- فتوی نمبر: 35-251
- تاریخ: 30 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مدارس کے احکام
استفتاء
اس مسئلہ میں راہنمائی فرمادیں کہ مدارس قومیہ کے محصلین حضرات جب اندرون و بیرون ملک تحصیل چندہ کے لیے جاتے ہیں تو چندہ دہندگان مدرسہ کے لیے چندہ دیتے ہیں تو محصل کے لیے بھی ہدیہ دیتے ہیں تو یہ ہدیہ محصل کے لیے لینا کہاں تک جائز ہے ؟ بعض اوقات اپنی جگہ رہتے ہوئے موبائل کے ذریعہ سے چندہ کیا جاتا ہے تو مدرسہ کے لیے چندہ دیتے ہیں ، بعض اوقات رابطہ کرنے والے کے لیے بھی ہدیہ دیتے ہیں تو یہ ہدیہ لینا کہاں تک صحیح ہے ؟
تنقیح : سائل بنگلہ دیش کے ایک مدرسہ میں مدرس ہے ۔ کبھی مدرسہ کی تحصیل چندہ بھی کرتا ہے ۔ دوران تحصیل ہدیہ بھی مل جاتا ہے ۔ اس لیے ان کو یہ سوال پوچھنا ہے کہ ہدیہ حلال ہے یا نہیں ؟ یہ سوال اپنی تشفی کے لیے بنگلہ دیش ، انڈیا اور پاکستان کے کل تین دارالافتاؤں میں بھیجا گیا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں سائل کو اگر مدرسہ کی طرف سے تحصیل چندہ کے دوران ہدایا قبول کرنے سے روک دیا گیا ہو تو کسی کا ہدیہ قبول نہ کرے ۔اگر کسی کا ہدیہ لے بھی تو مدرسہ کے فنڈ میں جمع کرادے ۔ اور اگر مدرسہ کی طرف سے ہدیہ قبول کرنے کی اجازت ہو تو عام لوگوں کے ہدایا سے احتراز کرے ۔ البتہ جن کے ساتھ پہلے سے تعلقات ہوں یا جو پہلے سے سائل کو تحائف دیتے ہوں یا جن لوگوں کے بارے میں یہ ظاہر ہوجائے کہ وہ سائل سے ذاتی محبت کی وجہ سے ہی ہدیہ دے رہے ہیں تو ان کا ہدیہ قبول کیا جا سکتاہے۔
تکملہ فتح الملہم (2/170) میں ہے:
ودل الحديث على أن العامل لا يجوز له قبول الهديّة أثناء عمله إلا ممن كان يهدي إليه قبل أن يتولى العمل؛ فإن الظاهر أن من يهدي إليه بصفة كونه عاملاً ، لا يفعل ذلك إلا تقرباً إليه واستغلالاً له ، ومن طبيعة البشر أنه يلين لمن يهدي إليه هدية، فربما يؤدي ذلك إلى المداهنة في الأعمال، فتكون هذه الهدية كالرشوة. أما من تبين منه أنه لا يُهدي إليه إلا حباً لذاته، ولا يبتغي بذلك إلا وجه الله ، فالظاهر أنه لا يدخل في وعيد هذا الحديث، إن شاء الله تعالى، وبما أن مثل هؤلاء المخلصين قلة نادرة، والنفاق ربما يتزيّا بزي الإخلاص، فالاجتناب فى جميع الأحوال أولى، وأسلم .
فتاوی شامی (5/ 373) میں ہے :
«ورأيت في حاشية شرح المنهج للعلامة محمد الداودي الشافعي ما نصه قال ع ش: ومن العمال مشايخ الأسواق والبلدان، ومباشرو الأوقاف وكل من يتعاطى أمرا يتعلق بالمسلمين انتهى قال م ر في شرحه: ولا يلحق بالقاضي فيما ذكر المفتي والواعظ، ومعلم القرآن والعلم؛ لأنهم ليس لهم أهلية الإلزام، والأولى في حقهم إن كانت الهدية، لأجل ما يحصل منهم من الإفتاء والوعظ والتعليم عدم القبول ليكون علمهم خالصا لله تعالى، وإن أهدي إليهم تحببا وتوددا لعلمهم وصلاحهم فالأولى القبول وأما إذا أخذ المفتي الهدية ليرخص في الفتوى فإن كان بوجه باطل فهو رجل فاجر يبدل أحكام الله تعالى، ويشتري بها ثمنا قليلا، وإن كان بوجه صحيح فهو مكروه كراهة شديدة انتهى، هذا كلامه وقواعدنا لا تأباه، ولا حول ولا قوة إلا بالله»
کفایت المفتی (104/7) میں ہے :
جواب: مدرسے کے مدرسین اور مبلغ جو صرف تدریس اور تبلیغ کے کام پر مامور ہوں یعنی فراہمی چندہ ان کا فرض منصبی نہ ہو، مدرسہ سے رخصت حاصل کرکے کسی جگہ جاکر وعظ کریں اور ان کو شخصی طور پر کوئی چیز یا نقد ہدیہ ملے تو وہ ان کی اپنی ہے۔ ہاں سفراء جو فراہمی چندہ کے کام پر مامور ہوں اور مدرسے نے ان کو شخصی طور پر ہدیہ لینے سے روک دیا ہو ان پر لازم ہے کہ یا تو وہ شخصی ہدایا قبول نہ کریں یا قبول کریں تو مدرسے کے فنڈ میں ڈال دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
