• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی ، چار بیٹیوں ، دو بھائیوں اور پانچ بہنوں میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

میرے بہنوئی کا انتقال ہوا ہے، مرحوم کے ورثاء میں  ایک بیوہ  ،  چار بیٹیاں ، دو  بھائی  اور  پانچ بہنیں ہیں، بیٹا کوئی نہیں ہے  ۔ مرحوم کے والدین بھی پہلے ہی فوت ہو چکے ہیں۔ ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کے  کُل ترکہ کے  216 حصے کیے جائیں گے جن میں سے بیوہ کو 27 حصے   (12.5 فیصد) ہر ایک ہر بیٹی کو 36 حصے(666 .16  فیصد فی کس) ، ہر ایک بھائی کو 10 حصے (4.62 فیصد فی کس)  اور ہر ایک  بہن کو پانچ حصے(314 .2  فیصد فی کس) ملیں گے۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

24×9=216

بیوی 4بیٹیاں 2 بھائی 5بہنیں
ثمن ثلثان عصبہ
3 16 5
3×9 16×9 5×9
27 144 45
27 36+36+36+36 10+10 5+5+5+5+5

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved