• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسائل بہشتی زیور میں ایک عبارت کا حوالہ

استفتاء

مسائل بہشتی زیور (1/232 ) میں  ہے:

“مسئلہ: سنت غیر مؤکدہ یا نفل نماز یا منت کی چار رکعت والی نماز میں دو رکعت پر بیٹھ کر التحیات کے ساتھ درود شریف بھی پڑھنا جائز ہے اس لیے کہ نفل میں درود شریف کے پڑھنے سے سہو کا سجدہ نہیں ہوتا البتہ اگر دو دفعہ التحیات پڑھ  جائے تو نفل میں بھی سجدہ سہو واجب ہے”

مذکورہ بالا عبارت کا حاصل یہ ہے کہ چار رکعت نفل کے قعدہ اولی میں تکرار تشہد سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔ اس کاصریح عربی حوالہ درکار ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ مسئلہ کا عربی کتب فقہ سے کوئی حوالہ نہیں ملا، یہ مسئلہ بہشتی زیور سے لیا گیا ہے چنانچہ بڑے بہشتی زیور  (ص: 143) میں ہے:

(مسئلہ ۱۴) نفل نماز (یا منت کی چار رکعت والی نماز) میں دو رکعت پر بیٹھ کرالتحیات کے ساتھ درود شریف بھی پڑھنا جائز ہے۔ اس لئے کہ نفل (اور منت کی نماز میں) درود شریف کے پڑھنے سےسجدہ سہو کا نہیں ہوتا البتہ اگر دو دفعہ التحیات پڑھ جاوے تو نفل ( اور منت کی نماز) میں بھی سجدہ سہو واجب ہے۔

لیکن مزید تحقیق کرنے سے معلوم ہوا کہ بہشتی زیور کے مذکورہ مسئلہ میں بھی غلطی  ہوئی ہے یعنی صحیح مسئلہ یہ ہے کہ “مذکورہ صورتوں میں تکرار ِ تشہد سے سجدہ سہو واجب نہ ہوگا”

مذکورہ مسئلہ کی پوری تفصیل امداد الاحکام کے مندرجہ ذیل  حوالہ میں ہے۔

امداد الاحکام (1/682) میں ہے:

سوال:  الامداد بابت ذی الحجہ ۴۳ھ کے صفحہ۴ میں بعنوان تصحیح مسئلہ حاشیہ پر یوں درج ہے ’’الامداد بابت ذیقعدہ صفحہ۱۸، س ۱۱ تا ۱۸ میں جو ایک سوال کے جواب میں لکھاہوا ہے کہ التحیات کے مکررپڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا، طحطاوی شرح مراقی الفلاح سے یہ جواب غلط ثابت ہواہے، اس جواب سے رجوع کرتا ہوں، صحیح جواب یہ ہے قعدہ اولیٰ میں التحیات مکررپڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہے، اور قعدہ اخیرہ میں التحیات مکررپڑھنے سے سجدہ سہو لازم نہیں، تمام ہوئی یہ عبارت ، بہشتی زیور جدید حصہ دوم صفحہ۵۴ میں آخری مسئلہ ہے،  نفل نماز میں دو رکعت نمازپڑھ کر التحیات کے ساتھ درود شریف بھی پڑھناجائز ہے، اس لیے کہ نفل ہے،   درود شریف کے پڑھنے سے سجدہ سہو نہیں ہوتا ،    البتہ اگر دو دفعہ التحیات پڑھ جائے تو نفل میں بھی سجدہ سہو واجب ہے، تمام ہوئی عبارت بہشتی زیور کی، وجہ تطبیق دونوں مسئلوں کی کس طرح ہے، وجہ اشتباہ یوں ہے کہ بہشتی زیور کی عبارت سے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دو رکعت کے بعد التحیات کو مکرر پڑھ جانے سے سجدہ سہو  لازم ہوتا ہے، اور نفل کی ہر دو رکعت کا قعدہ حکم میں مثل اخیری قعدہ کے ہے، اور الامداد کی عبارت سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ قعدہ اخیرہ میں التحیات مکررپڑھنے سے سجدہ سہولازم نہیں، حالانکہ تاخیرسلام سے بھی سہو کاسجدہ واجب ہے، اس لیے دونوں کی وجہ تحریر فرمائی جاوے، تاکہ مسئلہ خوب ذہن نشین ہوجاوئے۔

الجواب:  قعدہ اخیرہ میں تکرار تشہد سے سجدہ سہو واجب نہ ہونا، جیسا کہ حاشیہ الامداد میں طحطاوی سے لکھا ہے، عالمگیریہ اور منیہ میں بھی موجود ہے، بلکہ طحطاوی نے منیہ ہی سے نقل کیا ہے، باقی رہا یہ شبہ کہ تاخیر سلام سے سجدہ سہو واجب کیوں نہیں ہوا ا سکا جواب بھی طحطاوی سے معلوم ہوتاہے۔

 ونصه هكذا وان قرا ٔبعد التشهد فان کان فی الاول فعليه السهو لتاخیرالواجب وهو وصل القیام بالفراغ من التشهد وان کان فی الاخیرفلا سهو عليه لعدم ترک واجب لانه موسع له  فی الدعاء والثناء بعده فيه والقرأة تشتمل عليهما ولوقرأ التشهد مرتین فی القعدة الاخیرة أو تشهد قائماً أو راکعاً أو ساجداً لا سهو عليه [منية المصلی طحطاوی،ص:267]

اس سے معلوم ہوا کہ قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد قرات سے سجدہ سہوواجب نہ ہونے کی وجہ قرات کا ثناء ودعاپرمشتمل ہوناہے، اور تشہد،ثناء ودعا پرمشتمل ہے، اس لیے اس سے بھی سجدہ سہوواجب نہ ہوگا، چنانچہ منیہ کی عبارت مذکورہ  قرأ التشهد الخ کے تحت میں شارح منیہ کبیری میں لکھتے ہیں : وأما التشهد فلانه ثناء والقیام والرکوع والسجود محل الثناء پس تاخیر سلام موجب سہووہ ہے جوبغیر الدعاء والثناء ہو۔

سوال:  کے ایک جزو کاجواب توہوچکا،اب دوسرے جزو کاجواب معروض ہے، وہ یہ کہ بہشتی زیور میں جو نفل کے قعدہ اولیٰ میں تکرار تشہد سے وجوب سجدہ سہو لکھاہے، اس کوخاکسار نے بہت تلاش کیا، مطبوعہ جدید میں جو حوالہ لکھاگیا ہے اس کو بھی دیکھا، اس جز کے متعلق اس مقام پرکچھ نہیں ملا، غالباً فرض پر قیاس کرکے اس کو لکھ دیاگیا، اور اس پر جو آپ نے محذور بیان فرمایا ہے، وہ تومتوجہ نہیں ہوتا، کیونکہ نفل میں قعدہ فرض ہے ، جس پر نمازختم کی جاوے، جیساکہ درمختار میں ہے:

(أو) صلى اربعاً فاکثرو(لم یقعد بينهما) استحساناً لانه بقیامه جعلها صلوة واحدة فتبقی واجبة والخاتمة هى الفریضة (شامی، ص:728،ج1)

لیکن یہ شبہ ہے کہ نفل کے قعدہ اولیٰ میں جب درود شریف کی اجازت ہے تو تکرار تشہد کو فرض پر قیاس کرکے وجوب سجدہ کس طرح ہوگا، اس لیے جب تک کوئی صریح جزئیہ نہ مل جائے تکرار تشہد سے نوافل کے قعدہ اولیٰ میں سجدہ سہوکوواجب نہ کہا جاوے  گا، واللہ اعلم، کتبہ احقر عبدالکریم عفی عنہ، ۱۶ صفر۴۵ھ

احقرظفراحمدعرض کرتا ہے کہ اس مسئلہ کے متعلق جوحوالہ جات میں نے لکھے ہیں اپنے مسودہ کو اس مقام پرمیں نے دیکھا تووہاں تصریح موجود ہے، کہ نفل کے قعدہ اولیٰ میں تکرار تشہد سے وجوب سجدہ سہو کا جزئیہ ہماری نظر سے نہیں گزرا اور بظاہریہ قواعدکے بھی خلاف ہے، کیونکہ نوافل میں ہر شفعہ مستقل نماز ہے، اور اس کا قعدہ اولیٰ بحکم قعدہ اخیرہ ہے، البتہ سنن موکدہ اوروترکاحکم مثل فرائض کے ہے اھ، نہ معلوم کیا غلطی ہوئی کہ میری اس تحریر کے بعد بھی بہشتی زیور کے مسئلہ میں ترمیم نہ ہوئی ، نہ میری عبارت لکھی گئی، صرف حوالہ جات ہی لکھ دیئے گئے، النورمیں اس غلطی کی اطلاع کردی جائے گی، اور آئندہ طبع میں ان شاء اللہ اصلاح بھی ہوجائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved