- فتوی نمبر: 35-332
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > زبردستی طلاق کہلوانا
استفتاء
ہمارا نکاح شرعی طریقے سے ولی کی موجودگی میں ہوا تھا لیکن نکاح رجسٹر نہیں ہوسکا، والد صاحب نے نکاح کے لیے جو نکاح خواں بلوایا تھا وہ رجسٹرار نہیں تھا، بعد میں میرے والدین ہمارے خلاف ہوگئے، اس لیے شوہر کو بھی ڈر تھا کہ نکاح کی رجسٹریشن کروا لی تو یہ مجھ پر اور کیس کریں گے یہ سب ملے ہوئے ہیں ۔ ہم دونوں کو میرے گھر والوں سے جان کا خطرہ تھا، وہ مجھے زبردستی طلاق دلوانا چاہتے تھے اور مجھے کہتے تھے تم نے طلاق نہ لی تو ہم تم دونوں کو قتل کر دیں گے یا اشتہاری قرار دے دیں گے ، اس لیے میں نے زبردستی دھمکیاں دے کر طلاق لکھوائی میں نے یہ کہا کہ میں گاڑی کے نیچے آجاؤں گی ، میں جسم فروشی کے دھندے میں ملوث ہو جاؤں گی یہ سب تمہارا گناہ ہو گا، میرے گھر والوں کو تم جواب دو گے ، میں خودکشی کر رہی تھی ، میرے دباؤ پر شوہر نے مجبوری میں دو طلاقيں دیں۔ تیسری طلاق شوہر نے واٹس ایپ پر لفظ “طلاق” لکھ کر بھیجی۔ بعد میں اس نے مجھے صاف کہا تھا کہ میں بہت مجبور ہو گیاتھا ، تم اہم ہو، تمہاری جان بچانے کے لیے لکھا تھا ۔ صرف گھر والوں کو دکھانے کے لیے ، تاکہ وہ گھر واپس آنے پر تمہیں جان سے نہ ماریں، کیونکہ حالات بہت زیادہ خراب تھے گھر کرائے کا تھا ایمرجنسی خالی بھی کرنا تھا میں اور کہیں نہیں جا سکتی تھی، میرا شناختی کارڈ تک گھر والوں نے رکھ لیا تھا ، زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی تھی ، اگر میں طلاق نہ لیتی تو گھر والے مجھے جان سے مار دیتے۔اس کی دل سے طلاق دینے کی نیت بالکل نہیں تھی، وہ بار بار ا قرار کرتا ہے، اس نے مجبور ہونے کا اقرار میسج میں بھی کیا لیکن جان کے خطرے کی وجہ سے مجھے وہ میسج ڈیلیٹ کرنے پڑے۔ اسکرین شاٹ اب موجود نہیں۔
کیا ان حالات میں ہماری طلاق واقع ہو گئی ہے؟ کیا ہمارا نکاح اب بھی باقی ہے؟ہم گناہ سے ڈرتے ہیں۔ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
وضاحت مطلوب ہے: شوہر کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔ اگر تحریری طلاق تھی تو طلاقناموں کی تصویر بھیجیں۔
جواب وضاحت: شوہر کا رابطہ نمبر *******
شرعی نکاح ہوا تھا، رجسٹریشن نہیں ہوئی تھی طلاق بھی صرف میسج پر دی گئی ۔
شوہر کا بیان :
دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ بیوی کے باقی بیان سے تو اتفاق ہے اور مجبوری میں ہی طلاق دی تھی لیکن طلاق کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ پہلی دو طلاقیں ایک دو دن کے وقفے سے بیوی کے مطالبے پر زبانی دی تھیں، الفاظ یہ تھے کہ “طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں” ایک ہفتے بعد رجوع ہو گیا تھا، دو مہینے بعد تیسری طلاق زبانی دی تھی فون پر بیوی کے ماموں نے فون پر زبانی طلاق دینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اس کے الفاظ بھی یہی تھے کہ” طلاق دیتا ہوں” باقی آخری طلاق شاید میسج پر دی ہو لیکن یاد نہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو چکی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی صلح کی گنجائش ہے۔
تو جیہ: مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے مجبوری میں طلاق دی ہے لیکن چونکہ مکرہ کی زبانی طلاق واقع ہوجاتی ہے اس لیے مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہوگئی ہے، پہلی طلاق شوہر کے الفاظ”طلاق دیتا ہوں “سے واقع ہوئی پھر اس کے اس کے ایک دو دن بعد “طلاق دیتا ہوں “کے الفاظ سے الصریح یلحق الصریح کے تحت دوسری رجعی طلاق واقع ہوگئی پھر عدت کے اندر رجوع کرلینے کی وجہ سے نکاح باقی رہا اس کے بعد بیوی کے ماموں کے مطالبے پر “طلاق دیتا ہوں” کہنے سے تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی۔
الدر المختار مع ردالمحتار (4/427) میں ہے:
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق
بدائع الصنائع (3/101) میں ہے:
أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: ” أنت طالق ” أو ” أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة ” مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها
ہندیہ (1/ 377) میں ہے:
الطلاق الصريح يلحق الطلاق الصريح بأن قال أنت طالق وقعت طلقة ثم قال أنت طالق تقع أخرى ويلحق البائن أيضا بأن قال لها أنت بائن أو خالعها على مال ثم قال لها أنت طالق وقعت عندنا
ہندیہ (1/ 470) میں ہے:
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.
بدائع الصنائع (3/187) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
