• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیٹوں، بیٹیوں اور پوتوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

ایک آدمی  زید  فوت ہوا اس کے انتقال کے وقت اس کی بیوی موجود تھی اور اس کے سات بچے تھے جن میں سے دو بیٹیاں ہیں اور پانچ بیٹے (خالد ، بکر ، عمر ،  ضیاء، واجد ) ہیں اور ان پانچ بیٹوں میں سے واجد غیر شادی شدہ تھا اور  والد کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا اور بکر والد کے بعد فوت ہوا پھر اس کے بعد ان کی والدہ بھی فوت ہوگئی۔ بکر جب فوت ہوا تو اس کی بیوی اور دو بیٹے اور ایک بیٹی زندہ تھے جو اب بھی زندہ ہیں۔

زید اور ان کی بیوی کے انتقال کے وقت ان کے والدین زندہ نہیں تھے۔سب کا نظام مشترکہ تھا۔  زید کی وراثت میں دو کروڑ تیس  لاکھ روپے ہیں ان کی تقسیم کیسے ہوگی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  زید  کی کل جائیداد کے 9600 حصے کیے جائیں گے جن میں سے زید کے  تین بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو  2050 حصے (21.35 فیصد فی کس ) ، زید کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 1025 حصے (10.67 فیصد فی کس) ، بکر کی بیوی کو 210 حصے (2.18 فیصد) ، بکر کے  دونوں بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 476 حصے (4.95 فیصد فی کس) اور بکر کی بیٹی کو 238 حصے (2.47 فیصد) ملیں گے۔

اس حساب سے  دو کروڑ تیس لاکھ میں سے   زید  کے تین بیٹوں میں سے  ہر بیٹے کو 4911458 روپے،  زید کی دونوں بیٹیوں میں سے ہر بیٹی کو 24,55,729 روپے، بکر کی بیوی کو 5,03,125 روپے، بکر کے  دونوں بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو11،40،417 روپے اور  بکر کی بیٹی کو5,70,208 روپے ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved