- فتوی نمبر: 35-213
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > عدت کا بیان
استفتاء
فقہ اسلامی (ص131) اور مسائل بہشتی زیور (جلد2، ص112) مصنفہ ڈاکٹرمفتی عبد الواحد صاحب رحمہ اللہ میں’’رخصتی سے قبل طلاق‘‘ کے بیان میں لکھا ہے کہ:
’’مسئلہ: ابھی رخصتی نہ ہونے پائی تھی کہ شوہر نے طلاق دے دی یا رخصتی تو ہوگئی لیکن خلوت صحیحہ سے پہلے ہی شوہر نے طلاق دیدی تو طلاق بائن پڑی چاہے صریح لفظوں میں طلاق دی ہو یا کنایہ لفظوں میں۔ اور ایسی عورت کے لئے طلاق کی عدت بھی کچھ نہیں ہے۔ طلاق ملنے کے فورا بعد دوسرے مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔‘‘
جبکہ دوسری جانب فقہ اسلامی (’’عدت کے بیان‘‘ ص177) اور مسائل بہشتی زیور (جلد2، ص147) میں ہے کہ:
’’جس عورت کی رخصتی ہوچکی ہو اور وہ شوہر کے ساتھ تنہائی میں رہ چکی ہو خواہ صحبت ہوئی ہو یا نہیں اور وہ خلوت و تنہائی صحیح ہو یا نہیں اگر اس کے شوہر نے اس کو طلاق دیدی خواہ ایک یا دو یا تین اور خواہ رجعی ہو یا بائن ہو اس کی عدت پورے تین حیض ہیں‘‘
وجہ اشکال یہ ہے کہ پہلے مسئلے میں خلوت کے ساتھ “صحیحہ ” کی قید سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر خلوت فاسدہ ہو تو عدت واجب نہیں ہے جبکہ دوسرے مسئلے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلوت فاسدہ کی صورت میں بھی عدت واجب ہے۔ کیا یہ تعارض ہے یا دونوں کا محمل جدا جدا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
بظاہر پہلا مسئلہ ایک تاویل کیساتھ مرجوح قول پر مبنی ہے جس کے قائل امام قدوریؒ ہیں اور جسے علامہ تمرتاشیؒ، قاضیخانؒ، صاحب بدائع وغیرہ حضرات نےاختیار کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر کوئی شرعی یا طبعی امر ہمبستری سے مانع ہو تو عدت واجب ہوگی اور حسی امر مانع ہو تو عدت واجب نہ ہوگی اور اس قول میں تاویل یہ ہے کہ شرعی یا طبعی مانع کو کالعدم سمجھ کر اسے خلوت کے لیے مفسد قرار نہ دیا جائے اور یوں کہہ دیا جائے کہ ” اگر خلوت صحیحہ ہوگی تو عدت واجب ہوگی ورنہ واجب نہ ہوگی”
چنانچہ صاحب درمختار نے وجوب عدت کے لیے خلوت کے ساتھ “صحیحہ ” کی قید لگائی ہے اور علامہ شامیؒ نے اس کی یہی تاویل ذکر کی ہے۔
شامی (5/183) ، مکتبہ رشیدیہ،کوئٹہ میں ہے:
(وسبب وجوبها) عقد (النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه) من موت، أو خلوة أي صحيحة، فلا عدة بخلوة الرتقاء
(قوله: أي صحيحة) فيه نظر، فإن الذي تقدم في باب المهر أن المذهب وجوب العدة للخلوة صحيحة أو فاسدة.
وقال القدوري: إن كان الفساد لمانع شرعي كالصوم وجبت، وإن كان لمانع حسي كالرتق لا تجب؛ فكلام الشارح لم يوافق واحدا من القولين اهـ ح.
قلت: يمكن حمله على الثاني بجعل المانع الشرعي كالعدم غير مفسد لها فهي صحيحة معه، وإنما المفسد المانع الحسي، ويدل عليه قوله: فلا عدة بخلوة الرتقاء
شامی (4/253) ، مکتبہ رشیدیہ،کوئٹہ میں ہے:
(وتجب العدة في الكل) أي كل أنواع الخلوة ولو فاسدا (احتياطا) أي استحسانا لتوهم الشغل (وقيل) قائله القدوري واختاره التمرتاشي وقاضي خان (إن كان المانع شرعيا) كصوم (وتجب) العدة (وإن) كان (حسيا) كصغر ومرض مدنف (لا) تجب والمذهب الأول لأنه نص محمد قاله المصنف
(قوله واختاره التمرتاشي إلخ) وجزم به في البدائع. قال في الفتح: ويؤيده ما ذكره العتابي………. (قوله لأنه نص محمد) أي في كتابه الجامع الصغير الذي روى مسائله عن أبي يوسف عن الإمام صاحب المذهب
تاہم مذکورہ قول مرجوح بھی ہے اور اس مرجوح قول پر محمول کرنے میں بھی ایسی تاویل کی ضرورت ہے جو تکلف سے خالی نہیں، نیز خود فقہ اسلامی اور مسائل بہشتی زیور کی دوسری عبارات میں جو سوال میں مذکور ہیں خلوت کو عام رکھا گیا ہے خواہ وہ صحیح ہو یا نہ ہو لہٰذا مذکورہ مسئلہ میں خلوت کیساتھ “صحیحہ” کی قید نہیں ہونی چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
