- فتوی نمبر: 35-122
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
عرض ہے کہ ہمارے علاقے میں ایک مسجد تھی، جسے حکومت نے سڑک بنانے کے لیے شہید کرنے کا کہا۔ اہلِ علاقہ نے مجبوری میں مسجد کو پیچھے کی طرف منتقل کر کے نئی مسجد تعمیر کر لی۔ پرانی مسجد کی جگہ اب خالی پڑی ہے، کئی سال گزر چکے لیکن وہاں سڑک نہیں بنی۔ اب وہ جگہ بیکار پڑی ہے جہاں لوگ پیشاب وغیرہ کرتے ہیں اور ناجائز قبضے کا بھی خطرہ ہے۔
جس شخص نے یہ زمین مسجد کے لیے وقف کی تھی، وہ اب کہتا ہے کہ میں اپنی زمین واپس لیتا ہوں، اور اس نے کچھ حصہ فروخت کر کے اس پر دکان بھی بنا لی ہے۔ جبکہ موجودہ مسجد کو آگے کی طرف بڑھانا ممکن نہیں کیونکہ قبلہ کا رخ خراب ہو جائے گا، اور آگے جگہ بھی تنگ ہے۔ان حالات میں گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں:
1۔کیا پرانی مسجد کی جگہ پر مدرسہ یا کوئی دینی ادارہ قائم کرنا جائز ہے؟
2۔کیا واقف کو شرعاً وقف زمین واپس لینے یا بیچنے کا حق حاصل ہے؟
3۔ایسی جگہ کو ناپاکی اور ناجائز استعمال سے بچانے کے لیے شرعاً کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
3،1۔جو جگہ ایک دفعہ مسجد شرعی بن جائے وہ تاقیامت مسجد شرعی کے حکم میں ہے اور اس جگہ کو مسجد کے علاوہ کسی اور استعمال میں لانا جائز نہیں البتہ عارضی طور پر وہاں مدرسہ قائم کیا جا سکتا ہے تاہم یہ جگہ مسجد ہی کی رہے گی اور آداب مسجد کی رعایت بھی لازم ہوگی اور جب بھی مسجد کو اس جگہ کی ضرورت پڑی تو یہ خالی کر کے مسجد کو دینا لازم ہے۔
2۔ مذکورہ صورت میں واقف کو وقف زمین واپس لینے اور بیچنے کا اختیار نہیں کیونکہ ایک دفعہ زمین وقف ہو کر بندے کی ملک سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملک میں چلی جاتی ہے لہٰذا وقف کے لیے اس جگہ کو بیچنا یا اس پر کچھ اور بنانا جائز نہیں۔
ہندیہ(362/2)میں ہے:
البقعة الموقوفة على جهة إذا بنى رجل فيها بناء ووقفها على تلك الجهة يجوز بلا خلاف تبعا لها، فإن وقفها على جهة أخرى اختلفوا في جوازه والأصح أنه لا يجوز كذا في الغياثية
ہدایہ(2/640) میں ہے:
وإذا صح الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه
تبیین الحقائق: (330/3)میں ہے:
وقد بيناه من قبل وإذا صار مسجدا على اختلافهم زال ملكه عنه وحرم بيعه فلا يورث وليس له الرجوع فيه لأنه صار لله بقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] ولا رجوع فيما صار لله تعالى كالصدقة.
کفایت المفتی(4/92) میں ہے:
جواب :مسجد کے اندر مدرسہ بنانے سے اگر مراد یہ ہے کہ مسجد کا حصہ (مہیاللصلوۃ) کو مدرسہ بنادینا تو یہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں مسجد میں بیٹھ کر دینیات کی تعلیم دینے میں مضائقہ نہیں مگر مسجد کی حیثیت مسجد ہی کی رہے گی۔ مدرسہ کی حیثیت پیدا نہ ہو گی اور آداب مسجد کی رعایت لازم ہو گی اور اگر مراد یہ ہے کہ احاطہ مسجد کے اندر فاضل جگہ موجود ہے۔ موضع للصلاۃ اس سے علیحدہ ہے تو اس فارغ اور فاضل جگہ میں مدرسہ بنانا جائز ہے۔ لیکن مدرسہ عارضی ہوگا اور اگر کبھی مسجد کو اس جگہ کی ضرورت ہو گی تو مدرسہ اٹھانا پڑے گا اور جگہ مسجد کے حوالے کرنی پڑے گی۔
فتاویٰ محمودیہ(14/288) میں ہے:
جو زمین وقف کر دی جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لیے وقف ہو جاتی ہے، اس کی بیع کا کسی کو اختیار نہیں رہتا، نہ واقف کو نہ متولی کو۔ اگر بیع کر دی جائے تو وہ شرعاً ناقابل نفاذ ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved