- فتوی نمبر: 35-95
- تاریخ: 13 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > خلع و تنسیخ نکاح
استفتاء
میرا نام زید ہے۔ میں عِلاقہ گذدَرآباد کراچی پاکستان کا رہائشی ہوں۔ میرا تعلُق مُسلِم مارواڑی سِلاوَٹ جماعت سے ہے۔ میری بِیوی حَدِیقہ بنتِ مقصود کا تعلق بھی ہماری بِرادری سے ہی ہے اور میری بِیوی بھی عِلاقہ گذدَرآباد کراچی پاکستان کی ہی رہائشی ہے۔ شادی کے تقریباً ڈھائی سال بعد میری بِیوی فاطمہ نے 25 اگست 2023ء کو سِٹی کورٹ کراچی سے خُلع کی ڈِگری لی، جس میں میری کوئی رضامندی شامل نہیں۔
میں (زید ) عدالت میں حاضِر ہُوا۔ میری بِیوی (فاطمہ ) کی جانب سے لگائے گئے تمام اِلزامات کا جواب دِیا، لیکن جَج نے خُلع کی ڈِگری جاری کردی۔ جَج کے فیصلہ کے باوجود نہ ہی میں نے حقِ مہر واپس لیا اور نہ ہی اپنی بِیوی کے خُلع کے مُطالبہ کو قبول کیا اور نہ ہی اپنی بِیوی سے حقِ مہر کی واپسی کا مُطالبہ کیا کیونکہ میں خُلع پر راضِی نہیں۔ نیز میں نے کسی بھی خُلع یا طلاق کے کاغذ یا ڈِگری پر دستِخط نہیں کیے ۔ میں خُلع کیس کے فیصلہ والے دِن 25 اگست 2023ء کو بھی عدالت میں موجود تھا اور میں نے خُلع دینے سے صاف اِنکار کردیا تھا۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ کیا صِرف جَج کے فیصلہ سے خُلع واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟ کیا میری بِیوی ابھی بھی میرے نِکاح میں ہے؟ یا شرعی اِعتبار سے ہمارا فسخِ نِکاح ہوچکا ہے؟
اگر شرعی اِعتبار سے خُلع یا تنسیخِ نِکاح نہیں ہوئی ہے تو میری بِیوی مُجھ سے طلاق یا خُلع لیٔے بغیر یا شرعی طور پر فسخِ نِکاح کروائے بغیر کہیں اور نِکاح کرتی ہے تو شرعًا اُس شادی کا کیا حُکم ہے؟ اور ایسی شادی میں شرکت کرنے والوں اور نکاح پڑھانے والے کو شرعی طور پر کیا حکم ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: یہ معاملہ چونکہ فریقین کا ہے اس لیے اس میں بیوی کا تفصیلی مؤقف اور خلع کے مکمل کاغذات بھی درکار ہیں اس کے بغیر جواب دینا ممکن نہیں۔
جواب وضاحت:*****یہ میرے سسر کا رابطہ نمبر ہے۔ خلع کے کاغذات ساتھ لف ہیں۔
نوٹ: دارالافتاء کے نمبر سے بیوی سے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بیوی سے رابطہ نہ ہوسکا لہٰذا یہ جواب شوہر کے بیان کے مطابق دیا گیا ہے۔ اگر بیوی کا بیان اس سے مختلف ہوا تو ہمارا جواب کالعدم ہوگا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
منسلکہ خلع کے کاغذات میں شوہر کے بیوی پر جسمانی تشدد، مار پیٹ کرنے اور نان نفقہ نہ دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اگر اگر شوہر نے واقعتاً اپنی بیوی پر جسمانی تشدد یا مار پیٹ کی تھی یا شوہر قدرت کے باوجود نان نفقہ نہیں دیتا تھا جیسا کہ خلع نامہ میں مذکور ہے تو اس صورت میں عدالت کا یہ فیصلہ درست ہے اور بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق شمار ہوگا اور بیوی کو عدت کے بعد آگے نکاح کرنے کی اجازت ہوگی اور اگر عورت اپنے بیان میں جھوٹی ہے کہ نہ تو شوہر نے مار پیٹ کی ہے اور نان نفقہ بھی دیتا رہا جیسا کہ شوہر نے اپنے بیان میں کہا ہے تو اس صورت میں شرعاً یہ خلع معتبر نہیں اور اس سے شرعا نکاح بھی ختم نہیں ہوا جس کی وجہ سے بیوی کا آگے نکاح کرنا بھی جائز نہ ہوگا۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں عورت نے عدالت سے نکاح ختم کروانے کے لیے جو دعویٰ پیش کیا تھا اس میں دو وجوہات ذکر کی ہیں جسمانی تشدد اور نان نفقہ نہ دینا اور ان وجوہات کو فسخ نکاح کی بنیاد بنانا مالکی مذہب کے مطابق درست ہے اور فقہائے حنفیہ نے ضرورت کے موقع پر اس مسلک کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے لہذا اگر عورت اپنے دعوی میں سچی ہے تو مذکورہ عدالتی خلع بطور فسخ نکاح کے شرعا درست ہے اگر جھوٹی ہے اور مرد سچا ہے تو یہ فیصلہ فسخ نکاح کے لیے بنیاد نہیں بن سکتا لہذا اس سے نکاح بھی ختم نہ ہوگا۔
شرح الکبیر للدردیر حاشیۃ الدسوقی (2/345) میں ہے:
(ولها) أي للزوجة (التطليق) على الزوج (بالضرر) وهو ما لا يجوز شرعا كهجرها بلا موجب شرعي وضربها
المدونۃ (2/178) میں ہے:
وقال لنا مالك وكل من لم يقو على نفقة امرأته فرق بينهما ولم يقل لنا مالك حرة ولا أمة
ضوء الشموع شرح المجموع (2/540) میں ہے:
وإن منعها نفقة الحال ………. فلها القيام فإن لم يثبت عسره أنفق، أو طلق وإلا طلق عليه
(قوله: وإلا طلق) أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم
فتاویٰ عثمانی(2/471) میں عدالتی خلع کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں مذکور ہے:
جواب :منسلکہ فیصلہ احقر نے پڑھا ،اس فیصلے میں شوہر کے ضرب شدید اور ناقابل برداشت جسمانی اذیت رسانی کی بنیاد پر مسماۃ کا نکاح فسخ کر دیا گیا ،فسخ نکاح کی بنیاد مالکی مذہب کے مطابق درست ہے اور فقہائے حنفیہ نے ضرورت کے موقع پر اس مسلک کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے لہذا عدالت کے فیصلے کے بعد مسماۃ کا نکاح ختم ہو چکا ہے اب وہ عدت پوری کرے یعنی تین مرتبہ ایام ماہواری گزارنے کے بعد کہیں اور نکاح کر سکتی ہے ۔
فتاویٰ عثمانی (2/462) میں ہے:
بیوی کے لیے ضروری ہے کہ وہ درخواست برائے فسخ نکاح نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر دے اور جج اپنے فیصلے میں بھی اسی کو بنیاد بنا ئے،خلع کا طریقہ ہرگز اختیار نہ کرے اس لئے کہ یک طرفہ خلع شرعا کسی کے نزدیک بھی جائز اور معتبر نہیں۔ تاہم اگر کسی فیصلے میں بنیاد فیصلہ فی الجملہ صحیح ہو یعنی شوہر کا تعنت ثابت ہو رہا ہو البتہ عدالت نے فسخ کے بجائے خلع کا راستہ اختیار کیا ہو اور خلع کا لفظ استعمال کیا ہو تو ایسی صورت میں خلع کے طور پر تو یکطرفہ فیصلہ درست نہ ہوگا، تاہم فسخ نکاح کی شرعی بنیاد پائے جانے کی وجہ سے اس فیصلے کو معتبر قرار دیں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس فیصلے کی بنیاد پر نکاح فسخ ہو گیا ہے اور عورت عدت طلاق گزار کر کسی دوسری جگہ اگر چاہے تو نکاح کر سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved