• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عورتوں کے لیے سفید لباس پہننے کا کیا حکم ہے؟

استفتاء

عورتوں کے لیے سفید لباس پہننے کا کیا حکم ہے؟  بعض اہل علم سفید لباس کی ترغیب کو مردوں کے ساتھ جوڑتے ہیں جیسے کہ معارف الحدیث میں حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب ؒ نے لکھا ہے:” اور اس کا تعلق (سفید رنگ کا لباس از ناقل) صرف مردوں سے ہے عورتوں کے لیے رنگین لباس ہی زیادہ پسندیدہ فرمایا گیا ہے ازواج مطہرات کے طرز عمل سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے (معارف الحدیث،6/420) “

جبکہ ہمارے زمانے میں بعض دینی اداروں میں طالبات  کے لیے سادہ سفید لباس کی پابندی کروائی جاتی ہے اسی  طرح  ہسپتالوں میں خواتین بھی سادہ سفید لباس پہنتی ہیں تو  کیا ان اداروں کا طرز عمل غلط ہے ؟ اور ان صورتوں میں مردوں سے مشابہت  لازم آتی ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

عورتوں کے لیے سفید لباس کے بارے میں معارف الحدیث میں امہات المؤمنین کے جس طرز عمل کا ذکر کیا گیا ہے اس کی تفصیل وحوالہ ہمیں ابھی تک نہیں ملا۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ حدیث میں عورتوں کو مردوں سے مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے اور مشابہت کا دارومدار ہر علاقے کے عرف ورواج پر ہے۔

ہمارے علاقے میں سفید رنگ صرف  مردوں کے ساتھ مخصوص نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ مردانہ وضع قطع بھی ہو تو مردوں کے ساتھ خصوصیت پیدا ہوتی ہے جبکہ طالبات اور نرسوں کا یونیفارم سفید رنگ کا تو ہوتا ہے لیکن مردانہ وضع قطع کا نہیں ہوتا اس لیے ان کا طرز عمل غلط نہیں ہے۔

صحیح بخاری (رقم الحدیث:5885) میں ہے:

حدثنا ‌محمد بن بشار : حدثنا ‌غندر : حدثنا ‌شعبة، عن ‌قتادة، عن ‌عكرمة، عن ‌ابن عباس رضي الله عنهما قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ‌المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال»

شامی (6/358) میں ہے:

(وكره لبس المعصفر والمزعفر الأحمر والأصفر للرجال) مفاده أنه لا يكره للنساء (ولا بأس ‌بسائر ‌الألوان)

آپ کے مسائل اور ان کا حل (7/145) میں ہے:

 سوال : بعض لوگوں نے یہ مشہور کیا ہے کہ اگر عورت سفید کپڑے پر رنگین دھاگے سے کشیدہ کاری کرے تو عورت سفید کپڑے پہن سکتی ہے۔ سفید کپڑے پہننا جائز ہے  یا  نہیں ؟

جواب:  مردوں کی وضع قطع اور لباس بنانے والی عورتوں پر اور عورتوں کی وضع قطع اور لباس بنانے والے مردوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعی لعنت فرمائی ہے مگر سفید رنگ کا کپڑا مردوں کے ساتھ خاص نہیں ہے لہذا اگر مکمل سفید  کپڑا یا سفید کپڑے پر رنگین کشیدہ کاری والا کپڑا عورتیں پہن لیں  تو اس میں کوئی ممانعت نہیں بشرطیکہ  اس کپڑے کی تراش خراش مردوں کی طرح نہ ہو ،  الغرض عورتوں کو ایسا کپڑا پہننا چاہیے جس میں مردوں کے مشابہت قطعی طور پر نہ ہو۔

ملفوظات حکیم الامت (2/202)  میں ہے:

ایک سلسلہ گفتگو میں فرمایا کہ تشبہ کا مسئلہ نہایت نازک ہے لوگ اس کو ہلکا سمجھتے ہیں ایک صاحب نے عرض کیا کہ عورتیں خصوصاً  لڑکیاں آج کل سفید لباس پہننے لگی ہیں یہ مردوں سے تشبہ نہ ہو جائے گی فرمایا کہ وہاں کی رسم و رواج پر ہے دیکھ لیا جائے کہ عام دیکھنے والوں کو اس سے کھٹک تو نہیں۔

امداد الفتاویٰ (9/50) ميں ہے:

سوال:  پارچہ میں کس کس قسم کا رنگ ناجائز ہے؟

 جواب:  عورتوں کے لیے ہر قسم کا رنگ جائز ہے اور مردوں کے لیے کسم اور زعفران کا اتفاقا ممنوع ہے اور سرخ میں اختلاف ہے بعض کے نزدیک حرام بعض کے نزدیک مباح بعض کے نزدیک مستحب بعض کے نزدیک مکروہ تنزیہی اور قول اخیر مفتی بہ ہے اور باقی سب رنگ جائز  ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved