- فتوی نمبر: 36-78
- تاریخ: 21 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میں زید ولد خالد عرض کر رہا ہوں ، مفتی صاحب چار سال پہلے کی بات ہے کہ میں نے غصے میں آکر اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی تھیں، اس کی گواہ میری بیٹی تھی ہم نے مسجد قدسیہ میں مفتی ***صاحب کے سامنے یہ سارا معاملہ بیان کیا تھا جس پر ہمارے بیانات کے مطابق مفتی صاحب نے چند دن بعد ہی ہماری صلح کروا دی تھی اس کے بعد یہ میرے ساتھ چار سال رہی ہے جس میں میں اس کو یہ کہتا ہوں کہ” تو میری طرف سے فارغ ہے، تو باپ کے گھر چلی جا” لیکن میری ایسی کوئی نیت نہیں ہے کہ میں اس کو چھوڑ دوں۔
میں اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ اس کو چھوڑنے کا میرا ایسا کوئی ذہن نہیں تھا یہ میرے ساتھ بد زبانی کرتی ہے جس پر میں طیش میں آجاتا ہوں، اس کی وجوہات یہ ہیں کہ میں جب اپنی بیٹی کو پیار کرتا ہوں یا اس کا منہ چومتا ہوں تو وہ مجھے غلط نظریے سے دیکھتی ہے پھر اس وجہ سے میں اس کو کہتا ہوں کہ” تم میری طرف سے فارغ ہو” اور میری بیٹی کی عمر تین سال ہے ابھی پانچ ماہ پہلے یہ راولپنڈی گئی تھی ہمارا آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوا تھا لیکن اس نے راولپنڈی جا کر یہ شور ڈالا کہ اس نے مجھے طلاق دے دی ہے اور میرا ہم زلف کہتا ہے کہ تمہاری بیوی تمہارے لیے حرام ہو گئی ہے ان کا مسلک بریلوی ہے اور وہ حلالہ کو مانتے ہیں اور جو میرے سسر ہیں وہ میرے چچا بھی لگتے ہیں۔ اب آپ میری بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں میرا مسلک دیوبند ہے۔
وضاحت مطلوب ہے:1۔ پہلے جو دو طلاقیں دیں تھیں ان کے الفاظ کیا تھے؟ اور زبانی مسئلہ پوچھا تھا یا فتویٰ لیا تھا؟ اگر تحریری فتویٰ لیا تھا تو وہ بھیجیں۔
2۔ “تو میری طرف سے فارغ ہے” کہتے وقت غصے کی حالت تھی یا نہیں؟ اور بیوی کی طرف سے طلاق کا مطالبہ تھا یا نہیں؟
جواب وضاحت: 1۔طلاق کے الفاظ یہ تھے کہ “طلاق دی دی” اور نیت صرف ایک طلاق کی تھی۔ مسئلہ زبانی پوچھا تھا۔2۔ غصے کے حالت میں کہے تھے اور بیوی کی طرف سے طلاق کا مطالبہ نہیں تھا۔
بیوی کا بیان:
چار سال پہلے والے واقعہ میں شوہر نے “دی” کا لفظ تین بار کہا تھا یعنی یوں کہا تھا کہ ” طلاق دی، دی، دی “
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں لہذا اب نہ صلح ہوسکتی ہے اور نہ رجوع کی گنجائش ہے۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں شوہر نے اقرار کیا ہے کہ میں نے غصہ میں آکر اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی تھیں چونکہ ان الفاظ میں شوہر نے دو طلاقوں کا اقرار کیا ہے اور طلاق کا اقرار کرنے سے بھی قضاءً طلاق واقع ہوجاتی ہے خواہ شوہر جھوٹا اقرار کرے یا غلط فہمی کی وجہ سے کرے لہٰذا مذکورہ صورت میں شوہر کے اس اقرار کی وجہ سے دو رجعی طلاقیں واقع ہوگئیں اور چونکہ شوہر نے عدت میں رجوع کرلیا تھا اس لیے نکاح باقی رہا پھر کئی سال بعد شوہر نے جب غصے میں یہ کہا کہ ” تم میری طرف سے فارغ ہو” تو ان الفاظ سے بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوگئی کیونکہ مذکورہ الفاظ کنایات طلاق کی تیسری قسم میں سے ہیں جن سے غصے کی حالت میں شوہر کی نیت کے بغیر بھی بیوی کے حق میں بائنہ طلاق واقع ہوجاتی ہے لہٰذا مذکورہ صورت میں بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں ہوگئی ہیں۔
شامی (4/440) میں ہے:
ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة.
الاشباه والنظائر (ص:134) ميں ہے:
ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع بإفتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع كما في القنية
شرح الحموی علی الاشباہ والنظائر (1/356) میں ہے:
ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع بإفتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع …. الخ أى ديانة، أما قضاء فيقع كما فى القنية لإقراره به فإن قيل كيف يتبين خلافه؟ أجيب بأنه يحتمل أن يكون المفتى أفتى غير ما هو فى المذهب فأفتى من هو أعلم منه بعدم الوقوع ويحتمل ان المفتي أفتى أولا بالوقوع من غير تثبت ثم أفتى بعد التثبت بعدمه.
الفتاویٰ الحامدیہ (2/53) میں ہے:
وإذا أقر بشيء ثم ادعى الخطأ لم يقبل كما في الخانية إلا إذا أقر بالطلاق بناء على ما أفتى به المفتي ثم تبين عدم الوقوع فإنه لا يقع كما في جامع الفصولين والقنية أشباه من كتاب الإقرار يعني لا يقع ديانة وبه صرح في القنية منح آخر الإقرار ومثله في العلائي
غمزۃ عیون البصائر فی شرح الاشباہ والنظائر(1/461) میں ہے:
قوله: ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع إلى قوله لم يقع إلخ. أي ديانة أما قضاء فيقع كما في القنية لإقراره به، فإن قيل كيف يتبين خلافه؟ أجيب بأنه يحتمل أن يكون المفتي أفتى غير ما هو في المذهب، فأفتى من هو أعلم منه بعدم الوقوع
التحقیق الباہر شرح الاشباہ والنظائر (2/735) میں ہے:
ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع بافتاء المفتي، فتبين عدمه ……. لم يقع ديانة ولا يصدق فى الحكم
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
احسن الفتاوی (5/157)میں ہے:
سوال: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو غصہ میں آکر کہا کہ اگر دوبارہ آواز کی تو تجھے تین طلاق دوں گا اس سے پہلے کچھ کشمکش چل رہی تھی اس نے خیال کیا کہ میں نے جو الفاظ استعمال کیے ان سے شاید طلاق واقع ہو گئی اس لیے لوگوں سے کہنے لگا کہ اس کو میں نے طلاق دے دی ہے کیا اس صورت میں طلاق واقع ہو سکتی ہے؟ بینوا توجروا
الجواب: طلاق ہو گئی بلکہ کسی مفتی کے غلط فتوے کی بناء پر شوہر طلاق کی خبر دے تو بھی قضاءًطلاق ہو جاتی ہے دیانۃً نہیں ہوتی صورت سوال میں تو اس کی خبر مفتی پر مبنی نہیں ہے اس لیے دیانۃً بھی طلاق ہوگئی مگر طلاق کے عدد میں اس کے قول اول “تین طلاق دے دوں گا” کا اعتبار نہیں بلکہ لوگوں کو خبر دینے میں جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان کا اعتبار ہے اگر یوں کہا کہ “میں نے طلاق دے دی ہے” جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو ایک طلاق ہوئی اور اگر “تین طلاق دے دی ہے”کہا تو تین طلاقیں ہو گئیں۔
قال في الأشباه في القاعدة السابعة عشر :ولو أقر بطلاق زوجته ظانا الوقوع بافتاء المفتي فتبين عدمه لم يقع كما في القنية.
وقال الحموي:قوله (لم يقع)اي ديانةً اما قضاءً فيقع كما في القنية لاقراره به.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved