• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ملازمین کا افسران کو ملنے والا پٹرول استعمال کرنا

استفتاء

میں lwmcکمپنی (جوکہ ایک سرکاری ادارہ ہے)میں کام کرتا ہوں ۔اس کمپنی میں افسران کو پٹرول ملتا ہے ،چونکہ میری تنخواہ کم ہے اس لیے میں نے افسران سے درخواست کی کہ مجھے اپنے حصے کے پٹرول سے کچھ پٹرول دےدیا کریں ۔میرے لیے یہ پٹرول لینا جائز ہے یانہیں ؟

تنقیح :جن افسران کو پٹرول  کی سہولت دی جاتی ہے ان کو کسی بھی پٹرول کمپنی مثلاً Psoکا ایک کارڈ دیا جاتا ہے جس کے ذریعے  ایک مخصوص حد تک پٹرول ڈلوانے  کی اجازت ہوتی ہے  اور مہینے کے شروع میں ان کے کارڈ پر مخصوص مقدار تک پٹرول ڈلوانے کی سہولت آجاتی ہے۔اس سے زیادہ اخراجات کی صور ت میں کمپنی کی طرف سے ان کو اضافی خرچہ نہیں دیا جاتا  اور کم ہونے کی صورت میں آئندہ کے لیے ان کا الاؤنس کم نہیں کیاجاتا لیکن بالعموم ان کا خرچہ اس کے اندر ہی ہوتا ہے ۔افسران کو پٹرول خود استعمال کرنے کے لیے دیا جاتا ہے اور ان کو اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ کسی پمپ والے کو جاکر کارڈ دے دیں اور اس سے کہیں کہ اس کارڈ میں جتنی رقم کا پٹرول ہے  آپ اس کی اینٹری کرلیں اور مجھے اس کے بدلے میں اتنے ہی پٹرول کی قیمت ادا کردیں یعنی اس کو بیچنے کی اور کیش کروانے کی  اجازت نہیں ہوتی ۔جوافسران  مجھے پٹرول دیں گے اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ وہ اپنا کارڈ مجھے دے دیں گے اور میں اس کے ذریعے اپنی موٹرسائیکل میں پٹرول ڈلواؤں گا ۔

مزید وضاحت: مذکورہ بالا تفصیل کی  تصدیق کے لیے متعلقہ افسر سے رابطہ کیا گیا  تو انہوں نے   اس طریقہ کار کی تصدیق کی اور مزید یہ بتایا کہ   ہمارے دفتر میں اکثر لوگ پٹرول کیش کرواتے ہیں لیکن دفتر کی طرف سے ان پر کبھی اعتراض نہیں کیا گیا نیز یہ بھی بتایا کہ اگر کسی ماہ کوئی افسر اپنے کوٹے کا  مکمل پٹرول  استعمال نہ کرے تو اگلے ماہ ملنے والے پٹرول میں سابقہ ماہ کے پٹرول کو نہیں ڈالا جاتا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ کا افسران سے پٹرول لینا جائز نہیں ہے ۔

توجیہ:سوال میں مذکور تفصیل سے یہ معلوم ہوتاہے کہ کمپنی  کی طرف سے ملازم کے لیے پٹرول استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور کمپنی ملازمین کو اس کا مالک نہیں بناتی،اس کی ایک دلیل یہ ہے کہ اگر کسی ماہ ملازم  اپنے کوٹے کا مکمل پٹرول استعمال نہ کرے تو  بقیہ پٹرول اگلے ماہ کے کوٹے میں شامل نہیں ہوتا،جبکہ مالک بنانے کا تقاضا یہ ہےکہ بقیہ پٹرول کو آئندہ ماہ کے کوٹے میں شامل کیا جائے ۔لہذا جب ملازم خود مالک نہیں ہے  تو اس کے لیے دوسرےکو دینا بھی جائز  نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved