• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

فوت شدہ بیٹی کے لیے بنائے گئے گھر کی وراثت سے متعلق سوالات

استفتاء

ہمارے آبائی گاؤں باگڑ سرگانہ میں میرے چچا اور سسر میاں محمد عمر سرگانہ صاحب کے گھر سے متصل ایک پلاٹ برائے فروخت تھا تو میں نے چچا صاحب کے ذریعے اسے پانچ لاکھ تیس  ہزار میں خرید لیا اس کے پیسے میں نے دیے۔پلاٹ کا مین گیٹ نہیں لگ سکتا تھا اس لیے فرنٹ کی ضرورت تھی لہذا اس کے ساتھ تقریبا ڈیڑھ مرلہ ایک دکان کی جگہ تھی اس کے پیسے میں نے علیحدہ سے دے کر اس پلاٹ کو سیدھا کر لیا  ۔میں اس جگہ پر مستقل رہائش پذیر نہیں ہوں میرے چچا زید  وہاں سکونت رکھتے ہیں اس لیے سارا معاملہ بیع و  شراء  کا انہوں نے ہی کیا ۔ میں نے خریداری کے بعد بھی بعض  شرور  سے بچنے کے لیے اپنی ملکیت عام لوگوں میں ظاہر نہیں کی لیکن چچا صاحب سمیت متعدد صاحبان اس قضیے سے نہ صرف واقف تھے اور ہیں بلکہ اس قضیے کی گواہی خود چچا صاحب سمیت عمر،بکر ،خالد اور واجد  وغیرہ دینے کے لیے تیار ہیں ۔ عام لوگوں میں البتہ یہ تاثر رہا کہ یہ دونوں پلاٹ زید  کی ملکیت ہیں۔

کچھ عرصے بعد میری بیٹی مرحومہ  فاطمہ جو میرے چچا کی نواسی بھی تھی اس کی شادی  رضوان کے بیٹے  ضیاء سے ہونا طے پائی۔ میرے چچا  زید کی  رضوان  سے رشتہ داری ہے وہ ان کے برادر نسبتی بھی ہیں ۔ رضوان نے میرے چچا سے پوچھا آپ نے اس پلاٹ کا کیا کرنا ہے  ؟چچا نے کہا یہ میں نے اپنی نواسی کو دے دیا ہے ۔اس پر  رضوان  وغیرہ نے اسی پلاٹ پر میری مرحومہ بیٹی کے لیے گھر تعمیر کروانا شروع کر دیا۔واضح رہے کہ میرے چچا اس پلاٹ پر کسی قسم کی کوئی ملکیت نہیں رکھتے تھے البتہ میں نے بھی اس پر اعتراض نہ کیا یہ سوچ کر کہ میرا مال آخر میرے بچوں ہی کا ہے اگر میری بیٹی اس زمین پر رہائش پذیر ہوگی تو اپنی ہی جگہ پر رہے گی ،لیکن میں نے نہ زبان سے نہ تحریر میں کبھی ہبہ کے الفاظ نہیں بولے بلکہ شعوری طور پر یہ فیصلہ کہ یہ فاطمہ کی ملکیت ہے یہ بھی ذہن میں نہیں آیا۔

گھر کی تعمیر شروع تو ہوئی لیکن ایک ہال  ،دو کمروں  ،ایک باورچی خانہ اور ایک بیت الخلا کی  تعمیر کے بعد  رضوان  وغیرہ نے مزید تعمیر سے انکار کر دیا کہ ہمارے پاس خرچ نہیں ہے ۔اس تعمیر کے دوران بھی  رضوان نے ایک بار تو مجھے یہ کہا کہ کام رک جائے گا میرے پاس پیسے نہیں ہیں تم مجھے کچھ ادھار دو ۔میں نے ان کو تقریبا چار لاکھ روپے ان کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر وادیے جو ابھی تک واپس نہیں ہوئے ۔اور ایک بار  قریب میں میری ایک اور تعمیر جاری تھی وہاں سے سیمنٹ وغیرہ تعمیراتی سامان وضوان نے اٹھا لیا کہ بعد میں واپس کر دوں گا یہ بھی واپس نہیں ہوا ۔گھر کی تعمیر بھی مکمل نہیں ہوئی صرف گرے سٹرکچر کھڑا کیا گیا تھا  ۔مکان ابھی نامکمل تھا میری بیٹی نے جب مکان کا نقشہ دیکھا تو اسے ناپسند ہوا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ آپ  میری پسند اور مرضی کے مطابق تعمیر کروا دیں جتنا خرچ آئے گا وہ مجھ پر قرض ہوگا اور میں آپ کو بعد میں ادا کر دوں گی۔ اس بات کو اس نے بہت سے لوگوں کے سامنے دہرایا اور اس کے بہت سے گواہ موجود ہیں۔ میں نے ایک برآمدہ اور باہر کا ایک کمرہ تعمیر کروا دیا اس کے بعد مین گیٹ  ،پلستر ،ماربل ٹائلیں ، پلاسٹر آف پیرس کی چھتیں ، کچن کا سارا سامان ، چھت کا سارا کام ، اور  بجلی کا آدھا کام میں نے کروا دیا۔ میں نے جب اس گھر کو تعمیر کروا دیا تو میرا لگ بھگ 40 لاکھ روپے خرچ ہوا جس کی مکمل تفصیل اور سب بل رسیدیں وغیرہ میرے پاس موجود ہیں ، جس میں سے بڑا حصہ میں نے لوگوں سے قرض لے کر لگایا اور وہ قرض میں ابھی تک بڑی مقدار میں واپس بھی نہیں کر سکا ہوں۔ میرے قرض خواہ حضرات موجود ہیں اور وہ گواہی دینے کے لیے دستیاب ہیں ۔یہ درست ہے کہ میرے دل میں یہی تھا کہ میری بیٹی سکھ سے آباد رہے تو میں اس سے مطالبہ نہیں کروں گا۔

گھر کی تعمیر کے بعد جب میری مرحوم بیٹی کی شادی ہوئی تو  رضوان وغیرہ نے اس مرحومہ کے حق مہر کے طور پر بیس ہزار روپے نقد ،باگڑ سرگانہ میں ایک گھر مع اس کا رقبہ اور ایک دکان مع اس کا رقبہ غیر معجل لکھ دیا۔ غیر معجل اس لیے کہ انہوں نے ابھی اپنی زمین کو بھائیوں میں تقسیم کرنا تھا ۔اب اس گھر کی نہ تو زمین ان کی ملکیت تھی اور نہ گرے سٹرکچر اور سینٹری کے کچھ سامان کے سوا تعمیر میں ان کا مال خرچ ہوا تھا۔ لیکن ہم نے رشتہ داری کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی سختی نہیں کی اور خیر کی امید پر شادی کر دی۔

شادی کے معاً بعد ہی سخت بدمزگی اور باہمی اختلاف شروع ہو گیا ۔شادی کے تقریبا تین ماہ بعد جب میری بیٹی کے تعلیمی سلسلے کی چھٹیاں ختم ہوئیں اور اس کا تعلیمی ادارہ اگست 2025 میں دوبارہ سے کھلا تو وہ اپنے خاوند ضیاء  کی اجازت سے اپنی تعلیمی ڈگری مکمل کرنے کے لیے ملتان واپس آئی۔ جب مرحومہ ملتان آئی تو وہ انتہائی آزردہ اور تکلیف کی حالت میں تھی۔ اس کے یہاں آنے کے بعد اپنے شوہر اور سسرال سے اس کا تعلق مزید تلخ ہوتا گیا ۔بار بار اس نے کئی لوگوں کے سامنے کہا کہ میں اس رشتے کو باقی نہیں رکھنا چاہتی ۔میں جب اس کو سمجھانے کے لیے بات کرتا اور طلاق کی قباحت بتاتا خاص طور پر اسے یہ کہتا کہ تمہارا خاوند بھی فارغ التحصیل مولوی ہے اور لوگ تمہارے باپ کو بھی عالم دین سمجھتے ہیں ،طلاق اللہ تعالی کو شدید ناپسند ہے تو وہ رونے لگ جاتی اور اس نے کئی بار خاندان کے کئی لوگوں کے سامنے کہا بابا مجھے علم ہے کہ آپ اس شادی پر میری وجہ سے شدید مقروض ہوئے ہیں یہ سارا قرض میرا ہے آپ مجھ سے ایک ایک پائی وصول کر لینا لیکن مجھے ان لوگوں سے نجات دلوا دیں مجھے دو سال کی مہلت دے دیں میں اپنے کاروبار کے ذریعے آپ کا سارا قرض اتار دوں گی۔ اس  نے اس بات کو خاندان کے کئی لوگوں کے سامنے بلکہ خاندان سے باہر کی اپنی ایک سہیلی کے سامنے بھی مجھ سے کہا بلکہ اس نے کئی بار یہ بھی کہا کہ میرے جہیز کا سامان جو ابھی تک غیر مستعمل رکھا ہوا ہے آپ نے وہ مجھے دیا تھا اسے واپس فروخت کر کے اپنا قرض اتارنا شروع کریں ۔

اگست 2025 سے فروری 2026 تک کا عرصہ میری بیٹی نے میرے گھر میں گزارا۔ اس عرصے میں اپنے خاوند اور سسرال سے اس کا تعلق بہتر نہیں ہو سکا بلکہ اس میں مزید شدت آتی گئی اس کے خاوند نے اس سارے عرصے میں نان و نفقہ کی مد میں اس کو کوئی خرچ نہیں دیا۔ میں اس کو سمجھانے اور اس فیصلے کے واپس لینے پر آمادہ کرتا رہا لیکن وہ بہت تکلیف میں تھی اس کے لیے اب واپسی قابل برداشت نہ تھی یہاں تک کہ ایک روز اس نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس کا وہ زیور جو میں نے اسے دیا تھا سنا رکو واپس کر دوں۔ اسے پتہ تھا کہ میں نے ابھی زیور کی قیمت بھی ادا نہیں کی تھی۔اس کی خواہش تھی کہ میرا یہ قرض تو ختم ہو۔ میں نے وہ زیور اس کے مجبور کرنے پر سنار کو واپس کر دیا ۔وہ سسرال واپس جانے کا ذکر سنتے ہی انتہائی پریشان ہو جاتی اس لیے ہم نے اسے سمجھانا یا مجبور کرنا چھوڑ دیا ۔

14 فروری کو اس کے شدید اضطراب اور تکلیف کو دیکھ کر میں اسے دماغی امراض کے ماہر معالج کے پاس لے کر گیا تو ڈاکٹر نے تشخیص میں لکھا کہ اس کو شدید ذہنی اذیت دی گئی ہے اور یہ انتہائی اضطراب کا شکار ہے۔ ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا اور معاملات اسی طرح بدمزگی کے ساتھ چل رہے تھے کہ اللہ کا حکم ہوا کہ میری بیٹی چھ روز ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد 20 فروری 2026 کو دوسرے روزے کی سحری سے پہلے انتقال کر گئی ۔ اللہ اس کی بال بال مغفرت فرمائے اور اس کے غمزدہ ماں باپ اور بہن بھائی کو صبر کی ہمت دے ۔

میرا سوال یہ ہے کہ

(1) اب اس مرحومہ کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی  ؟ مرحومہ کے ورثاء میں والدین ایک بھائی ایک بہن اور شوہر ہیں ۔

(2)اس کے کفن دفن کے خرچ اس کی وصیت اور روزوں کے فدیہ کا حساب کیسے ہوگا ؟

(3)نیز اس قرض کا مطالبہ  کس سے  ہوگا  ؟ (4)کیا مرحومہ کے ترکے میں یہ گھر شامل ہوگا  ؟اس گھر کی تعمیر اور زمین میں فرق کیا جائے گا  ؟ان کی مالیت کس طرح طے ہوگی ؟  (5)غیر معجل مہر بھی مرحومہ کا ترکہ بنے گا ؟(6) کیا اس مالیت میں سے اس قرض کو منہا کیا جائے گا جو اوپر مذکور ہوا؟

شوہر کا بیان :

السلام علیکم جی پلاٹ کا رقبہ میرے سسسر کا ہے اور اس گھر کی تعمیر میں ہمارا تقریبا 20 لاکھ لگا ہے۔ باقی سارا کام میرے سسر نے کروایا ہے۔ باقی میں متفق ہوں اس سے۔ شرعی راہنمائی  فرمائیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(2،1)مذکورہ صورت میں مرحومہ کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز و تکفین کا خرچہ لیا جائے گا بشرطیکہ جس نے وہ خرچہ کیا ہے اس نے لینے کی غرض سے یہ خرچہ کیا ہو۔ اس کے بعد مذکورہ مکان کی جو تعمیر   مرحومہ کے کہنے پر کی گئی تھی  اس  کا خرچ  مرحومہ کے ذمہ قرض ہونے کی وجہ سے ان کے ترکہ میں سے لیا جائے گا   ۔ اس کے بعد بقیہ ترکہ  کے ایک تہائی حصہ میں سے ان  کی وصیت کو پورا  کیا جائے گا   ۔اگر مرحومہ  کے روزے یا نمازیں رہ گئی ہوں اور انہوں نے وصیت کردی ہو کہ میری نمازوں اور روزوں کافدیہ ادا کیا جائے تو پھر ورثاء پر لازم ہے کہ ایک تہائی ترکے میں سے ان کا فدیہ ادا کریں ،لیکن اگر مرحومہ نے وصیت نہ کی ہو تو پھر ورثاء پر ان کی طرف سے فدیہ لازم نہیں ہے ،تاہم اگر کوئی وارث اپنی طرف سے یا تمام ورثاء باہمی رضامندی سے ان کے ترکہ سے ادا کردیں تو یہ میت پر احسان ہوگا ،نیز ایک روزے یا ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے ،یعنی آدھا صاع (پونے دو کلو )گندم یا اس کی قیمت ۔

اس کے بعد مرحومہ کے ورثاء میں  ترکہ کو درج ذیل طریقہ پر تقسیم کیا جائے گا  :

ترکہ کے کل 6 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 3 حصے  ( 50 فیصد )  شوہر کو ، 2 حصے ( 33.33  فیصد) والد  کو اور  1 حصہ (16.66فیصد ) والدہ کو دیا جائے گا  ۔

(3)  مکان کی جو تعمیر   مرحومہ کے کہنے پر کی گئی تھی  اس  کا خرچ  مرحومہ کے ذمہ قرض ہونے کی وجہ سے ان کے ترکہ میں سے لیا جائے گا   ۔

(4) یہ گھر مرحومہ کے ترکہ میں شمار ہوگا۔

توجیہ : مرحومہ کے والد کی طرف سے اگر چہ  مکان ہبہ کرنے کے  الفاظ زبانی یا تحریری طور پر نہیں کہے گئے لیکن قرائن سے معلوم  ہوتا ہے کہ  سائل نے مرحومہ کو اس گھر کا مالک بنادیا  تھا مثلاً مرحومہ کے نانا زید   کا یہ کہنا کہ یہ پلاٹ میں نے اپنی نواسی کو دے دیا ہے اس پر پلاٹ  کے مالک ( سائل  ) کا اعتراض نہ کرنا  پھر  رضوان  کا  مرحومہ کے والد (سائل)کی رضامندی سے اس پر تعمیر شروع  کروانا اور سائل کا اس تعمیر  میں ان کے ساتھ  تعاون کرنا   نیز   سائل کا  بیٹی  کی فرمائش کے مطابق  نئی  تعمیر کرنا اور بیٹی کا اس کو کئی مواقع پر  اپنے ذمہ قرض قرار دینا اور والد کا  اس پر اعتراض نہ کرنا   ، و نیز اس مکان کا مرحومہ  کے لیے تخلیہ کردینا   یہ تمام قرائن اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ  سائل یہ گھر اپنی مرحومہ بیٹی کو ہبہ کرچکا تھا  ۔

نوٹ : گھر کی زمین اور بعد میں نئے نقشہ کے مطابق کی گئی تعمیر مذکورہ بالا قرائن کی وجہ سے مرحومہ کی ملکیت تھی اور رضوان  کی طرف سے کی گئی تعمیر  مہر  میں لکھوانے کی وجہ سے  مرحومہ کی ملکیت ہوگئی تھی ۔

(5) مہر  غیر معجل بیوی کی موت سے لازم ہوگیا ۔ شوہر  کے ذمہ ورثاء  کو  اس کی ادائیگی لازم ہے البتہ چونکہ شوہر  خود بھی وارث ہے اس لیے اپنے شرعی  حصہ کے بقدر   مہر کی رقم میں سے رکھ کر باقی کی ادائیگی ورثاء کو کرے گا   ۔

(6) اس کا جواب نمبر 1 میں آگیا ۔

(1،2) فتاوی عالمگیری  (6/ 447) میں ہے :

 ‌التركة ‌تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف  …. ثم بالدين  …….ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث»

فتاوی شامی  (2/ 72) میں ہے :

(ولو مات وعليه صلوات فائتة وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة(وكذا حكم الوتر) والصوم، وإنما يعطي (من ثلث ماله) ….(قوله: يعطى) بالبناء للمجهول: أي يعطي عنه وليه: أي من له ولاية التصرف في ماله بوصاية أو وراثة فيلزمه ذلك من الثلث إن أوصى، وإلا فلا يلزم الولي ذلك لأنها عبادة فلا بد فيها من الاختيار، فإذا لم يوص فات الشرط فيسقط في حق أحكام الدنيا للتعذر، بخلاف حق العباد فإن الواجب فيه وصوله إلى مستحقه لا غير، ولهذا لو ظفر به الغريم يأخذه بلا قضاء ولا رضا، ويبرأ من عليه الحق بذلك

(4) شامی  (5/ 697) میں ہے:

«ولو دفع إلى ابنه مالا فتصرف فيه الابن يكون للابن إذا دلت ‌دلالة على التمليك اهـ»

شامی (5/ 688) میں ہے:

(قوله: هو الإيجاب) وفي خزانة الفتاوى: إذا ‌دفع ‌لابنه ‌مالا فتصرف فيه الابن يكون للأب إلا إذا دلت دلالة التمليك .

قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك كمن دفع لفقير شيئا وقبضه، ولم يتلفظ واحد منهما بشيء،»

امداد الفتاوی جدید(8/28) میں ہے:

سوال:   زید نے بلا تصریح واعلان شرع ودین کے کسی قدر روپیہ عمرو عم حقیقی اپنے کو دیا، کہ ایک نشستگاہ اندر زمین اپنی کے بنالو، عمرو نے اس روپے سے اپنی زمین مملوکہ میں اپنی خشت سے ایک مکان بنالیا۔ اب زید وارثان عمرو سے بعد وفاتِ عمرو طالب اس زر کا ہے جومزدوری مزدوران ومعماران میں صرف ہوا ہے پس عند اللہ وعند الرسول استرداد اس روپیہ کا زید کو وارثانِ عمرو سے آتا ہے یا نہیں؟

الجواب:صورت مسئولہ میں زید نے جو عمرو کو روپیہ دیا ہے عند الشرع ہبہ ہے، اگرچہ کوئی تصریح نہیں مگر ظاہراً قرینہ ہبہ پر دلالت کرتا ہے اور ہبہ میں قرینہ بھی تملیک کے لئے کافی ہے۔قلت: فقد أفاد أن التلفظ بالإیجاب والقبول لا یشترط، بل تکفی القرائن الدالة علی التملیک کمن دفع لفقیر شیئاً وقبضه، ولم یتلفظ واحد منهما بشيء اور جب ہبہ متحقق ہوگیا اور عمرو وفات پا چکا ہے اب زید کو وارثانِ عمرو سے کچھ دعویٰ نہیں پہنچتا، اور استرداد اس کا ہرگزجائز نہیں ، کیونکہ موت احد المتعاقدین مانع رجوع ہبہ ہے۔

(5) بنایہ شرح ہدایہ  (5/ 197) میں ہے :

«إنما يأخذ الورثة جميع المسمى من ميراث الزوج إذا ماتا معا، أو لم يعلم سبق أحدهما، أو علم أن الزوج مات أولا، لأن المسمى دين في الذمة وقد تقرر بالموت، وإن علم أن المرأة ماتت أولا يسقط من المهر قدر نصيب الزوج من التركة؛ لأنه ورث دينا على نفسه  ….

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved