- فتوی نمبر: 35-248
- تاریخ: 30 مئی 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > مسافر کی نماز کا بیان
استفتاء
میرا سوال یہ ہے کہ میرا گھر بہاولپور کے ایک گاؤں میں ہے اور میں ملتان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر کام کرتا ہوں 120 کلومیٹر کا فاصلہ ہے ۔ میرے کام کرنے کی ترتیب کچھ اس طرح کی ہے کہ ہر ہفتہ کے دو دن کام پر جاتا ہو ں اور پھر اپنے گاؤں آ جاتا ہوں پھر اگلے ہفتہ دو دن کام پر جاتا ہوں۔اب سوال یہ ہے کہ:
1۔ میں نماز قصر ادا کروں گا یا پوری نماز؟2۔ اور سنتیں ادا کرنی ہیں یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے:1۔ کیا آپ نے ایک مرتبہ کام کی جگہ 15 دن گزارے ہیں یا نہیں؟ 2۔اسی طرح کام کرنے کی جگہ پر آپ کا الگ سے کمرہ یا الماری وغیرہ کچھ موجود ہے یا نہیں؟
جواب وضاحت: 1۔جی ملتان شہر میں پانچ ماہ گزارے ہیں لیکن پھر واپس اپنے آبائی علاقے آگیا اب یہاں اپنے گاؤں سے جاتا ہوں۔2۔ نہیں الگ سے کمرہ یا الماری نہیں ہے۔ آفس میں ہی رہتاہوں کام کر کے واپس آ جاتا ہوں۔
مزید وضاحت مطلوب ہے: جب پانچ ماہ گزارے تھے اس وقت رہائش کیسی تھی اس کی تفصیل؟ اور آفس میں کتنے بندوں کی رہائش ہے ،کمرے میں ہے، یا کوئی ہال ہے ؟اگر کمرہ ہے تو کمرے میں کتنے بندوں کی رہائش ہے؟
جواب وضاحت: یہاں ایئرپورٹ سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گھر کرائے پر لیا تھا فیملی بھی ساتھ میں تھی۔ آفس ایک چھوٹا سا روم ہے جہاں پر آفس کا کام بھی ہوتا ہے ،رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔صوفے پر رات کو سو جاتے ہیں ۔ دو بندوں کے سونے کی گنجائش ہے۔
مزید تنقیح: ہمارے پاس کوئی سامان نہیں ہے، صرف ایک چادر ہے جب ٹائم ملتا ہے تو اسی کو لے کر سو جاتے ہیں اس لیے کوئی تالا، چابی بھی اس آفس کی نہیں ہے، ہر وقت کھلا رہتا ہے، ہماری ڈیوٹی کبھی جلدی ختم ہوجاتی ہے اور کبھی رات گئے تک رہتی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں آپ ملتان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر مسافر شمار ہوں گے کیونکہ آپ اگرچہ ملتان شہر میں پانچ ماہ رہ چکے ہیں لیکن اب آپ کا قیام وہاں ایسی جگہ میں نہیں ہے جہاں آپ کو کمرہ ملا ہوا ہو اور جس کا تالا چابی آپ کے قبضہ و اختیار میں ہو۔
2۔مسافر اگر کسی جگہ ٹھہرا ہو توسنتیں پڑھنی چاہئیں اور اگر سفر کررہا ہو تو سنتیں چھوڑ سکتا ہے البتہ فجر کی سنتیں سفر کے دوران بھی پڑھنی چاہئیں۔
مجمع الانہر (1/239) میں ہے:
واختلفوا في ترک السنن فقیل هو الترک ترخصا وقیل الفعل تقرباوقیل الفعل نزولا والترک سیرا والمختار الفعل امنا والترک خوفا لانها شرعت لإكمال الفرض والمسافر محتاج الیه وتستثنی منه سنة الفجر عند البعض وقیل سنة المغرب
احسن الفتاویٰ (4/ 112) میں ہے:
بقاء وطن اقامت کا حکم اس صورت میں ہے جبکہ وہاں اہل و عیال چھوڑ کر گیا ہو، یا سامان اپنے مقبوض مکان میں رکھ کر گیا ہو، اور اگر سامان کسی کے پاس ودیعت رکھ کر گیا تو وطن اقامت باطل ہو جائے گا، اس لیے کہ اسے عرف میں سکونت نہیں کہا جاتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
