• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

غصے کی حالت میں طلاق کا حکم

استفتاء

شوہر کا  بیان:

میرا لیڈیز سوٹ کا کام ہے، اور اکثر عورتیں  ہی میری گاہک ہیں، اور سوٹ کے متعلق پوچھنے کے  لیے  ان کے میسجز میرے موبائل پر آتے رہتے ہیں ، ایک عورت نے مجھ سے کچھ رقم ادھار لی تھی، رقم لوٹانے سے متعلق  اسی عورت کا میسج آیا تھا ، میری بیوی صائمہ  وہ میسج دیکھ کر کچھ  اور سمجھنے لگی اور  شک کرنے لگی اور غصے میں منہ بناکر دعوت چھوڑ کر چھوٹے بچے کو لیکر گھر چلی گئی، کچھ دیر بعد میں بھی بیٹی کو لیکر گھر آ گیا، مجھے دیکھ کر الٹا سیدھا بولنے لگی مجھ پر چلانے لگی، میں نے سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ آپے سے باہر  ہو گئی مجھے غصہ آیا میں نے پچوں کی چلانے والی گاڑی اس کے سر پر دے ماری اور دوسرے کمرے میں جاکر دیوار کی طرف تھوڑا تکیے سے ٹیک لگاکر  لیٹ گیا، غصہ اتنا آ رہا تھا کہ  دل کیا اسے  جان سے ماردوں ،  اتنے میں صائمہ تیزی سے کمرے میں آکر دروازہ بند کر کے میرے سینے پر  بیٹھ گئی  ،  مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ  کیا ہو رہا ہے ، وہ میرا گریبان کھینچنے لگی، میرا دماغ سن ہو گیا پھر میں نے زور زور سے طلاق کے لفظ بول ڈالے ،  دماغ میں فتور تھا کہ  مار ہی دوں اسکو، کچن میں  جاکر قینچی  بھی لے آیا گھر والوں نے پکڑ لیا پھر دوبارہ سب کے سامنے چلا چلا کر طلاق کے لفظ دوہرانے لگا۔

مزید تنقیح: ان دو دفعہ  میں طلاق کے الفاظ بولنے کا تو مجھے علم ہے لیکن تعداد کا علم نہیں کہ دونوں دفعہ کتنے الفاظ بولے ہیں  بعد میں میرے بھائی نے بتایا کہ آپ نے طلاق کے الفاظ سات آٹھ مرتبہ بولے ہیں۔

بیوی کا بیان:

اس رات ہم دعوت میں تھے، میرے شوہر زید کے موبائل پر ایک عورت کا میسج آیا مجھے شک ہوا، میں غصے میں گھر آ گئی، گھر میں پہلے سے میرے جیٹھ اور چھوٹی نند موجود تھے (ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے ہیں)، پھر میرے شوہر بھی گھر آ گئے ، میں ان پر بہت چلائی  جو منہ میں آیا بولنے لگی، یہاں تک کہ انہیں اپنے غصے پر ضبط کرنا مشکل ہو گیا، پھر انہوں نے میرے سر پر بچوں کی گاڑی (جس پر بچے بیٹھ کر چلاتے ہیں) ماری اور دوسرے کمرے میں چلے  گئے میں بھی اپنے غصے پر ضبط نہ کر سکی، اور تیزی سے اسی دوسرے کمرے میں جاکر اندر سے دروازہ بند کرلیا اور ان کے سینے پر جاکر بیٹھ گئی  اور انکا گریبان پکڑ لیا، پھر اسی حالت میں وہ زور زور سے طلاق،  طلاق کہنے لگے اور کچن سے مارنے کے لیے  قینچی اٹھالائے ، گھر والوں نے روکا اور پھر اسی حالت میں دوبارہ سب کے سامنے “طلاق ، طلاق ” چلانے لگے ، نہ جانے کتنی بار طلاق کا لفظ بولا لیکن تین سے زیادہ بار بولا تھا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں  جن کی وجہ سے بیوی  شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب  نہ صلح ہوسکتی ہے اور   نہ رجوع کی گنجائش ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں طلاق دیتے وقت اگرچہ شوہر غصے کی حالت میں تھا لیکن  غصے کی نوعیت ایسی نہیں تھی کہ اسے  معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کررہا ہے اور نہ ہی اس سے کوئی خلاف عادت افعال واقوال صادر  ہوئے ہیں اور غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

غصہ کی حالت میں بیوی کو بچوں والی گاڑی مارنا یا بیوی کو نقصان پہنچانے کے لیے قینچی لانا یہ کام خلاف عادت نہیں کیونکہ بیوی پر شوہر کو غصہ تھا اور جس پر غصہ ہو اس کو مارنے کے لیے یہ حربے اختیار کرنا خلاف عادت نہیں لہذا اسے خلل فی الاقوال والافعال نہیں کہا جا سکتا لہذا مذکورہ صورت میں شوہر کے متعدد مرتبہ طلاق کالفظ بولنے کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہو چکی ہیں نیز طلاق کا لفظ بولتے وقت اگرچہ شوہر نے بیوی کا نام نہیں لیا لیکن معنیً   اضافت پائی جا رہی ہے کیونکہ عام طور پر طلاق کے الفاظ بیوی کو ہی بولے جاتے ہیں اور سوال میں بھی شوہر   بیوی  سے ہی مخاطب تھا لہذا سیاق و سباق سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ شوہر نے طلاق کے الفاظ بیوی کو ہی بولے ہیں۔

شامی (4/439) میں ہے:

قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله…………… فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل. نعم يشكل عليه ما سيأتي في التعليق عن البحر. وصرح به في الفتح والخانية وغيرهما، وهو: لو طلق فشهد عنده اثنان أنك استثنيت وهو غير ذاكر، وإن كان بحيث إذا غضب لا يدري ما يقول وسعه الأخذ بشهادتهما وإلا لا اهـ مقتضاه أنه إذا كان لا يدري ما يقول يقع طلاقه وإلا فلا حاجة إلى الأخذ بقولهما إنك استثنيت، وهذا مشكل جدا، وإلا أن يجاب بأن المراد بكونه لا يدري ما يقول أنه لقوة غضبه قد ينسى ما يقول ولا يتذكره بعد، وليس المراد أنه صار يجري على لسانه ما لا يفهمه أو لا يقصده إذ لا شك أنه حينئذ يكون في أعلى مراتب الجنون، ويؤيده هذا الحمل أنه في هذا الفرع عالم بأنه طلق وهو قاصد له، لكنه لم يتذكر الاستثناء لشدة غضبه، هذا ما ظهر لي في تحرير هذا المقام، والله أعلم بحقيقة المرام ثم رأيت ما يؤيد ذلك الجواب، وهو أنه قال في الولوالجية: إن كان بحال لو غضب يجري على لسانه ما لا يحفظه بعده جاز له الاعتماد على قول الشاهدين، فقوله لا يحفظه بعده صريح فيما قلنا والله أعلم

درمختار مع رد المحتار(4/509)میں ہے

‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق وقع الكل

(قوله ‌كرر ‌لفظ ‌الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق

فتاوی ہندیہ(2/411)میں ہے:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية

ردالمحتار(4/444)میں ہے:

ولا ‌يلزم ‌كون ‌الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته. اهـ. على أنه في القنية قال عازيا إلى البرهان صاحب المحيط: رجل دعته جماعة إلى شرب الخمر فقال: إني حلفت بالطلاق أني لا أشرب وكان كاذبا فيه ثم شرب طلقت. وقال صاحب التحفة: لا تطلق ديانة اهـ وما في التحفة لا يخالف ما قبله لأن المراد طلقت قضاء فقط، لما مر من أنه لو أخبر بالطلاق كاذبا لا يقع ديانة بخلاف الهازل، فهذا يدل على وقوعه وإن لم يضفه إلى المرأة صريحا، نعم يمكن حمله على ما إذا لم يقل إني أردت الحلف بطلاق غيرها فلا يخالف ما في البزازية ويؤيده ما في البحر لو قال: امرأة طالق أو قال طلقت امرأة ثلاثا وقال لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك تطلق امرأته، لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها لأنه يحتمله كلامه، بخلاف ما لو ذكر اسمها أو اسم أبيها أو أمها أو ولدها فقال: عمرة طالق أو بنت فلان أو بنت فلانة أو أم فلان، فقد صرحوا بأنها تطلق، وأنه لو قال: لم أعن امرأتي لا يصدق قضاء إذا كانت امرأته كما وصف كما سيأتي قبيل الكنايات وسيذكر قريبا أن من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف إلخ. فأوقعوا به الطلاق مع أنه ليس فيه إضافة الطلاق إليها صريحا، فهذا مؤيد لما في القنية، وظاهره أنه لا يصدق في أنه لم يرد امرأته للعرف، والله أعلم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved