- فتوی نمبر: 35-252
- تاریخ: 30 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ایک شخص فوت ہو گیا ہے ، ورثاء میں بیوی، دو لڑکیاں اور تین لڑکے ہیں ، ایک مکان ہے جس کو دو بھائیوں نے تیسرے کو 21 لاکھ میں فروخت کیا یعنی مکان کی کل قیمت 21 لاکھ روپے مقرر کی گئی اور ایک بھائی نے مکان لے لیا اور باقی دو بھائیوں میں سے ہر ایک کو 7 لاکھ روپے دے دیے، اس وقت بہنوں اور ماں کو نظر انداز کیا اب تیسرے بھائی نے مکان کو 69 لاکھ میں فروخت کیا ہے اب میراث کی تقسیم پہلی قیمت پر ہے یا دوسری قیمت پر؟ اور کس کا کتنا حصہ بنتا ہے؟
وضاحت مطلوب ہے:(1)کیا مرحوم کی بیوی اور ساری بیٹیاں اب بھی حیات ہیں ؟(2) مرحوم کی وفات کے وقت اس کے والدین میں سے کوئی حیات تھا یا نہیں تھا ؟ (3) سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟ (4) اصل سائل کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔
جواب وضاحت: (1) جی حیات ہیں اور حصہ لینا چاہتی ہیں۔(2) نہیں۔(3) یہ سوال مجھ سے کسی جاننے والے نے پوچھا ہے۔(4) تینوں بھائی اپنی بہنوں کو حصہ دینا چاہتے ہیں لیکن ملک سے باہر ہیں ان کے بہنوئی کی طرف سے یہ سوال ہے۔ اس کا رابطہ ********ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں جن دو بھائیوں نے 7،7 لاکھ روپے لیکر مکان تیسرے بھائی کو فروخت کردیا تھا ان کا اب اس مکان میں کچھ حصہ نہیں لہٰذا انہیں اس مکان یا اس کی موجودہ قیمت میں سے کچھ نہیں ملے گا۔ البتہ باقی ورثاء (بیوی اور دو لڑکیوں) کا اور جس بھائی نے یہ مکان خریدا تھا ان سب کا اس مکان میں یا اس کی موجودہ قیمت میں حصہ ہے لہٰذا مکان کی قیمت کے 64 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 8 حصے ( 12.5 فیصد) یعنی 862500 روپے مرحوم کی بیوہ کو، 7 حصے (10.93فیصد فی کس) یعنی 754687 روپے مرحوم کی ہر بیٹی کو اور 42 حصے (اپنے اور دو بھائیوں سے خریدے گئے حصوں سمیت) (65.61 فیصد) یعنی 4528125 روپے مرحوم کے اس بیٹے کو ملیں گے جس نے باقی دو بھائیوں کے حصے خریدے تھے ۔
نوٹ: مذکورہ صورت میں جن دو بھائیوں نے تیسرے بھائی سے اپنے حصوں سے زائد رقم لی ہے اس کا تصفیہ یہ تینوں بھائی آپس میں خود کریں اس کا تعلق ماں اور بہنوں کے حصوں سے کچھ نہیں ہے۔
شامی (5/642) میں ہے:
(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي (ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
