- فتوی نمبر: 35-334
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: عبادات > زکوۃ و صدقات > وجوب زکوۃ کا بیان
استفتاء
ایک صاحب نے اپنی لکھی ہوئی ایک کتاب چھپوائی ہے ناشر نے اپنے خرچے پر کتاب چھاپی ہے اور اصول کے مطابق کچھ نسخے مؤلف کو دیے جاتے ہیں تو صاحب کتاب نے یہ ارادہ کیا کہ جو نسخے ناشر کی طرف سے ملے ہیں ان میں سے کچھ نسخے ساتھیوں کو ہدیہ کروں گا اور کچھ نسخے آگے فروخت کروں گا تو جن نسخوں کو فروخت کرنے کا ارادہ ہوتا ہے ان پر زکوۃ فرض ہوگی؟
وضاحت مطلوب ہےکہ: آپ کو ناشر کی طرف سے جو نسخے ملتے ہیں ان میں آپ کی عقد کے وقت ہی سے فروخت کرنے کی نیت ہوتی ہے یا بعد میں فروخت کرنے کی نیت بنتی ہے جو بھی نیت ہوتی ہے اس کو تفصیل سے واضح کریں۔
جواب وضاحت: اس میں دونوں شکلیں ہوتی ہیں کبھی عقد کے وقت سے ہی بیچنے کی نیت ہوتی ہے اور کبھی عقد کے وقت بیچنے کی نیت نہیں ہوتی ، بلکہ کچھ ساتھیوں کو اور اداروں کو دینے کا ارادہ ہوتا ہے پھر بعد میں کسی وجہ سے بیچنے کا ارادہ بن جاتا ہے ۔
مزید وضاحت مطلوب ہے کہ:آپ کو ناشر کی طرف سے جو نسخے ملتے ہیں وہ حق طباعت کے عوض میں طے کر کے ملتے ہیں یا پھر حق طباعت الگ سے فروخت کر کے اس کے پیسے الگ لیے جاتے ہیں اور یہ نسخے ہدیۃً ملتے ہیں؟
جواب وضاحت: یہ حق طباعت کے علاوہ ہے اصل میں جب ناشر اپنے خرچے پر کتاب کی طباعت کرتا ہے تو ضابطہ کے مطابق وہ کچھ نسخے مصنف کو دیتا ہے جو حق طباعت کے ضمن میں آتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں ان نسخوں پر زکوۃ نہیں آئے گی۔
توجیہ: مذکورہ نسخوں کے ملنے کی تین صورتیں ممکن ہیں :
(۱ ) عام طور پر ناشر مصنف کو کچھ نسخے بطور ہدیہ کے دیتے ہیں چاہے وہ رائلٹی لے یا نہ لے تو مذکورہ نسخے بھی اسی بنیاد پر ملیں ،تو چونکہ ان کی حیثیت ہدیہ کی بنتی ہے اس لیے ان پر زکوۃ نہیں آئے گی ۔
(۲) مذکورہ نسخوں کا لینا بطور رائلٹی کے ہو، تو چونکہ رائلٹی حق مجرد کا عوض لینا ہے جوکہ جائز نہیں ، لہذا ہماری تحقیق کے مطابق مذکورہ نسخوں کا لینا بھی جائز نہیں اور ان پر زکوۃ بھی نہیں آئے گی ۔
(۳) مذکورہ نسخوں کا لینا بطور مسودہ کی قیمت کے ہو یعنی مصنف اپنے مسودہ کو طبع ہونے سے پہلے طے شدہ نسخوں کے عوض میں بیچ دے تو یہ صورت بھی جائز نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نسخے موصوف فی الذمہ بنیں گے اور مثلی اشیا ء موصوف فی الذمہ ہو کر عام حالات میں ثمن بن سکتی ہے لیکن اس کے لیے شرط ہوتی ہے کہ وہ مارکیٹ میں موجود بھی ہو لہذا مذکورہ صورت میں اگرچہ ان نسخوں کو مثلیات میں سے شمار بھی کر لیا جائے تب بھی چونکہ طے کرنے (عقد) کے وقت ان نسخوں کا وجود ہی نہیں ہوتا لہذا وہ موصوف فی الذمہ ہو کر مسودہ کی قیمت بننے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے اس لیے مذکورہ معاملہ کی بنا پر بھی ان نسخوں کو لینا جائز نہیں اور زکوۃ نہ آئے گی ۔
المبسوط للسرخسی (14/14) میں ہے:
وحكم البيع في المبيع ….واما النقود فمستحقة بالعقد ثمنا،وحكم العقد في الثمن وجوبه ووجوده به معا وذلك متحقق بالذمة الصالحة للالتزام وان لم يكن موجودا في ملكه عينا
فقہی مضامین (ص:433) میں ہے:
اور جب یہ معلوم ہو گیا کہ اپنی تصنیف یا ایجاد کو اپنے لیے مخصوص کرنے کا مصنف یا موجد کو کوئی حق نہیں ہے تو خرید و فروخت بھی شرعا جائز نہیں ہے کیونکہ خرید و فروخت کے لیے مال ہونا شرط ہے اور حق مجرد کوئی مال نہیں ہوتا اگرچہ ذریعہ مال بن سکتا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
