- فتوی نمبر: 35-328
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
(1)کتابت مستبینہ مرسومہ اور کتابت مستبینہ غیر مرسومہ کیا ہیں ؟ مثال کے ساتھ بیان کیجیے !
وضاحت مطلوب ہے : سوال کا منشاء کیا ہے؟کوئی واقعہ ہے تو اس کی تفصیل بتا کر مسئلہ پوچھا جائے۔
جواب وضاحت : سوال پوچھنے کا پس منظر :
میں یہ سوال ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنے ذوق و شوق کے تحت کر رہا ہوں۔میرا مقصد یہ ہے کہ میں تحریر کے اصول ، کتابت مستبینہ مرسومہ اور کتابت مستبینہ غیر مرسومہ ، اور ان کےشرعی احکام سمجھ سکوں۔
(2)درج ذیل معاملات : ” میسج ،خط ،طلاق نامہ ” میں میں جاننا چاہتا ہوں کہ :کتابت مستبینہ مرسومہ اور کتابت مستبینہ غیر مرسومہ کیا ہیں، اور ان میں کیا فرق ہے ؟مرسومہ اور غیر مرسومہ تحریر ( میسج، خط، یا طلاق نامہ) کے ذریعے طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟اگر طلاق واقع ہوتی ہے تو وہ کن شرائط کے تحت واقع ہو گی ؟ یعنی وہ شرائط جو فقہی اصول کے مطابق طلاق کے وقوع کے لیے ضروری ہوں )اس بارے میں آپ کے ادارے کی تحقیق کیا ہے ؟
امید ہے کہ آپ حضرات مجھے اس سوال کا جواب عنایت فرمائیں گے ، جواب تسلی بخش ہو گا اور مجھے ناامید نہیں فرمائیں گے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1)تحریر کے ذریعہ طلاق دینے کی دو صورتیں ہیں : (۱) مستبین اور (۲)غیر مستبین ، پھر مستبین کی دو صورتیں ہیں :(۱) مستبین مرسوم اور (۲) مستبین غیرمرسوم ۔
مستبین وہ طلاق ہے جو کسی کاغذ یا دیوار پر اس طرح لکھی جائے کہ جسے پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو جبکہ غیر مستبین وہ طلاق ہے جو اس طرح لکھی جائے کہ جسے پڑھنا اور سمجھنا ممکن نہ ہو مثلاً انگلی کے اشارے سے ہوا میں طلاق کے الفاظ لکھنا ۔
مستبین مرسوم وہ طلاق ہوتی ہے جو طلاق دینے کے معروف اور معتاد طریقہ پر دی جائے جیسے طلاق نامہ کا عنوان، مرسِل اور مرسَل الیہ کا نام لکھ کر طلاق کے الفاظ لکھ دیے جائیں ۔ اسی کو فقہاء معنوَن اور مُصدر سے بھی تعبیر کرتے ہیں جو کہ مرسوم کا ایک فرد ہیں لیکن مرسوم ہونا اس میں منحصر نہیں ہے بلکہ اس کا مدار ہر زمانہ کے عرف اور عادت پر ہوگا۔
مستبین غیر مرسوم وہ تحریری طلاق ہے جو طلاق دینے کے معتاد اور معروف طریقہ سے ہٹ کر ہو مثلا کسی دیوار پر یا زمین پر انگلی سے یا قلم سے اس طرح طلاق لکھ دی کہ پڑھی جاسکے یا کسی سادہ کاغذ پر بغیر عنوان اور مرسِل و مرسَل الیہ کے نام کے طلاق کے الفاظ لکھ دیے جائیں ۔
مستبین مرسوم حکم میں تلفظ کے قائم مقام ہے لہٰذا اس میں چاہے طلاق دینے کی نیت نہ بھی ہو تب بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔اور مستبین غیر مرسوم حکم میں کنایات طلاق کی طرح ہے لہٰذا اگر نارمل حالت میں لکھی گئی ہو تو اگر طلاق کی نیت ہو تب طلاق واقع ہوگی بغیر نیت کے واقع نہیں ہوگی۔ البتہ اگر غصہ یا مذاکرہ طلاق میں لکھی گئی ہو تو شوہر کی نیت کے بغیر بھی بیوی کے حق میں طلاق واقع ہوجائے گی ۔ جبکہ غیر مستبین میں اگر طلاق کی نیت ہو تب بھی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔
(2)طلاقنامہ اور خط کے ذریعہ دی جانے والی طلاق اگر طلاق کے معتاد اور معروف طریقہ پر ہوگی تو مرسوم ہوگی ورنہ غیر مرسوم ہوگی اور میسج کی طلاق ابھی تک ہماری تحقیق میں غیر مرسوم ہے ۔اور ان تینوں ( طلاقنامہ ، خط اور میسج )کا حکم نمبر 1 میں بیان ہوچکا ہے ۔
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (6/ 218) میں ہے:
«الكتاب على ثلاث مراتب مستبين مرسوم، وهو أن يكون معنونا أي مصدرا بالعنوان، وهو أن يكتب في صدره من فلان إلى فلان على ما جرت به العادة في تسيير الكتاب فيكون هذا كالنطق فلزم حجة، ومستبين غير مرسوم كالكتابة على الجدران وأوراق الأشجار أو على الكاغد لا على وجه الرسم فإن هذا يكون لغوا لأنه لا عرف في إظهار الأمر بهذا الطريق فلا يكون حجة إلا بانضمام شيء آخر إليه كالنية والإشهاد عليه والإملاء على الغير حتى يكتبه لأن الكتابة قد تكون للتجربة، وقد تكون للتحقيق……. المقصود من المرسوم أن يكون على الوجه المعتاد في إظهار الأمر عرفا كالكتب المعنونة والمحاضر والسجلات والقصص ونحوها
فتاوی شامی (4/442) میں ہے:
قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق یقع وإلا لا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
