• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حق مہر میں ملی ہوئی زمین میں سے کچھ حصہ وراثتی مکان میں راستے کی غرض کی استعمال کرنے کا حکم

استفتاء

میرے والد کل چار بھائی ہیں۔میرے دادا  زید مرحوم کی طرف سے میرے والد صاحب کو 18 مرلے مکان میں سے  06  مرلہ رقبہ ملنا تھا ۔بعد میں میرے مرحوم والد صاحب نے میری مرحومہ والدہ صاحبہ کو وہی 06 مرلہ بطور حق مہر دینا تھا جن میں سے 05 مرلے دے دیا تھا اور ان کے حق مہر کا 01 مرلہ وراثتی مکان میں راستے کی غرض سے شامل کیا گیا کیونکہ اگر اس وقت شامل نہ کرتے تو پھر وراثتی مکان کا کوئی راستہ نہ  ہوتا۔اب اس وراثتی مکان میں میرے چچا  خالد رہتے ہیں۔میرے مرحوم والد صاحب نے اپنی زندگی میں میرے چچا صاحب کو بار ہا کہا تھا کہ در پیش مسئلے کو بر وقت حل کر لیں ورنہ بعد میں یہ ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا مگر رشتوں کی نزاکت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میرے والد صاحب نے میرے چچا پر سختی نہیں کی۔(17 اپریل 2018) مرحوم والد صاحب کے جانے کے بعد میری مرحومہ والدہ(جو کہ 05 جنوری 2025 کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئی)نے بھی موصوف کو یاد دہانی کروائی تھی مگر میرے چچا سیف الملوک نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔اب جب میں نے مرحومہ والدہ صاحبہ کے حق مہر کے 1 مرلے کا مطالبہ کیا تو میں مجرم بن گیا اور اُن کے مطابق مجھے پوچھنے کا کوئی حق نہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اگر لینا چا ہو تو عدالت کے ذریعے لے لو۔

مزید یہ کہ میرے چچا صاحب میرے مرحوم والد صاحب کے نکاح پر میرے مرحوم والد صاحب کی طرف سے گواہ بھی تھے مگر آج اپنی بات سے مُکر رہے ہیں اور میرے چچا صاحب میرے ساتھ جرگے کے سامنے حاضر نہیں ہوتے اور نہ کسی اور فورم پر میرے ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں کہ جہاں میرے ساتھ بیٹھ کر در پیش مسئلہ حل کرے۔لہذا کیا میں بطور برخوردار اپنی مرحومہ والدہ کے حق مہر کے 1 مرلے کا مطالبہ کرسکتا ہوں یا نہیں؟سوال سے متعلقہ دستاویزات کی فوٹو کاپی ساتھ منسلک ہے اور اور یجنل دستاویزات میرے پاس بطور ثبوت موجود  ہیں۔

وضاحت مطلوب ہے: اپنے چچا کا مؤقف معلوم کرنے کے لیے ان کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔

جواب وضاحت: *********

وضاحت کے لیے فریق ثانی(عمر کے چچا)  خالد  صاحب کو فون کیا تو عمر کے دوسرے چچا کے بیٹے نے بات کی اور بتایا کہ  خالد  کو کم سنائی دیتا ہے۔

عمر کے چچا زاد بھائی کا بیان:

ہمارے دادا کا مکان تقریبا 17 یا 18 مرلے  تھا۔دادا نے اپنی زندگی میں  عمر  کے والد کو جائیداد سے حصہ دیا تھا جس میں ایک مرلہ کم تھا لیکن ایک مرلے کی قیمت(جو اس وقت 20 ہزار تھی)دادا نے  عمر  کے والد کو دے دی تھی جس کے گواہ موجود ہیں اور یہ بات ہمارے ہاں سرکاری جرگے میں ہم گواہوں کے ساتھ ثابت کر چکے ہیں اور  عمر  اس میں لاجواب ہو چکا ہے اس لیے وہ دار الافتاؤں سے فتوے لے رہا ہے۔

دادا نے ایک بیٹے کو اس مکان کے علاوہ باہر سے حصہ دیا تھا اور باقی تین بیٹوں کو اس مکان میں سے حصہ دیا تھا اور ہماری دادی کا حصہ بھی اسی مکان میں تھا جو ایک بیٹے نے دادی سے اس کی زندگی میں خرید لیا تھا۔

عمر  کا بیان:

میرے والد نے میرے دادا سے کوئی پیسے نہیں لیے اگر لیے ہوتے تو ہمیں معلوم ہوتا کیونکہ ہمارے والد ہمیں سب باتیں بتاتے تھے اور میرا چچا زاد بھائی جن گواہوں کی بات کر رہا ہے وہ انہوں نے خریدے تھے اور وہ گواہ بھی ایسے ہیں کہ جن کو حقیقتا ہمارے گھر کی تقسیم وغیرہ کی کچھ خبر نہیں اور میرا  چچا زاد بھائی میرے چچا(خالد ) کی طرف داری اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اس نے چچا سے یہ جگہ خریدنی ہے کیونکہ اس کا گھر چچا کے گھر کے پاس ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً آپ کے دادا  زید  مرحوم نے آپ کے والد کو ایک مرلہ جگہ کے پیسے دے دیے تھے تو آپ کا اپنے چچا  خالد صاحب سے ایک مرلہ جگہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں لیکن اگر آپ کے دادا نے آپ کے والد کو کوئی پیسے نہیں دیے اور وہ ایک مرلہ آپ کے چچا خالد کے زیر استعمال ہے تو آپ کا ان سے اس ایک مرلے کا مطالبہ کرنا درست ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved