• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مجبوری کی حالت میں پاک قطر تکافل میں پیسے لگانا

استفتاء

میں ایک چھوٹے سے ادارے میں حفظ کلاس پڑھاتا ہوں۔ اس وقت میری عمر 46 سال ہے  مگر کمزور ہونے کی وجہ سے تقریباً 60 سال کا لگتا ہوں، عرصہ 21 سال سے ایک ہی ادارے میں پڑھا رہا ہوں،شروع میں  کسر نفسی کی وجہ سے کبھی ادارے والوں سے تنخواہ بڑھانے کا اصرار نہیں کیا  اُس وقت اخراجات بھی اتنے زیادہ نہیں تھے مگر جیسے کیسے بھی تھا  گھر میں گذارا کرتے تھے،میری 6 بیٹیاں ہی ہیں وہ بھی اب جوان ہوچکی ہیں  ایک مدرسہ میں ہی زیر تعلیم ہیں اخراجات بھی بڑھ چکے ہیں مگر اب کہیں اور جگہ پر جا کر پڑھانے کی ہمت بھی نہیں ہے اور ادارے والے بھی اب کچھ بوجھ محسوس کرتے ہوئے  نہ جواب دیتے ہیں اور نہ ہی تنخواہ  بڑھاتے ہیں، نہ میں چست چالاک ہوں کہ کوئی کاروبار کرسکوں۔ میری بیگم کو والد صاحب کی وراثت میں سے کچھ رقم ملی ہے اسکے بھائی اور بہنیں اس کو کہتی ہیں کہ مفتی تقی عثمانی صاحب کا فتویٰ موجود ہے کہ میزان بینک میں پیسے مضاربہ میں انویسٹمنٹ کرلیں۔ میرا ذاتی طور پر بینک میں پیسے رکھوا کر نفع وصول کرنے پر دل مطمئن نہیں ہوتا۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کچھ اجازت ہے کہ میرے جیسے قاری حضرات میزان بینک یا فیصل بینک میں پیسے رکھوا کر منافع وصول کریں۔ شفقت فرما کر جواب عنایت فرما دیں۔

الجواب:مذکورہ حالات میں آپ کے لیے بوجہ مجبوری اس بات کی گنجائش ہے کہ اس سہولت سے فائدہ اٹھا لیں۔

سوال بعد از جواب: کچھ عرصہ قبل میں نے مندرجہ بالا مسئلہ پوچھا تھا  جس کا جواب آپکی طرف سے میری توقع کے بر عکس اجازت والا آیا تھا جس کا سکرین شاٹ بھی میں نے آپکو بھیجا ہے اب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا  ایسی صورتحال میں  پاک قطر فیملی تکافل میں بھی پیسے لگائے جاسکتے ہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہماری  رائے میں اسلامی بینک اور تکافل دونوں میں شرعی خرابیاں ہیں لیکن تکافل اسلامی بینک کے مقابلے میں زیادہ خرابی پر مشتمل ہے اس لیے  میزان بینک میں انویسٹمنٹ کا موقع ہوتے ہوئے تکافل میں پیسے لگانا درست نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved