• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رخصتی سے پہلے طلاق کا حکم

استفتاء

میرا نام زید  ہے، میرا  نکاح شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تحت 22 فروری 2024 کو  فاطمہ  سے ہوا،  ابھی تک رخصتی  نہیں ہوئی ہے۔ مورخہ 19 مئی 2024 کو میری اپنی ساس سے فون پر بات ہو ر ہی تھی کچھ نجی مسائل پر میں کچھ شرائط طے کر رہا تھا جس پر میری ساس نے کہا کہ ہمیں آپ کی کوئی شرط  منظور نہیں تو میں نے کہا کہ ’’پھر میری طرف سے طلاق ہے، طلاق ہے،  طلاق ہے‘‘  اور خدا حافظ کہہ کر میں نے  فون کاٹ دیا۔  محترم مفتی صاحب رہنمائی فرمائیں کہ آیا طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟ اور اگر ہوگئی ہے تو دو بار ہ رجوع کی  کوئی صورت ممکن ہے  ؟

لڑکی کی والدہ کا نمبر ****** لڑکے کا نمبر******

تنقیح: (1) کال کی ریکارڈنگ سنی گئی جس میں شوہر کے الفاظ یہ تھے کہ ’’میرے ولوں سن لو، میرے ولوں طلاق جے، طلاق جے، طلاق جے‘‘   ( میری طرف سے سن لو، میری طرف سے طلاق ہے، طلاق ہے،  طلاق ہے)

(2) نکاح کے بعد میاں بیوی کی کبھی خلوت میں ملاقات نہیں ہوئی کیونکہ جب نکاح ہوا  شوہر ملک سے باہر تھا اور ابھی بھی وہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ٹوٹ گیا ہے لہذا اگر میاں بیوی  دوبارہ اکٹھے رہنا چاہیں تو کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں۔

توجیہ:مذکورہ صورت میں  شوہر نے خلوت صحیحہ سے پہلے یہ الفاظ کہے  ہیں  کہ ’’ میرے ولوں طلاق جے، طلاق جے، طلاق جے‘‘ (میری طرف سے طلاق ہے، طلاق ہے،  طلاق ہے)  چونکہ یہ تین متفرق جملے ہیں لہذا پہلے جملے سے ایک بائنہ طلاق واقع ہو گئی اور عدت نہ ہونے کی وجہ سے باقی دو جملے لغو ہو گئے۔

نوٹ: آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کا حق حاصل ہو گا۔

درمختار مع ردالمحتار (499/4) میں ہے:

(قال لزوجته غير المدخول بها أنت طالق) يا زانية (ثلاثا)… (وقعن)….(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية)

(قوله وإن فرق بوصف) نحو أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة، أو خبر نحو: أنت طالق طالق طالق، أو جمل نحو: أنت طالق أنت طالق أنت طالق ح، ومثله في شرح الملتقى.

درمختار (5/42) میں ہے:

(وينكح) مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved