• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“تم مجھ پر حرام ہو” کہنے کے بعد “میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” کہنے کا حکم

استفتاء

میرے خاوند نے آج سے ڈھائی سال پہلے ایک لڑائی میں  مجھے کہا” تم میری طرف سے فارغ ہو”  اسی وقت مجھے یہ بھی بتایا کہ میں نے پہلے ہی  دل میں قسم کھا لی تھی کہ” تم مجھ پر حرام ہو ” انہوں نے قسم کا اظہار سات یا آٹھ ماہ کے بعد اسی موقع پر مجھ  سے کیا، پھر ہفتے بعد ہم نے دوبارہ نکاح کیا جس میں دو گواہ تھے اور ایجاب و قبول بھی  ہوا تھا۔اور ایک مفتی صاحب کے کہنے پر یہ کیا تھا اور اب 2026-01-04 کو انہوں نے مجھے واضح لفظوں میں ایک دفعہ پھر طلاق دے دی کہ “میں طلاق دیتا ہوں”  یہ کتنی طلاقیں ہوئیں؟  ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حرام والے جملے سے  صرف جسمانی تعلق نہ رکھنے کی  دل میں قسم کھائی تھی ارادہ طلاق کا نہیں تھا اس لئے تین طلاقیں نہیں دو طلاقیں ہوتی ہیں۔

وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔

جواب وضاحت: ******

دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا:

شوہر کا بیان:

میں  نے پہلے واقعہ  میں یہ کہا تھا کہ” تم میری طرف سے فارغ ہو،  میں نے تم سے اب تعلق قائم نہیں کرنا”  اور اس وقت کوئی نیت ذہن میں نہیں تھی اس کے بعد مفتیان کرام کے مشورے سے دوبارہ نکاح کر لیا تھا اس کے بعد ایک مرتبہ طلاق دی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں اب تک دو طلاقیں ہوئی ہیں تین نہیں ہوئیں،  لہذا عدت کے اندر شوہر رجوع کر لے تو میاں بیوی  اکٹھے رہ سکتے ہیں۔

نوٹ : رجوع یا دوبارہ نکاح کے بعد آئندہ شوہر کے پاس صرف  ایک طلاق کا حق باقی ہوگا۔

تو جیہ:  مذکورہ صورت میں شوہر نے اڑھائی سال پہلے جب یہ کہا تھا کہ” تم میری طرف سے فارغ ہو ” تو اس سے ایک بائنہ طلاق واقع ہوئی تھی کیونکہ  یہ جملہ کنایات طلاق میں سے ہے اس کے بعد جو شوہر نے یہ کہا کہ میں نے پہلے ہی دل میں قسم کھا لی تھی کہ “تم مجھ پر حرام ہو ” اس سے کوئی طلاق نہیں ہوئی کیونکہ دل میں طلاق کی قسم کھانے سے طلاق نہیں ہوتی بلکہ اگر شوہر دل میں قسم کھانے کی بات نہ بھی کرتا اور صرف یہ کہہ دیتا کہ “تم مجھ پر حرام ہو “پھر بھی لا یلحق البائن البائن کے تحت  کوئی طلاق واقع نہ ہوتی اس کے بعد میاں بیوی نے نکاح کر لیا تھا جس کے بعد شوہر کو دو طلاقوں کا اختیار حاصل تھا اب شوہر نے دوبارہ ایک مرتبہ کہا ہے کہ” میں طلاق دیتا ہوں” یہ جملہ طلاق کے لیے صریح ہے اس لیے اس سے طلاق رجعی واقع ہو گئی۔  عدت کے اندر شوہر رجوع کر لے تو رجوع ہو جائے گا اور میاں بیوی اکٹھے رہ سکتے ہیں لیکن اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا  تو عدت گزرنے کے بعد اکٹھے رہنے کے لیے باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا ۔

ہدایہ (2/394) میں ہے:

وإذا ‌طلق ‌الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض ” لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل.

شامی (3/ 227)میں ہے:

أما ‌الطلاق ‌الرجعي فالحكم الأصلي له نقصان العدد، فأما زوال الملك وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال بل بعد انقضاء العدة، وهذا عندنا.

ہدایہ (2/399) میں ہے:

وإذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها ” لأن حل المحلية باق لأن زواله معلق بالطلقة الثالثة ‌فينعدم ‌قبله.

ہدایہ (2/395) میں ہے:

‌ويستحب ‌أن ‌يشهد على الرجعة شاهدين فإن لم يشهد صحت الرجعة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved