• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

وراثت کی تقسیم کی ایک صورت

استفتاء

میرے دادا  زید  کی ملکیت میں ایک مکان اور ایک دکان تھی ، میرے دادا جنوری  2005 میں فوت ہوئے تھے،  ان کے چار بیٹے (بکر، خالد، عمر، واجد) اور چار بیٹیاں ( فاطمہ، زینب ،  کلثوم، خدیجہ) ہیں۔ان آٹھ میں سے میرے والد( خالد) 2015 میں وفات پا چکے ہیں ان  کے ورثاء میں  ایک بیٹا، ایک بیوی اور تین بیٹیاں ہیں۔

زید  کے ترکے کی تقسیم میرے چچاؤں اور پھوپھیوں نے باہمی رضامندی سے اس طرح کی کہ دکان سے بھائیوں کے حق میں بہنیں دست بردار ہوجائیں کیونکہ دکان میں چاروں بھائیوں کا کاروبار چل رہا تھا اور مکان سے چاروں بھائی بہنوں کے حق میں دست بردار ہوجائیں اس مکان پر بھی چاروں بھائیوں کا قبضہ تھا اور وہ اس میں رہ رہے تھے ۔

زید کی اولاد میں یہ تقسیم طے پائی جس کے نتیجے میں اولا بہنیں دکان سے دست بردار ہوگئیں اسی دوران میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا پھر جب مکان کی دست برداری کی باری آئی تو دو بھائی تو مکان کاقبضہ چھوڑ کر اپنے اپنے مکانات میں شفٹ ہوگئے جبکہ میں اور میرے ایک چچا واجد  اس مکان میں رہتے رہے (میری تینوں بہنیں شادی شدہ ہیں جبکہ والدہ میرے ساتھ ہیں) اب دکان چاروں بھائیوں کے نام ہوگئی اور میرا اور میری بہنوں اور والدہ کا حصہ قانونی دستاویز میں دکان کے اندر ہوگیا ۔

جب مجھ سے مکان چھوڑنے کو کہا گیا تو میں نے تقاضا کیا کہ میرے پاس اتنے وسائل نہیں کہ میں مکان بھی خرید سکوں اور اپنی بہنوں کو بھی ان کا حق شرعی دے سکوں لہذا مجھے دکان میں سے میرا حصہ دے دیا جائے تاکہ میں مکان بھی چھوڑ دوں اور اپنی پھوپھیوں کو والد صاحب کی جگہ ان کا حق دے سکوں اور اپنی بہنوں کو بھی دکان میں سے ملنے والی رقم میں سے ان کا حق دے سکوں۔

جب میں نے یہ تقاضا اپنے چچاؤں کے سامنے رکھا جو دکان میں میرے شریک تھے تو تین چار سال تک وہ راضی نہ ہوئے لیکن اب مسلسل اصرار کے بعد وہ رضامندی دکھا رہے ہیں اور باوجود اس کے کہ میرے حصے کی ویلیو ساڑھے چار کروڑ بنتی ہے (کل دکان کی مالیت اٹھارہ کروڑ کے حساب سے) لیکن وہ مجھے تین کروڑ دینا چاہتے ہیں میں اس پر بھی راضی ہوں کہ اس بوجھ سے خلاصی ہو کہ میں  والد کی  طرف سے ان کی بہنوں کا اور میری بہنوں کا حصہ  دے دوں۔اب پوچھنا یہ ہے کہ:

1۔ اگر مجھے تین کروڑ ملتے ہیں تو ہم بہن بھائیوں اور ہماری  والدہ یعنی خالد کی اولاد اور بیوی میں تقسیم کس طرح ہوگی؟

2۔ والد صاحب کی طرف سے جو پھوپھیوں کو حصہ دیا جا رہا ہے جس کی صورت یہ ہورہی ہے کہ میں مکان چھوڑ رہا ہوں اور وہ مکان بک کر پیسے پھوپھیوں کو چلے جائیں گے( مکان کی موجودہ قیمت ساڑھے چار کروڑ روپے ہے) اس میں سے خالد  کی اولاد اور بیوی کے حصے میں سے ان کے حصوں کے  بقدر کٹوتی ہوگی یا  نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورت میں مرحوم کے کل ترکے (3 کروڑ)  کے 40 حصے کیے جائیں گے جن میں سے بیوی کو 5حصے (12.5 فیصد ) یعنی سینتیس لاکھ پچاس ہزار روپے، بیٹے کو 14 حصے (35 فیصد) یعنی ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے  اور ہر بیٹی  کو 7 حصے (17.5 فیصد فی کس)  یعنی باون لاکھ  پچاس ہزار روپے ملیں گے ۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

8×5=40         3کروڑ

بیوی 1بیٹا 3 بیٹیاں
ثمن عصبہ
1 7
1×5 7×5
5 35
5 14 7+7+7

2۔آپ کے والد کے ورثاء کے حصوں میں سے کوئی کٹوتی نہیں ہوگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved