول أن لاتقع عليها الثانية، لكن لما اختلفت الأحكام في الخلوة في أنها تارة تكون كالوطء وتارة لا تكون جعلناها كالوطء في هذا فقلنا بوقوع الثانية احتياطا لوجودها في العدة، والمطلقة قبل الدخول لايلحقها طلاق آخر إذا لم تكن معتدة بخلاف هذه.
والظاهر أن وجه كون الطلاق الثاني بائنا هو الاحتياط أيضا، ولم يتعرضوا للطلاق الأول. وأفاد الرحمتي أنه بائن أيضا لأنه طلاق قبل الدخول غير موجب للعدة لأن العدة إنما وجبت لجعلنا الخلوة كالوطء احتياطا، فإن الظاهر وجود الوطء في الخلوة الصحيحة ولأن الرجعة حق الزوج وإقراره بأنه طلق قبل الوطء ينفذ عليه فيقع بائنا، وإذا كان الأول لا تعقبه الرجعة يلزم كون الثاني مثله. اهـ. ويشير إلى هذا قول الشارح طلاق بائن آخر فإنه يفيد أن الأول بائن أيضا
ہدایہ (2/257) میں ہے:
وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها ” لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبله
ہندیہ (1/304) میں ہے:
والخلوة الصحيحة أن يجتمعا في مكان ليس هناك مانع يمنعه من الوطء حسا أو شرعا أو طبعا
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved