- فتوی نمبر: 35-313
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے ، ان کے ورثاء میں بیوی، نو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔جب ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا تو اس وقت ہمارے دادا جان اور دادی جان اس دنیا میں موجود نہیں تھے ان کا انتقال ہو چکا تھا۔ والد صاحب کا ترکہ ان کے ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں والد کے کل ترکہ کے 160 حصے کیے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 20 حصے (12.5فیصد)، مرحوم کی ہر بیٹی کو 7 حصے (4.375 فیصد فی کس) اور ہر بیٹے کو 14 حصے (8.75فیصد فی کس)ملیں گے۔
صورت تقسیم درج ذیل ہے:
8×20=160
| بیوی | 9بیٹے | 2 بیٹیاں |
| ثمن | عصبہ | |
| 1 | 7 | |
| 1×20 | 7×20 | |
| 20 | 140 | |
| 20 | 14+14+14+14
14+14+14+14+14 |
7+7 |
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
