- فتوی نمبر: 35-238
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > بیوی کا مجامعت میں حق
استفتاء
میری بہن کی عمر تقریباً 63 سال ہے اور ان کے شوہر ان سے 11،10 سال چھوٹے ہیں۔ باجی پانچ وقت کی نمازی ہیں اور ہر وقت وضو میں ہوتی ہیں، باجی کو کرونا بھی ہوچکا ہے، شوگر، ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ بھی ہیں اور بہت کمزور ہوچکی ہیں۔ میرے بہنوئی ان سے شرعی حق لینے کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں جو کہ پورا کرنے کی باجی میں اب ہمت نہیں ہے۔ سردیوں میں تو بہت ہی کم ایسا ہوپاتا ہے۔ پوچھنا یہ تھا کہ اسلام میں میری بہن کے لیے کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر آپ کی بہن میں شوہر کا شرعی حق (حق زوجیت) ادا کرنے کی واقعتاً ہمت نہیں ہے تو وہ انکار کرسکتی ہے۔
الدر المختار (3/203) میں ہے:
ولو تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها
في الشامية: وقدمنا عن التتارخانية أن البالغة إذا كانت لا تحتمل لا يؤمر بدفعها إلى الزوج أيضا، فقوله لا تحتمل يشمل ما لو كان لضعفها أو هزالها …………. فعلم من هذا كله أنه لا يحل له وطؤها بما يؤدي إلى إضرارها فيقتصر على ما تطيق منه عددا بنظر القاضي أو إخبار النساء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
