- فتوی نمبر: 35-253
- تاریخ: 30 مئی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
میرے والد 2017 میں فوت ہو گئے تھے اور دادا دادی ان کے انتقال سے پہلے ہی فوت ہو گئے تھے ہمارے والد صاحب کا ایک مکان ہے جس کی مالیت تقریبا ایک کروڑ ہے ہم دو بھائی ایک بہن اور ایک والدہ ہیں اس میں شرعی حصے بتا دیں کہ کس کا کتنا حصہ بنے گا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کے مکان کے کل 40 حصے کیے جائیں گے جن میں سے بیوی کو 5 حصے (12.5فیصد) اور بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 14 حصے (35 فیصد) اور بیٹی کو 7 حصے (17.5 فیصد) دیے جائیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
8×5=40
| بیوی | دو بیٹے | 1بیٹی |
| ثمن | عصبہ | |
| 1 | 7 | |
| 1×5 | 7×5 | |
| 5 | 35 | |
| 5 | 14+14 | 7 |
مذکورہ تفصیل کے مطابق ایک کروڑ روپے کی تقسیم یوں ہوگی بیوی کو 1250000 روپے ، بیٹوں میں سے ہر بیٹے کو 3500000 روپے اور بیٹی کو 1750000 روپے دیے جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
