- فتوی نمبر: 35-228
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
ہمارا باغ کے پھلوں کا کاروبار ہے جس میں پھلوں کی بیع سے متعلق مختلف صورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ سیب کلو کے اعتبار سے فروخت کئے جاتے ہیں،مثلا ایک کریٹ میں پندرہ کلو سیب آتے ہیں،پھر مالی جتنے کریٹ اتارے، اسی اعتبار سے حساب لگا کر قیمت وصول کرتا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ معاملہ جائز ہے۔
توجیہ :ہمارے عرف میں عام طور پر اس طرح کے معاملات میں وزن کو صرف قیمت کا اندازہ کرنے کے لیے ذکر کیا جاتا ہے وزن کے حساب سے سودا کرنا مقصود نہیں ہوتا یعنی مذکورہ صورت میں اصل یہی سمجھا جائے گا کہ فی کریٹ کے حساب سے عقد ہوا ہے اور فی کلو کی قیمت کا ذکر اور کریٹ کو 15 کلو کا شمار کرنا یہ صرف قیمت کا ایک اندازہ لگانے کے لیے ہے ۔
فقہ البیوع (1/409) میں ہے:
ثم قد شاع في عصرنا أن الموزونات تباع في علب مُعبأة مكتوب عليها وزنها. ومعنى ذلك أن البائع عبأها بعد وزنها، وكتب الوزن على العُلب. وكذلك المكيلات مثل الحليب، والأدهان، والبنزين، تباع معبأة في علب مكتوب عليها كيلها باللترات. وقد سبق جواز بيعها في بيان البيع على البرنامج، ولكن الناس يشترون هذه العلب دون أن يزنوا أو يكيلوا ما فيها، ولا يمكنهم الوزن أو الكيل، لأن ذلك يحتاج إلى فك التعبئة، وفيه حرج شديد للبائع والمشترى كليهما. فهل يجوز مثل هذا البيع ؟
…….وأما على قول جمهور الفقهاء الذين أخذوا بظاهر الحديث، وأوجبوا أن يتزن المشترى لنفسه أو يزنه البائع بحضرته، فيمكن أن يُقال في بيع هذه العلب: إنها بعد تعبئتها صارت عددية، تباع على الصفة عدداً. وأما الوزن المكتوب عليها، فليس لكونها تباع وزناً، وإنما لتمييز صغيرها من كبيرها. وهذا كما أن الحيوانات، مثل الدجاج والشاة، عددية بلا خلاف، ومع ذلك قد تباع بعد الوزن، لا لأنها وزنية، بل لمعرفة هزيلها من سمينها. فيمكن تخريج بيعها على أنها بيعت على الصفة مجازفة. وعلى هذا، فقبضها يتحقق بما يتحقق به قبض العدديات المنقولة. والله سبحانه وتعالى أعلم.
احسن الفتاویٰ(6/498) میں ہے:
سوال: بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ کسی نے کچھ اناج گھی تیل وغیرہ کچھ نرخ طے کر کے خریدا تو اس کی تین صورتیں ہیں:
1۔ دکاندار نے خریدار یا اس کے بھیجے ہوئے ادمی کے سامنے تول کر دیا ہے۔
2۔ خریدار یا اس کے بھیجے ہوئے ادمی کے سامنے نہیں تولا بلکہ خریدار یا اس کے ادمی سے یہ کہہ دیا کہ تم جاؤ ہم تول کر گھر بھیج دیتے ہیں۔
3۔ اس سے پہلے الگ تولا ہوا رکھا تھا دکاندار نے اسی طرح اٹھا کر دے دیا پھر نہیں تولا ۔
پہلی صورت میں گھر لا کر دوبارہ تولنا ضروری نہیں بغیر تولے اس کا کھانا پینا بیچنا سب صحیح ہے دوسری تیسری صورت میں جب تک خریدار خود نہ تول لے اس کا کھانا پینا بیچنا وغیرہ کچھ درست نہیں اگر بےتولے بیچ دیا تو یہ بیع فاسد ہو گئی پھر اگر تول بھی لے تب بھی یہ بیع درست نہیں ہوئی ۔
آج کل متعدد چیزیں مختلف اوزان کے ڈبوں اور سیے ہوئے پیکٹوں میں بند رکھی ہوتی ہیں گاہک دکاندار سے کہتا ہے کہ فلاں چیز ایک سیر دے دو وہ ایک سیر کا ڈبہ یا پیکٹ اٹھا کر دے دیتا ہے نہ تو دکاندار خود تول کر دیتا ہے اور نہ وہ گاہک کو اس طرح ڈبوں اور پیکٹوں میں مال خریدنا اور بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب: بائع اور مشتری دونوں کا مقصد وہ خاص ڈبہ اور لفافہ ہوتا ہے اس پر لکھا ہوا وزن بیع میں مشروط نہیں ہوتا اس لیے بدون وزن کیے اس میں تصرف جائز ہے۔
البحر الرائق (5/212) میں ہے:
ومن باع صبرة طعام كل قفيز بدرهم جاز البيع في قفيز واحد عند أبي حنيفة إلا أن يسمي جميع قفزانها، وقالا يجوز في الوجهين اهـ.لهما أن الجهالة بيدهما إزالتها ومثلها غير مانع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
