- فتوی نمبر: 35-211
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > اجارہ و کرایہ داری > الاجیر الخاص
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک کاروباری صورت اس طرح رائج ہے کہ ہوٹل کا تمام سرمایہ، سامان اور اخراجات ایک فریق کی طرف سے ہوتے ہیں، جبکہ دوسرا شخص بغیر کسی مالی شرکت کے ہوٹل کے انتظام و انصرام اور چلانے کی ذمہ داری سنبھالتا ہے، اور حاصل ہونے والے منافع میں دونوں فریق باہمی رضامندی سے شریک ہوتے ہیں۔دریافت طلب امور یہ ہیں:
1۔کیا اس نوعیت کی شرکت شرعاً جائز ہے؟
2۔منافع کی تقسیم کن شرائط کے ساتھ درست ہوگی؟
3۔نقصان کی صورت میں فریقین پر کس حد تک ذمہ داری عائد ہوگی؟
4۔اگر اس معاملہ میں کوئی شرعی قباحت ہو تو اس کی درست اور جائز صورت کیا ہوسکتی ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: دوسرے فریق نے پہلے سے بنے ہوئے ہوٹل کا نظم سنبھالنا ہوتا ہے یا ہوٹل بنانا بھی اس کی ذمہ داری ہوتی ہے؟
جواب وضاحت: چونکہ عامل (کام کرنے والا) ہوٹل کے کام میں مہارت رکھتا ہے، اس لیے وہ سب سے پہلے کسی پرانے اور قائم شدہ ہوٹل اسٹاپ کی تلاش کرتا ہے، اور اگر ایسا اسٹاپ مل جائے تو اس کی خریداری یا قیمت کی ادائیگی ربّ المال کے ذمہ ہوتی ہے۔اور اگر پرانا ہوٹل اسٹاپ دستیاب نہ ہو، تو وہ کسی مناسب خالی دکان کو تلاش کرتا ہے، جس کا کرایہ، سامان اور دیگر تمام اخراجات بھی ربّ المال ہی برداشت کرتا ہے، جبکہ دوسرے فریق (عامل) کی ذمہ داری صرف کام کو انجام دینا ہوتی ہے۔
البتہ ربّ المال یہ شرط بھی عائد کرتا ہے کہ کاؤنٹر پر گاہکوں سے رقم وصول کرنا اور اسے جمع کرنا اس کی اپنی یعنی رب المال کی ذمہ داری ہوگی۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ مذکورہ معاملہ کی گنجائش ہے ۔
2۔ نفع آپس میں باہمی رضامندی سے کسی بھی تناسب سے طے کیا جاسکتا ہے ۔
3۔ اگر کام کرنے والے کی کوتاہی سے نقصان ہو گا تو وہ ذمہ دار ہوگا ورنہ نقصان مالک کا شمار ہوگا۔
4۔ بہتر ہے کہ کام کرنے والے کی فکس اجرت طے کی جائے البتہ اوپر مذکورہ طریقے کے مطابق نفع میں سے فیصد کے طور پر بھی طے کرنے کی گنجائش ہے ۔
توجیہ: مذکورہ صورت اصلا مضاربت کی نہیں بنتی کیونکہ مضاربت کی اصل یہ ہے کہ ایک بندہ دوسرے کے سرمایہ حوالے کر دے اور آگے کاروبار دوسرا شخص کرے جبکہ مذکورہ صورت میں ایسا بھی نہیں ہوتا کہ کام کرنے والے حوالے سرمایہ کردیا جائے اور وہ کاروبار میں آزاد ہو بلکہ مناسب ہوٹل ملنے پر ہوٹل کی خریداری اور قیمت کی ادائیگی مالک کے ذمے ہے اور بعد میں گاہکوں سے پیسے وصول کرنا بھی مالک کی ذمہ داری ہوگی اس لیے مذکورہ صورت اجارہ کی بنتی ہے کہ کام مالک کا ہے اور دوسرا شخص اس کا اجیر ہے اور اجیر کی تنخواہ نفع میں سے فیصد کے طور پر طے کرنا اصلا تو حنفیہ کے نزدیک ناجائز بنتا ہے لیکن آجکل عام عرف ہونے کی بنا پر اس کی گنجائش ہے ۔
شرح المجلہ (4/295) میں ہے:
المضاربة نوع شركة على أن رأس المال من طرف والسعي والعمل من طرف آخر ويقال لصاحب رأس المال رب المال وللعامل مضارب.
المراد بالشركة الشركة في الربح لان المضارب لا شركة له في راس المال حتى لو شرطا فيها الربح لأحدهما لا تكون مضاربة بل بضاعة إن شرط جميعه لرب المال وقرضا ان شرط للمضارب
شامی (8/511) میں ہے:
(واشتراط عمل رب المال مع المضارب مفسد) للعقد؛ لأنه يمنع التخلية فيمنع الصحة
دررالحکام (1/710) میں ہے:
الأجير الخاص أمين. فلا يضمن المال الهالك بيده بغير صنعه وكذلك لا يضمن المال الهالك بعمله بلا تعد
فقہی مضامین (ص:388) میں ہے:
مسئلہ : دکان پر ملازم رکھا اور یہ طے ہوا کہ جو نفع ہوگا اس کا دس فیصد ملازم کو ملے گا تو یہ صحیح ہے اور اگر یوں طے پایا کہ کل آمدنی (income) کا مثلا دو فیصد ملازم کو ملے گا تو یہ بھی جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
