• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بسنت منانا کیسا ہے ؟

استفتاء

1۔کیا بسنت منانا شرعا جائز ہے ؟جبکہ حکومت کی طرف سے بھرپور حفاظتی انتظامات کیے جارہے ہیں کہ کسی کا جانی نقصان نہ ہو ۔

2۔ اگر ناجائز   ہے تو کن خرابیوں کی وجہ سے ناجائز ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1،2۔ شریعت کے نزدیک صرف وہ کھیل جائز ہیں  جن کے دینی یا دنیاوی فائدے کا شریعت نے اعتبار کیا ہے جبکہ پتنگ بازی کا نہ دینی فائدہ ہے اور نہ کوئی دنیاوی فائدہ ہے لہذا پتنگ بازی اسراف اور فضول خرچی میں شامل ہے جو کہ قرآن کی رو سے منع ہے۔

نیز مروجہ بسنت میں پتنگ بازی کے علاوہ بھی متعدد شرعی خرابیاں  ہیں مثلا میوزک،  آس پاس والوں کی بے پردگی،  مردوں عورتوں کا اختلاط، دوسروں  کے نقصان  پہنچنے کا سبب بننا وغیرہ۔ اس لیے مروجہ بسنت منانا جائز نہیں ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

ولا تبذر تبذيرا ‌إن ‌المبذرين كانوا إخوان الشياطين وكان الشيطان لربه كفورا  (سورة الاسراء، آيت: 27)

ترجمہ: اور اپنے مال کو بےہودہ کاموں میں نہ اڑاؤ ، یقین جانو کہ جو لوگ بےہودہ کاموں میں مال اڑاتے ہیں وہ شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

كلوا ‌واشربوا ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين   (سورة الاعراف، آيت:31)

ترجمہ:  کھاؤ اور پیو اور فضول خرچی مت کرو ، یاد رکھو کہ اللہ فضول خرچ لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔

جواہر الفقہ( 4/573) میں ہے:

ایسے کھیل تماشے جن کے تحت  کوئی معتد بہ ٖ فائدہ دین دنیا کا نہیں ہے وہ سب ممنوع اور ناجائز ہیں  ان پر بازی لگائی جائے یا انفرادی طور پر کھیلا جائے پھر بازی پر کوئی رقم لگائی جائے یا نہیں اور رقم بھی دو طرفہ ہو یا یکطرفہ بہرحال ایسے لغو  کھیل شرعا مطلقاً ناجائز ہیں۔ کبوتر بازی، پتنگ بازی،  بٹیر بازی، مرغ بازی، چوسر، شطرنج ،تاش، کتوں کی ریس وغیرہ اسی ناجائز صورت کے افراد ہیں۔

اصلاح الرسوم(ص:21)  میں ہے:

  کنکوا(پتنگ ازناقل )اڑانا

 جس قدر خرابیاں کبوتر بازی میں ہیں قریب قریب اس  میں بھی موجود ہیں۔

1۔کنکوے  کے پیچھے دوڑنا جس میں پیغمبر نے دوڑنے والے کو شیطان فرمایا ہے۔

2۔دوسرے کے کنکوے کو لوٹ لینا جس کی ممانعت حدیث شریف میں صراحتاً  وارد ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں لوٹتا کوئی شخص ایسا لوٹنا جس کی طرف لوگ نگاہ اٹھا کر دیکھتے ہوں اور پھر بھی وہ مومن رہے روایت کیا اس کو بخاری اور مسلم نے یعنی یہ خصلت ایمان کے خلاف ہے اس حدیث کے خواہ کچھ ہی معنی ہوں مگر ظاہرا تو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو خارج ازایمان فرما دیا۔

 اگر کوئی شخص کہے کہ اس لوٹنے میں مالک کی اجازت ہوتی ہے تو اس کے ساتھ یہ وعید متعلق نہیں ہے۔

 جواب اس کا یہ ہے کہ یہ بالکل غلط ہے مالک کی ہرگز اجازت نہیں ہوتی چونکہ عام رواج اس کا ہو رہا ہے اس لیے خاموش ہو جاتا ہے دل سے ہرگز رضامند اور خوش نہیں اگر اس کا بس چلے تو خود دوڑے اور کنکوا ہرگز بھی دوسرے کو نہ لینے دے یہی وجہ ہے کہ جب کنکوا کٹ جاتا ہے تو وہ بڑی کوشش سے جلدی جلدی ڈور کھینچتا ہے کہ جو ہاتھ لگ جائے غنیمت ہے۔

3۔ ڈور کو لوٹ لینا بلکہ اس میں ایک اعتبار سے کنکوے کے لوٹنے سے بھی زیادہ قباحت ہے کیونکہ کنکوا تو ایک ہی کے ہاتھ آنا ہے سو ایک ہی آدمی گنہگار ہوتا ہے اور ڈور تو بیسیوں کے ہاتھ لگتی ہے بہت سے آدمی گناہ میں شریک ہوتے ہیں اور باعث ان تمام آدمیوں کے گنہگار ہونے کے وہی کنکوا اڑانے والے ہیں تو حسب وعدہ مذکورہ بالا ان سب کے برابر اس اکیلے اڑانے والے کو گناہ ہوتا ہے۔

4۔ ہر شخص کی نیت کہ دوسرے کے کنکوےکوکاٹ دوں اور اس کا نقصان کر دوں سو کسی مسلمان کو ضرر پہنچانا حرام ہے،اس حرام فعل کی نیت سے دونوں گنہگار ہوتے ہیں۔

5۔ نماز سے غافل ہو جانا جس کو اللہ تعالی نے شراب اور جوئے کے حرام ہونے کی علت فرمائی ہے جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہے۔

6۔ اکثر کوٹھوں پر کھڑے ہو کر کنکوا اڑانے سے آس پاس والوں کی بے پردگی ہونا۔

7۔  بعض اوقات کنکوا چڑھاتے چڑھاتے پیچھے کو ہٹتے جاتے ہیں اور کوٹھے سے نیچے آگرتے ہیں چنانچہ اخبارات میں اس قسم کے واقعات شائع ہوتے رہتے ہیں اس میں صریح اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ہے جو کہ آیت قرآنی سے حرام ہے اور حدیث میں ہے کہ “رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے جس پر آڑ نہ ہو” اس کی وجہ یہی احتمال ہے کہ شاید گر پڑے۔ سبحان اللہ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر کس قدر شفیق ہیں کہ ایسے ایسے احتمالات مضرت سے ہمیں روکیں اور ہم ان احکام کی ایسی بے قدری کریں افسوس صد افسوس ……………. الخ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved