- فتوی نمبر: 34-385
- تاریخ: 18 اپریل 2026
- عنوانات: مالی معاملات > خرید و فروخت > بیع فاسد کے احکام
استفتاء
ہماری بریانی کی دكان ہے اور فوڈ پانڈا کی ڈیوائس ہم نے رکھی ہوئی ہے ہمارے پاس روزانہ آرڈر آتےہیں اور کچھ گاہکوں کا کمپنی واؤچر بھی آتا ہے جو فوڈ پانڈا خود دیتا ہے جس پر 50٪ڈسکاؤنٹ ہوتا ہے حضرت ہمارے پاس ایک کسٹمر آتا ہے جس کے تقریباً روزانہ 30 سے 40 آرڈر ہوتے تھے اور سب پر واؤچر لگا ہوتا ہے مطلب 5000کی بریانی 2500میں اس کو مل جاتی ہے ۔فوڈ پانڈا ہم سے 30 فیصد کمیشن لیتا ہے مطلب 5000کی بریانی بیچنے پر 1500فوڈ پانڈا لیتا ہے 3500ہمیں دیتا ہے ، اب وہ کسٹمر جب اپنے مختلف اکاؤنٹ سے دن میں 5000کی بریانی آرڈر کرتا ہے تو فوڈ پانڈا اسکو واؤچر کی شکل میں 50٪ڈسکاؤنت دیتا ہے اب یہ جب بریانی لینے آتا ہے تو 2500یہ کسٹمر ہمیں دیتا ہے اور 1000فوڈ پانڈا ہمارے اکاؤنٹ میں بھیجتا ہے ہمارے پیسے پورے ہو جاتے ہیں ، اب کسٹمر ہمارے ساتھ یہ بات کرتا ہے کہ یہ بریانی آپ مجھ سے 3000کی واپس لے لو یعنی 2500اس نے مجھے دینے تھے لیکن اس کی بجائے میں نے اپنے پاس سے اس کو 500 دے دیے اور بریانی بھی نہ دی 500میرے پاس بچ گئے مطلب لیا دیا کچھ نہیں، پھر بھی 500اس کو بچ گئے اور 500مجھے اور اگر میں اس کو بریانی دے دوں تو وہ کسی اور کو 3000ہزار کی آسانی کے ساتھ بیچ سکتا ہے ۔ اس میں رہنمائی فرمائیں کہ میرا اس طرح منافع لینا جائز ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: فوڈ پانڈا جب اس کو 50 فیصد ڈسکاؤنٹ کا واؤچر دیتا ہے تو اس صورت میں آپ کو باقی 50 فیصد ادائیگی فوڈ پانڈا خود کرتا ہے؟ یا کیا کرتا ہے اس کی تفصیل بتائیں؟
جواب وضاحت: 50 فیصد ادائیگی کسٹمر کرتا ہے اور 50فیصد ادائیگی فوڈ پانڈا کرتا ہے جس میں سے 30 فیصد کمیشن کاٹ لیتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ طریقے سے بریانی پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی واپس بریانی والے کو بیچنا اور بریانی والے کا نفع کمانا جائز نہیں ہے۔ نیز خریدار کے قبضہ کرنے کے بعد بھی اسی بیچنے والے کو کم قیمت میں بیچنا بھی جائز نہیں ہے البتہ قبضہ کرنے کے بعد کسی اور شخص کو بیچ سکتا ہے ۔
توجیہ :چونکہ منقولہ (بالخصوص کھانے والی) چیز کو قبضے سے پہلے بیچنا جائز نہیں چاہے بائع کو ہی واپس بیچا جائےاس لیے قبضہ سے پہلے بریانی والے کو بیچنا جائز نہیں بنتا اور قبضہ کے بعد بریانی والے کو بیچنے کے ناجائز ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں چونکہ خریدار کی طرف سے قیمت کی ادائیگی نہیں ہوتی اس لیے کم میں بیچنے کی حقیقت شراء ما باع باقل مما باع لازم بنے گی جو کہ جائز نہیں ۔
نوٹ : مذکورہ صورت میں بریانی والے کے پاس آرڈر اگرچہ فوڈ پانڈہ کی طرف سے آتا ہے لیکن اصل خریدار گاہک بنتا ہے کیونکہ فوڈ پانڈہ صرف اصل گاہک اور بائع کے درمیان واسطے کا کام کرتا ہے اور اس کے چارجز لینا ہے نہ کہ کسی ایک کا وکیل بن کر معاملہ کرنا ہے ۔
الدر المختار (7/383) میں ہے:
(لا) يصح اتفاقا ككتابة وإجارة و (بيع منقول) قبل قبضه ولو من بائعه كما سيجيء ………. (و) المنقول (لو وهبه من البائع قبل قبضه فقبله) البائع (انتقض البيع ولو باعه منه قبله لم يصح) هذا البيع
شرح المجلہ (2/176) میں ہے:
وأما إذا تصرف فيه مع بائعه فإن باعه منه لم يجز بيعه أصلا قبل القبض
فتح القدیر (6/510) میں ہے:
ومن اشترى شيئا مما ينقل ويحول لم يجز له بيعه حتى يقبضه لأنه عليه الصلاة والسلام نهى عن بيع ما لم يقبض
البنایہ شرح الہدایہ (7/229) میں ہے:
(قال ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة، فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن لا يجوز البيع الثاني) ش: وبه قال مالك وأحمد رَحِمَهُمُ اللَّهُ واعلم أن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن لا يجوز عندنا.
شامی (5/73) میں ہے:
لو باع شيئا وقبضه المشتري ولم يقبض البائع الثمن فاشتراه بأقل من الثمن الأول لا يجوز زيلعي: أي سواء كان الثمن الأول حالا أو مؤجلا هداية، وقيد بقوله وقبضه؛ لأن بيع المنقول قبل قبضه لا يجوز ولو من بائعه كما سيأتي في بابه، والمقصود بيان الفساد بالشراء بالأقل من الثمن الأول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved