• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مار پیٹ کی وجہ سے خلع لینا

استفتاء

ہم نے دو سال پہلے (11 اگست 2022 کو)  عدالت کے ذریعے  اپنی بہن کے لیے خلع لیا تھا   لیکن لڑکا عدالت کی کسی بھی پیشی میں نہیں آیا، خلع لینے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے بلاوجہ مار پیٹ شروع کردی اور گلا بھی  دبایا اور بہن کو اتنا ڈرایا کہ وہ ان کے رویے سے خوف زدہ ہوگئی اور لڑکے نے مارتے ہوئے یہ بھی کہا تھا  کہ میں خود طلاق نہیں دوں گا  تیرے باپ اور بھائی خود خلع لے لیں اور وہ یہ بھی کہتا تھا  کہ دیوبندی ہوتے ہی جھوٹے ہیں تو آیا اس صورت میں خلع ہوجائے گا جبکہ وہ عدالت کی کسی بھی پیشی میں شریک نہیں ہوا، اب ہم اپنی بہن کی شادی کرنا چاہ رہے ہیں رشتہ پسند آگیا ہے۔

1۔وه لڑكا بار بار  یہ کہتاتھا کہ  میں تم سے شادی کرنا ہی نہیں چاہتا تھا میری ماں نے زبردستی کروائی ہے۔

2۔کمرے کی میاں  بیوی کی  پرسنل باتیں سب کے درمیان بیٹھ کر کرتا تھا۔

3۔بیوی کا نان ونفقہ نہیں اٹھاتا تھا اور  بچی کی ولادت کا سارا خرچہ لڑکی کے والدین  سے کروایا اور تین سال کی بچی سے  آج تک  کوئی خرچہ وغیرہ  نہیں دیا اور نہ ہی کبھی بچی کے بارے میں پوچھا اور میری بہن کو کہتا تھا کہ تو واپس کیوں نہیں جارہی  اگر تو بیٹی کی وجہ سے رکی ہے تو بیٹی بھی لے جا، تیرے باپ، بھائی تم دونوں کو پال لیں گے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ شوہربیوی پر تشدد کرتا تھا اور بیوی نے شوہر کے جسمانی تشدد اور سخت مار پیٹ کرنے کی بنیاد پر  تنسیخ نکاح کی درخواست دی تھی اور عدالت نے شوہر کے بیوی پر تشدد کرنے کی بنیاد پر بیوی کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کر دی تھی،  لہذا عدالت کے فیصلے سے بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی تھی جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو گیا تھا۔

نوٹ: مذکورہ صورت میں اگرچہ عدالت نے خلع کا طریقہ اختیار کیا ہے اور یکطرفہ خلع شرعا معتبر نہیں ہوتا مگر چونکہ مذکورہ صورت میں فسخ نکاح کی معتبر بنیاد موجود ہے یعنی شوہر کا بیوی پر جسمانی تشدد اور سخت مار پیٹ  کرنا  لہذا عدالتی خلع بطور فسخ نکاح کے  شرعا مؤثر ہے لہٰذا لڑکی کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔

مواہب الجلیل شرح مختصر خلیل (5/228)میں ہے:

(ولها  التطليق بالضرر) ش:قال ابن فرحون في شرح ابن الحاجب: من الضرر قطع كلامه عنها وتحويل وجهه في الفراش عنها وإيثار امرأة عليها وضربها ضربا مؤلما.

شرح الكبير للدردير مع حاشیۃ الدسوقی (2/345) میں ہے:

(ولها) أي للزوجة (التطليق) على الزوج (بالضرر) وهو ما لا يجوز شرعا كهجرها بلا موجب شرعي وضربها كذلك وسبها وسب أبيها، نحو يا بنت الكلب يا بنت الكافر يا بنت الملعون كما يقع كثيرا من رعاع الناس ويؤدب على ذلك زيادة على التطليق كما هو ظاهر وكوطئها في دبرها…..

 (قوله ولها التطليق بالضرر) أي لها التطليق طلقة واحدة وتكون بائنة كما في عبق 

حیلہ ناجزہ (140) میں ہے:

’’ان كل طلاق اوقعه الحاكم فهو بائن الا طلاق المولى و المعسر و سواء اوقعه الحاكم بالفعل او جماعة المسلمين او امراها به‘‘.انتهى.

فتاوی عثمانی(2/462) میں ہے:

یکطرفہ خلع شرعا کسی کے نزدیک بھی جائز اور معتبر نہیں، تاہم اگر کسی فیصلے میں بنیاد فیصلہ فی الجملہ صحیح ہو ۔۔۔۔۔۔۔ البتہ عدالت نے فسخ کے بجائے خلع کا راستہ اختیار کیا ہو اور خلع کا لفظ استعمال کیا ہو تو ایسی صورت میں خلع کے طور پر تو یکطرفہ فیصلہ درست نہ ہو گا تاہم فسخ نکاح کی شرعی بنیاد پائے جانے کی وجہ سے اس فیصلے کو معتبر قرار دیں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس فیصلے کی بنیاد پر نکاح فسخ ہو گیا ہے اور عورت عدت طلاق گزار کر کسی دوسری جگہ اگر چاہے تو نکاح کر سکتی ہے ۔

فتاویٰ عثمانی(2/470) میں ہے:

سوال:گزارش ہے کہ علمائے دین اس مسئلے میں کیا فرماتے ہیں جو یہ ہے کہ فسخ نکاح کا فیصلہ عدالت نے کیا ہے ، اس مسئلے میں ہمیں اطمینان دلایا جائے ، عین نوازش ہوگی ۔

جواب:منسلکہ فیصلہ احقر نے پڑھا ، اس فیصلے میں شوہر کے ضرب شدید اور ناقابل برداشت جسمانی اذیت رسانی کی بنیاد پر مسماۃ شمیم اختر کا نکاح محمد سرورسے فسخ کردیا گیا ، فسخ نکاح کی بنیاد مالکی مذہب کے مطابق درست ہے ، اور فقہائے حنفیہ نے ضرورت کے موقع پر اس مسلک کو اختیار کرنے کی اجازت دی ہے ، لہٰذاعدالت کے فیصلے کے بعد مسماۃ شمیم اختر کا نکاح محمد سرور سے ختم ہوچکا ہے ، اب وہ عدت پوری کرے ، یعنی تین مرتبہ ایام ماہواری گزارنے کے بعد کہیں اور نکاح کرسکتی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved