• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

“الرقیۃ الشرعیۃ” کوٹیپ ریکارڈر کے ذریعے سننے کا حکم

استفتاء

“الرقیۃ الشرعیہ”ایک مشہور دم ہے ۔مختلف لوگوں نے خاص کر سعودی لوگوں نے اس کی ریکارڈنگ کی ہوتی ہے، تین گھنٹے کے آگے پیچھے ہوتی ہے۔اگر گھر میں اس کی ریکارڈنگ چلا دیں لیکن ظاہر ہے توجہ سے سنی نہیں جا سکتی  تو کیا ایسی ریکارڈنگ چلانا صحیح ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: مذکورہ دم کا لنک ارسال فرمادیں۔

جواب وضاحت:

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

سائل نے جو لنک بھیجا ہے اس میں اول آخر اذان ہے باقی مختلف آیات کی تلاوت ہے اسی طرح”الرقیۃ الشرعیۃ” کے نام سے نیٹ  پر جو مختلف ریکارڈنگ موجود ہیں وہ  بھی مختلف قرآنی آیات اور دیگر دعاؤں پر مشتمل ہیں ایسی ریکارڈنگ کا گھر  میں لگانا جائز ہے اور اگر کسی  وقت گھر کے کاموں میں مصروف ہونے کی وجہ سے اس کی طرف توجہ نہ رہے تب بھی اس کی گنجائش ہے البتہ اگر کوئی ایسی صورت بنے جس  سے اس کی واضح بے حرمتی محسوس ہوتی ہو تو اس سے بچنا ضروری ہوگا۔

توجیہ: اولا تو مذکورہ رقیہ شرعیہ میں قرآن کے علاوہ دعائیں بھی ہیں جن کا حکم تلاوت کا نہیں ہے پھر نماز کے علاوہ اونچی آواز سے تلاوت کو بعض اہل علم نے سننا واجب قرار دیا ہے اور بعض نے مستحب قرار دیا ہے، ہمارے  حضرات نے سہولت کے لیے استحباب والے قول کو اختیار کیا ہے نیز جب انسان کی تلاوت کو سننا مستحب ہے  تو ٹیپ ریکارڈ میں مزید تخفیف ہوجاتی ہے۔ مزید برآں قرآن  جب رقیہ اور دم کے طور پر پڑھا جائے تو  اس کے احکام قرآن پڑھنے کے نہیں ہوتے۔

تفسیر بیضاوی (3/47) میں ہے

[وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا لعلكم ترحمون] ‌نزلت ‌في ‌الصلاة ‌كانوا يتكلمون فيها فأمروا باستماع قراءة الإمام والإنصات له. وظاهر اللفظ يقتضي وجوبهما حيث يقرأ القرآن مطلقا، وعامة العلماء على استحبابهما خارج الصلاة

تفسیر روح البیان لاسماعیل الحنفی ،ت:۱۱۲۷ھ (3/304) میں ہے:

‌اعلم ‌ان ‌ظاهر ‌النظم الكريم يقتضى وجوب الاستماع والإنصات عند قراءة القرآن فى الصلاة وغيرها وعامة العلماء على استحبابها خارج الصلاة كما فى التفاسير  ولا يجب على القوم الإنصات لقراءة كل من يقرأ فى غير الصلاة.

تفسیر مظہری (3/12) ميں ہے:

‌اختلف ‌العلماء ‌فى ‌وجوب الاستماع والإنصات على من هو خارج الصلاة يبلغه صوت من يقرأ فى الصلاة او خارجها  قال البيضاوى: عامة العلماء على استحبابها خارج الصلاة

التفسیر المنیر (9/229) میں ہے:

إذا قرئ القرآن الكريم فأصغوا إليه أسماعكم، ‌لتفهموا ‌آياته وتتعظوا بمواعظه، وأنصتوا له عن الكلام مع السّكون والخشوع، لتعقلوه وتتدبروه، ولتتوصلوا بذلك إلى رحمة الله بسبب تفهّمه والاتّعاظ بمواعظه، فإنه لا يفعل ذلك إلا المخلصون الذين استنارت قلوبهم بنور الإيمان.

والآية تدلّ على وجوب الاستماع والإنصات للقرآن، سواء أكانت التّلاوة في الصلاة أم في خارجها، وهي عامّة في جميع الأوضاع وكل الأحوال، ويتأكّد ذلك في الصّلاة المكتوبة إذا جهر الإمام بالقراءة،

كما رواه مسلم في صحيحة من حديث أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلّى الله عليه وآله وسلم: «إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبّر فكبّروا، وإذا قرأ فأنصتوا» رواه أيضا أصحاب السّنن عن أبي هريرة.

وهذا هو المروي عن الحسن البصري، لكن الجمهور خصّوا وجوب الاستماع والإنصات بقراءة الرّسول صلّى الله عليه وآله وسلم في عهده، وبقراءة الصّلاة والخطبة من بعده يوم الجمعة لأن إيجاب الاستماع والإنصات في غير الصّلاة والخطبة فيه حرج عظيم إذ يقتضي ترك الأعمال.

وأما ترك الاستماع والإنصات للقرآن المتلو في المحافل، فمكروه كراهة شديدة، وعلى المؤمن أن يحرص على استماع القرآن عند قراءته، كما يحرص على تلاوته والتّأدّب في مجلس التّلاوة

امداد الفتاویٰ (8/481) میں ہے:

سوال: بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ استماع قرآن نماز میں واجب ہے اور خارج نماز کے واجب نہیں اور بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن شریف پڑھے اور سامع نہ سنے بوجہ کسی شغل کے خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی تو قاری کو گناہ ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت عام ہے صلوۃ اور خارج  صلوۃ کو اور امام صاحب کا کلیۃً المطلق یجری علی اطلاقہ بھی اس کا مؤید معلوم ہوتا ہے۔ آجکل علماء کس قو ل پر فتویٰ دیتے ہیں۔

جواب: سماع قرآن میں دونوں قول ہیں ۔ میں آسانی  کے لیے اسی کو اختیار کرتا ہوں کہ خارج صلوٰۃ مستحب ہے۔

اصلاحی خطبات (15/58) میں ہے:

قرآن کریم کی آیات اور قرآن کی سورتوں کو اور اللہ تعالیٰ کے ناموں کو اپنے کسی دنیوی مقصد کے لیے استعمال کرنا زیادہ سے زیادہ جائز ہے لیکن یہ کام عبادت نہیں اور اس میں ثواب  نہیں ہے جیسے آپ کو بخار ہے اور آپ نے دوا  پی لی تو یہ دوا پینا جائز ہے لیکن دوا پینا ثواب نہیں ہے بلکہ ایک مباح کام ہے اسی طرں تعویذ اور جھاڑ پھونک میں اگرچہ اللہ کا نام استعمال کیا لیکن جب تم نے اس کو اپنے دنیاوی مقصد کے لیے استعمال کیا  تو اب یہ بذات خود ثواب اور عبادت نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved