• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

دو بیٹوں اور چاربیٹیوں کے درمیان تقسیم میراث

استفتاء

ایک آدمی کی میراث تقسیم کرنی ہے ایک کروڑ مالیت کا مکان ہے اس کے ورثاء میں دو بیٹے پانچ بیٹیاں اور ایک بیوی تھی، مرحوم کے والدین مرحوم سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔ اس دوران ایک  غیر شادی شدہ بیٹی کا انتقال ہو گیا تھا ، بیٹی کے انتقال کے بعد بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو اس وقت مکان کا ریٹ لگوا کر والد اور بہن کی وراثت میں سے اس کا جتنا حصہ بنتا تھا  وہ دے دیا تھا لہذا اب بڑا بھائی اپنے حصے کے ساتھ ساتھ چھوٹے بھائی کے حصے کا بھی مالک ہے اور چار بہنیں موجود ہیں اس  کے بعد مرحوم  کی بیوی نے اپنے  بڑے بیٹے سے اپنی زندگی میں تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپے بھی یہ کہہ کر لیے کہ میرا جو مکان میں حصہ ہے اس میں سے  یہ پیسے لے لینا، اس کے بعد  مرحوم کی  بیوہ  بھی فوت ہوگئیں  اور ان  کی وفات  سے پہلے ان کے والدین فوت ہوچکے تھے۔اب اس ایک کروڑ کو موجودہ وارثوں میں سابقہ وضاحت کی روشنی میں تقسیم فرما دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم والد کے مکان کے کل 3456حصے کیے جائیں گے جن  میں سے 488 حصے (14.12 فیصد) بیوہ کے حصے میں آئیں گے، 371 حصے (10.73فیصد)  ہر بیٹی کے حصے میں آئیں گے اور 742 حصے (21.47 فیصد) ہر بیٹے کے حصے میں آئیں گے۔

مذکورہ تفصیل کے مطابق ایک کروڑ روپے کی تقسیم یوں ہوگی کہ بیوہ کو 14,12,037 روپے اور ہر ایک بیٹی کو 10,73,495 روپے اور ہر ایک بیٹے کو 21,46,990  روپے ملیں گے پھر چونکہ ایک بھائی نے دوسرے بھائی کا حصہ خرید لیا تھا اس لیے اس کا حصہ بھی خریدنے والے بھائی کو ملے گا ۔ اسی طرح چونکہ والدہ نے ڈیڑھ لاکھ روپے بیٹے سے قرض لیے تھے لہذا پہلے ان کے حصے میں سے قرض منہا کیا جائے گا اس کے بعد باقی رقم  (12,62,037 روپے) کے 8 حصے کیے جائیں گے جن میں سے ہر ایک بیٹے کو دو حصے (25فیصد) یعنی 3,15,509 روپے اور ہر ایک بیٹی کو ایک حصہ (12.5 فیصد) یعنی 1,57,754روپے ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved