- فتوی نمبر: 35-302
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
اگر بیوی پیٹ سے ہو تو کتنے مہینے ہمبستری کرسکتے ہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
انٹرنیٹ پر نیشنل لائبریری آف میڈیسن (امریکہ) اور دیگر متعدد طبی ویب سائیٹس کے مطابق عام حالات میں طبی طور پر ہمبستری پیٹ میں موجود بچے کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتی اس لیے عام حالات میں دوران حمل ہمبستری میں شرعا کوئی ممانعت نہیں ہے البتہ خاص حالات میں جب کسی شخص کو ڈاکٹر، بیوی یا بچے کے نقصان کے پیش نظر منع کر دے تو شرعا ممانعت ہوگی پھر جس درجہ کا نقصان کا اندیشہ ہو ممانعت بھی اس درجہ کی ہوگی۔
الدرالمختار (3/203) میں ہے:
ولو تضررت من كثرة جماعه لم تجز الزيادة على قدر طاقتها
وفي الشامية: فعلم من هذا كله أنه لا يحل له وطؤها بما يؤدي إلى إضرارها
فتاویٰ محمودیہ (18/633) میں ہے:
سوال: حاملہ عورت کے ساتھ کتنی مدت تک صحبت کر سکتے ہیں اور صحبت سے رکنا آیا واجب ہے یا سنت یا مستحب ؟
جواب: صحبت سے رکنے کا حکم حمل کی حفاظت کی خاطر ہے جب اس کو نقصان دے تو رک جائے اور یہ بات طبیب سے دریافت کرنے کی ہے کہ کب نقصان دہ ہے اور کب نہیں ۔
فتاویٰ عثمانی (4/410) میں ہے:
سوال: ایام حمل میں شریعت کے لحاظ سے کس مدت تک صحبت کرنے کی اجازت ہے یا وضع حمل تک مباشرت کی شرعا اجازت ہے ؟
جواب : شرعاً حالت حمل میں مباشرت کی کوئی مدت مقرر نہیں البتہ طبی لحاظ سے اگر بچے کو نقصان پہنچنے کا غالب گمان ہو تو ناجائز ہوگی۔
pmc.ncbi.nlm.nik.gov میں ہے:
Sex is generally considered safe in pregnancy.
Abstinence should be recommended only for women who are at risk for preterm labour, or antepartum hemorrhage because of placenta previa.
There is little evidence to show that sex at term may help induce labour, but this practice is considered safe in women with low-risk pregnancies.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
