- فتوی نمبر: 35-230
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ہم ایک بہن اور تین بھائی ہیں جبکہ والد محترم 2018 میں دنیا سے رحلت فرما گئے تھے اور والدہ محترمہ حیات ہیں۔جہاں ہم تینوں بھائی رہائش پزیر ہیں اُس میں سے ہر بھائی کو 7.5 مرلے جگہ حصہ میں آئی ہے ۔اور یہ بھی یاد رہے کہ تقسیم کے وقت بہن اور والدہ کو شامل نہیں کیا گیا۔
والد محترم زرعی مشینری وغیرہ چھوڑ کر گئے ہیں اُس میں سے بڑے بھائیوں نے مجھے 8 لاکھ رقم دینے کا وعدہ کیا ہے اور جو میرے حصے میں 7.5 مرلے جگہ آئی ہے وہ بڑا بھائی 19 لاکھ میں خریدنا چاہتا ہے۔ اسکے علاوہ میرے حصے میں ایک بھینس بھی آئی تھی جس کی رقم 2 لاکھ 60 ہزار مجھے دے دی گئی ہے۔ اب میں اپنے حصے (29 لاکھ 60ہزار ) میں سے اپنی بہن اور والدہ کو حصہ دینا چاہتا ہوں ۔سوال یہ ہے کہ اب میں نے کتنی کتنی رقم اپنی بہن اور والدہ کو دینی ہے؟جبکہ زراعت (کھیت وغیرہ ) والی زمین ابھی تقسیم نہیں ہوئی۔براہ مہربانی مہر والا فتویٰ عنایت فرمائیں تاکہ میں اپنی بہن کو دکھا سکوں وہ مجھ سے حصہ کا مطالبہ کرتی رہتی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں کل ترکے کے 8 حصے کیے جائیں گے جن میں سے ایک حصہ( 12.5 فیصد )مرحوم کی بیوی کو، ایک حصہ( 12.5 فیصد ) مرحوم کی بیٹی کو اور دو حصے ( 25 فیصد فی کس) ہر ایک بیٹے کو ملیں گے ۔
مذکورہ صورت میں چونکہ ایک بھائی کو 29 لاکھ 60 ہزار کی رقم ملی ہےلہٰذا یہ بھائی اگر اپنی والدہ یعنی مرحوم کی بیوی کو اور اپنی بہن یعنی مرحوم کی بیٹی کو حصہ دینا چاہتا ہے تو اس رقم یعنی 29 لاکھ ساٹھ ہزار میں سے مرحوم کی بیوی کو اس رقم کا آٹھواں حصہ (12.5 فیصد ) یعنی 3 لاکھ 70 ہزار روپے دے گا اور مرحوم کی بیٹی کو بھی آٹھواں حصہ (12.5 فیصد ) یعنی 3 لاکھ 70 ہزار روپے دے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
