- فتوی نمبر: 35-278
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > ذبح کے مسائل
استفتاء
کیا پاکستان کے بڑے بڑے ہوٹلوں میں پکا ہوا چکن ،شادیوں میں پکا ہوا چکن ، بڑی بڑی کمپنیوں کی چکن کی پراڈکٹس جیسے کباب،کوفتےاور نگٹس وغیرہ کھانا حلال ہے؟ حالانکہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں جتنا چکن استعمال ہوا ہے اس کی ایک ایک مرغی کو تکبیر کہہ کر ذبح کیا گیا ہے یا اس میں استعمال ہونے والی تمام مرغیاں صحت مند ہیں یا اس میں کوئی بھی مرغی مری ہوئی نہیں ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
پاکستان میں چونکہ زیادہ ترمسلمان بستے ہیں اور سوائے چند مخصوص جگہوں کے عموماً آبادیاں بھی مسلمانوں کی ہیں اور پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں اور ان کے بازاروں کے بارے میں ایسی کوئی شہرت نہیں ہے کہ وہاں غیر شرعی ذبیحہ فروخت کیا جاتا ہے اس لئے پاکستانی کمپنیوں کی مصنوعات حلال سمجھی جائیں گی ان کے بارے میں بلا وجہ شک کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
نوٹ:ہمارا یہ فتویٰ کسی کمپنی کے لیے سرٹیفکیٹ نہیں ہے کیونکہ کمپنی کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے اس لیے کمپنی نے اگر اپنی کسی مصنوع(Product)میں کوئی حرام جز مثلا مردار شامل کیا ہو اور اسے کسی بھی مصلحت سےظاہر نہ کیا ہو تو کمپنی کا یہ فعل بہر حال حرام ہوگا۔
صحیح بخاری (رقم:5507) میں ہے:
عن عائشة رضي الله عنها: «أن قوما قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم: إن قوما يأتوننا باللحم لا ندري أذكر اسم الله عليه أم لا، فقال: سموا عليه أنتم وكلوه» قالت: وكانوا حديثي عهد بالكفر
فتح الباری (9/ 635) میں ہے:
«ويستفاد منه أن كل ما يوجد في أسواق المسلمين محمول على الصحة
شرح القسطلانی (4/ 11) میں ہے:
عن عائشة -رضي الله عنها-: “أن قوما قالوا: يا رسول الله إن قوما يأتوننا باللحم لا ندري أذكروا اسم الله عليه أم لا؟ فقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: سموا الله عليه وكلوه ……….. قال في فتح الباري: وغرض المصنف هنا بيان ورع الموسوسين كمن يمتنع من أكل الصيد خشية أن يكون الصيد كان لإنسان ثم انفلت منه وكمن يترك شراء ما يحتاج إليه من مجهول لا يدري أماله حرام أم حلال، وليست هناك علامة تدل على الحرمة، وكمن يترك تناول الشيء لخبر ورد فيه متفق على ضعفه وعدم الاحتجاج به ويكون دليل الإباحة قويا وتأويله ممتنع أو مستبعد
اعلاء السنن (17/78) میں ہے:
أقول: في الحديث دليل على أنه إن كان الآتي بمثل هذ ا اللحم هو المسلم يجوز أكله لحسن الظن بالمسلم وحمل فعله على الوجه الصحيح
التمہید لابن عبدالبر (14/ 319 ) میں ہے:
«ما ذبحه المسلم ولم يعرف هل سمى الله عليه أم لا، أنه لا بأس بأكله، وهو محمول على أنه قد سمى، والمؤمن لا يظن به إلا الخير، وذبيحته وصيده أبدا محمول على السلامة حتى يصح فيه غير ذلك»
فتح باب العنایہ بشرح النقایہ للہروی الحنفی(3/ 448) میں ہے:
أن الغلبة تنزل منزلة الضرورة في إفادة الإباحة، ألا ترى أن أسواق المسلمين لا تخلو عن المحرم من مسروق ومغصوب، ومع ذلك يباح التناول اعتمادا على الظاهر، وهذا لأن القليل منه لا يمكن التحرز عنه، فيسقط اعتباره دفعا للحرج، وقد قال تعالى: {وما جعل عليكم في الدين من حرج} ، وقال عليه الصلاة والسلام: «بعثت بالحنيفية السمحة، ومن خالف سنتي فليس مني
ہندیہ (3/210) میں ہے:
رجل اشترى من التاجر شيئا هل يلزمه السؤال أنه حلال أم حرام قالوا ينظر إن كان في بلد وزمان كان الغالب فيه هو الحلال في أسواقهم ليس على المشتري أن يسأل أنه حلال أم حرام ويبنى الحكم على الظاهر، وإن كان الغالب هو الحرام أو كان البائع رجلا يبيع الحلال والحرام يحتاط ويسأل أنه حلال أم حرام
آپ کے مسائل اور ان کا حل (5/448) میں ہے :
سوال: دیکھنے میں آیا ہے کہ قصائی جمعہ تک ادا نہیں کرتے اور گوشت میں مصروف نظر آتے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے کہ جس جانور پر اللہ کا نام ذبح کرتے وقت نہ لیا جائے وہ حرام ہے لہذا ہمیں شک ہے ، یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ جانور ذبح کرتے وقت تکبیر نہیں کہتے ہوں گے۔
جواب:ذبح کرنے والے عموما ً مسلمان ہونے کی بناء پر ان کے بارے میں یہی گمان رکھنا چاہیے کہ وہ ذبح کے وقت تکبیر پڑھتے ہوں گے ایسے احتمالات جو آپ نے لکھے ہیں قابل اعتبار نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved