• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاق بائن کا میسج

استفتاء

9جنوری 2025 کو میرے شوہر نے ایک بائنہ طلاق کا میسج اپنے دوست کو کیا،  پھر 25 جنوری کو شوہر کے اس دوست نے مجھے میسج کی تصویر بھیجی ، میسج کے الفاظ یہ تھے”Mene Usko Azaad Kedia”(ترجمہ:میں نے اس کو آزاد کہہ دیا) اور میرے پوچھنے پر شوہر نے یہ بھی بتایا کہ میں نے ایک بائنہ کی نیت کی ہے، اور اس کے بعد تین اپریل کو مجھے نوٹس ملا جس پر لکھا تھا کہ میں نے 9 جنوری کو تین طلاق دی تھیں  لہذا کون سی طلاق کا اعتبار کیا جائے گا بائنہ کا یا مغلظہ کا؟ اور یہ بھی بتائیے گا کہ اگر ایک طلاق دینے کے بعد خبر یہ دی جائے کہ میں نے تین طلاقیں  دی ہیں تو کیا خبر دینے سے بھی ایک طلاق کی بجائے تین طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں؟

شوہر کا بیان:

میں نے اپنے وکیل سے رابطہ کیا کہ وہ سابقہ ایک طلاق کو طلاق نامےکی صورت میں لکھ دے لیکن وکیل نے بتایا کہ قانونی کاروائی کے لیے  تین طلاقیں  ہی لکھنی ہوتی ہیں  تو میں نے کہہ دیا کہ چلو جیسا بھی ہے  طلاقنامہ تیار کرو تو اس نے طلاقنامہ تیار کیا میں نے اس کو پڑھا اور  مجھے معلوم تھا کہ اس میں تین طلاقیں لکھی ہوئی ہیں پھر قانونی کاروائی سمجھتے ہوئے اس پر سابقہ ایک طلاق کی نیت سے دستخط کر دیے ۔

نوٹ: 9 جنوری 2025 سے 3 اپریل 2025  تک بیوی حاملہ تھی۔

طلاقنامے کی عبارت:

This divorce deed is executed on this03-04-2025 at ***by ***** son of **** residing at ward No 3 behind ****** and holding CNIC No……. witnessed as follows. I,*** was married to **** daughter of **** currently residing at Masjid **** City ………….. Therefore, I have been compelled to pronounce “Talaq, Talaq, Talaq” thriceupon my wife ***** on 09-01-2025 thereby irrevocably terminating all ties of husband and wife with her.

Henceforth, ***** is relesed from all marital obligations towards me, and she is free to marry anyone of  her choosing.

In witness Whereof, I **** son of ***** have  executed this deed of divorce on

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی صلح کی گنجائش ہے ۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں میسج کے الفاظ کہ” میں نے اسے آزاد کہہ دیا ” کنایات طلاق کی تیسری قسم میں سے ہیں اور میسج کی تحریر کتابت مستبینہ غیر مرسومہ ہے جس سے نیت یا دلالت حال سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ چونکہ شوہر نے مذکورہ الفاظ طلاق کی نیت سے لکھے تھے لہذا مذکورہ الفاظ سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی ہے ۔

اس کے بعد جب شوہر نے 13 اپریل2025 کو  عدت کے اندرطلاق نامے پر دستخط کیے تو چونکہ شوہر کو معلوم تھا کہ طلاق نامے میں تین طلاقیں لکھی ہیں اور طلاقنامے کی تحریر کتابت مستبینہ مرسومہ ہے جس سے نیت کے بغیر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ لہذا طلاق نامے کے الفاظ (Therefore, I have been compelled to pronounce “Talaq, Talaq, Talaq thriceupon my wife ***** on 09-01-2025 thereby irrevocably terminating all ties of husband and wife with her.)  (ترجمہ: لہذامیں اپنی بیوی حافظہ عفیفہ کو مورخہ 09-01-2025 کو “طلاق، طلاق، طلاق” تین مرتبہ کہنے پر مجبور ہوگیاتھا، جس کے ذریعے میں میاں اور بیوی کے تمام تعلقات ناقابلِ واپسی طور پر ختم کرتا ہوں) سے بیوی کے حق میں مزید دو طلاقیں واقع ہو گئی ہیں کیونکہ یہ تین طلاقوں کا جھوٹا اقرار ہے حقیقت میں 9 جنوری2025 کو شوہر نے ایک بائنہ طلاق دی تھی۔اور بیوی کے حق میں اقرار کاذب سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔

شامی (3/300) میں ہے:

ونحو ‌اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد …… (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا

(قوله توقف الأولان) أي ما يصلح ردا وجوابا وما يصلح سبا وجوابا ولا يتوقف ما يتعين للجواب. بيان ذلك أن حالة الغضب تصلح للرد والتبعيد والسب والشتم كما تصلح للطلاق، وألفاظ الأولين يحتملان ذلك أيضا فصار الحال في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عنى به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه ولا يكذبه الظاهر فيصدق في القضاء، بخلاف ألفاظ الأخير: أي ما يتعين للجواب لأنها وإن احتملت الطلاق وغيره أيضا لكنها لما زال عنها احتمال الرد والتبعيد والسب والشتم اللذين احتملتهما حال الغضب تعينت الحال على إرادة الطلاق فترجح جانب الطلاق في كلامه ظاهرا، فلا يصدق في الصرف عن الظاهر، فلذا وقع بها قضاء بلا توقف على النية

الدر  المختار مع ردالمحتار (4/516) میں ہے:

(ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) و هي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب

(قوله قضاء) قيد به ‌لأنه ‌لا ‌يقع ‌ديانة بدون النية، ولو وجدت دلالة الحال فوقوعه بواحد من النية أو دلالة الحال إنما هو في القضاء فقط كما هو صريح البحر وغيره.

ہندیہ (1/378) میں ہے:

الكتابة ‌على ‌نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو

رد المحتار (443/4) میں ہے:

وفي التتارخانية:…………… ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه

شامی (3/236) میں ہے:

‌ولو ‌أقر ‌بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة

شامی (3/306) میں ہے:

(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح

ہندیہ (1/473) میں ہے:

وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.

امداد الفتاویٰ (5/183)  میں ہے:

سوال: ایک شخص نے دوسرے سے کہا ایک طلاق لکھ  دو اس نے بجائے صریح کے کنایہ لکھ دیا آمر نے بغیر پڑھے یا پڑھائے دستخط کر دیے تو کیا حکم ہے اور دستخط کرنا شرعاً  کیا حکم رکھتا ہے؟۔۔۔۔۔۔الخ

الجواب: اگر مضمون کی اطلاع پر دستخط کیے ہیں تو معتبر ہے ورنہ معتبر نہیں ہے قواعد سے یہی حکم معلوم ہوتا ہے اور دستخط کرنا اصطلاحاً  اس مضمون کو اپنی طرف منسوب کرنا ہے۔۔۔۔۔۔الخ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

thi 03-04-2025 at Multan.

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved