• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر نے وفات سے پہلے بیوی سے کہا “میں نے مکان تمہارے نام کردیا ہے ” تو مکان ہبہ ہوا یا وراثت بنے گا ؟

استفتاء

گزارش ہے کہ میرے شوہر کا 15 رمضان المبارک کو  اچانک انتقال ہوا ہے۔ میری کوئی اولاد نہیں ہے ۔میرے خاوند کےاپنی  ذاتی کمائی سے تین مکان ہیں۔ جن میں ایک مکان دو مرلے کا ہے جس میں میں خود رہائش پذیر ہوں ۔اور ایک مکان ڈیڑھ مرلے کا ہے جو کہ خالی پڑا ہے اور ایک مکان تین مرلے کا ہے جو کہ زیر تعمیر ہے۔

(1)اس مکان کی تعمیر کے لیے میرے خاوند مرحوم نے 2 لاکھ  روپےاپنے بڑے بھائی مسمی  زید   کو دیے تھے جو اس بات کا اقرار بھی کرتا ہے کہ میرے چھوٹے بھائی خالد  نے مکان کی تعمیر کے لیے مجھے پیسے دیے تھے ۔اس معاملے میں اس بھائی  کا موقف یہ ہے کہ میں دو لاکھ اپنے چھوٹے بھائی کی بیوہ کو دینے کا مجاز نہیں ہوں  ۔ مجھے کسی جامعہ سے فتوی لے کر دیں۔

(2) دوسرا فتوی یہ لے کر دیں کہ جو دو مرلہ مکان میرے خاوند نے وصیت میں لکھا ہے کہ  “یہ مکان  میں  بیوی کے نام کروا رہا ہوں ” جس کے لیے کے لیے بڑے بھائی زید کو رجسٹری کا خرچہ اور  میرا  اصل شناختی کارڈ  بھی دیا تھا  کیا اس مکان میں خاوند کے بہن بھائی بھی شریک ہیں یا وہ میرا ہے ؟

تنقیح : (1)شوہر نے بیوی کو زبانی کہا تھا کہ  “یہ  مکان( جس میں دونوں کی رہائش تھی) میں نے تمہارے نام کردیا ہے اور رجسٹری بھی بنوادی ہے ” اگرچہ رجسٹری ابھی بنی نہیں تھی    بلکہ اپنے بھائی کے ذمہ لگایا تھا  جس پر بھائی نے کہا بھی تھا کہ بھابھی کے نام کیوں کروارہے ہو  یہ کہاں کچہری کے چکر لگائیں گی !        ( کیونکہ وہ بیمار تھی )لیکن شوہر  کا یہی اصرار تھا کہ اس کے نام ہی کرواؤ۔

(2)  شوہر کے ورثاء میں  والدہ ، بیوہ،  پانچ بھائی اور پانچ بہنیں حیات ہیں ۔

شوہر کے بھائی کا بیان :

مجھے بھائی نے اپنی بیوی کا شناختی کارڈ  دیا تھا کہ یہ گھر اس کے نام کروادو ۔ کسی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی۔ رجسٹری بن نہ سکی تھی کہ بھائی کا انتقال ہوگیا ۔دوسرا یہ کہ میرے پاس وہ اپنے پیسے اور کاغذات وغیرہ  بطور امانت   رکھوایا کرتا تھا ۔ سات لاکھ  روپے رکھوائے تھے جن میں سے پانچ لاکھ مجھ سے لے کر گھر کی تعمیر پر لگا دیے تھے۔دو  لاکھ ابھی میرے پاس ہی ہیں ۔

وضاحت مطلوب ہے: 1۔وصیت کی تحریر  ارسال کریں۔2۔ شوہر نے  اصل جملہ کیا  بولا تھا ” میں نے تمہارے نام کردیا  ہے” یا “میری بیوی کے نام کروادو” 3۔ کیا دیگر ورثاء بیوی کے مؤقف سے متفق ہیں؟

جواب وضاحت:1۔ وصیت کی کوئی تحریر نہیں ہے۔میاں بیوی دونوں غیر تعلیم یافتہ ہیں جس سے سوال لکھوایا ہے بظاہر اس سے غلطی ہوئی ہے۔2۔ شوہر نے کہا تھا” رضیہ میں نے یہ گھر تیرے نا م کردیا ہے” 3۔شوہر کے  بڑے بھائی سے بات ہوئی ہے وہ گھر کا سربراہ ہے اس نے بتایا ہے کہ بھابھی کی بات پر کسی کواعتراض نہیں ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1)ان دو لاکھ روپوں میں بیوی سمیت تمام ورثاء کا حق ہے لہٰذا ان میں جتنا حق بیوہ کا ہے اتنا بیوہ  کو دینے کے پابند ہیں۔

(2) مذکورہ مکان صرف بیوہ کا ہے اس میں دیگر ورثاء کا حق نہیں۔ لہٰذا اس مکان کے علاوہ باقی جائیداد اور دو لاکھ روپوں کے  180 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 30 حصے (16.668 فیصد) والدہ کو ، 45 حصے (25 فیصد ) بیوہ  کو ، 14 حصے  فی کس (7.77فیصد )  5 بھائیوں میں سے ہر ایک  کو اور 7 حصے  فی کس ( 3.889 فیصد)  5 بہنوں میں سے ہر ایک کو دیے جائیں گے ۔

دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام (2/310)  میں ہے:

المادة 802: تعطی الودیعة عند وفاة المودع لوارثه او لوصيه و للوارث ان یطلب الودیعة من المستودع وان یدعی بها لان الوارث قائم مقام المورث۔۔لا یجوز اعطاؤها لمن لم یکن وارثا

فتاوی شامی (8/570)میں ہے:

قال في الخلاصة: لو غرس لابنه كرما إن قال: جعلته لابني، يكون هبة، وإن قال: باسم ابني، لا يكون هبة، ولو قال: أغرس باسم ابني، فالأمر متردد، وهو إلى الصحة أقرب .

وفي المنح عن الخانية بعد هذا قال: جعلته لابني فلان، يكون هبة؛ لأن الجعل عبارة عن التمليك، وإن قال: أغرس باسم ابني، لا يكون هبة، وإن قال: ‌جعلته ‌باسم ‌ابني، يكون هبة؛ لأن الناس يريدون به التمليك والهبة اهـ.وفيه مخالفة لما في الخلاصة كما لا يخفى .قال الرملي: أقول: ما في الخانية أقرب لعرف الناس تأمل اهـ.

المحیط البرہانی(9/335) میں ہے:

لا يجوز للرجل أن يهب لامرأته ولا أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارا وهما ‌فيها ‌ساكنان، وكذلك للولد الكبير، كذا في الذخيرة.

وهب لرجل داراً ‌فيها ‌متاع ‌الواهب ودفعها إلى الموهوب له فالهبة باطلة، هكذا ذكر في «الزيادات» ومعناه إنه غير تامة وفي «البقالي» يقول: في الدار متاع الواهب أو إنسان من أهله، الأصل في جنس هذه المسائل أن اشتغال الموهوب بملك الواهب يمنع تمام الهبة، لما ذكرنا: أن القبض شرط تمام الهبة، واشتغال الموهوب بملك الواهب يمنع تمام القبض من الموهوب له، وهذا لأن الموهوب ما دام يملك الواهب كان يد الواهب قائمة على الموهوب لقيامها على ما هو شاغل للموهوب، وقيام يد الواهب على الموهوب  يمنع تمام يد الموهوب له

مغنی(5/387)میں ہے:

وقال مالك، وأبو ثور: يلزم ذلك(اله‍بة) بمجرد العقد لعموم قوله عليه السلام: العائد في هبته كالعائد في قيئه. ولأنه إزالة ملك بغيرعوض فلزم بمجرد العقد كالوقف والعتق.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved