- فتوی نمبر: 32-256
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > کنائی الفاظ سے طلاق کا حکم
استفتاء
میں نے اپنی بیوی سے گزشتہ کچھ سالوں سے فائنانشل ایشو اور اُس وجہ سے گھر کا ماحول خراب ہونا اور یہ کہ میری نافرمانی اور بے عزتی کرنے پر صاف الفاظ میں یہ کہا ہے کہ میں اب سے آپکا کوئی خرچہ نہیں اٹھاؤں گا آپ آزاد ہو میری طرف سے آپکو جو بہتر ملے اس کو منتخب کر لو میں آپ کے قابل نہیں ہوں بقول آپ کے خود۔ تو آپ اب میری ذمہ داری میں نہیں ہے۔ میری ذمہ داری صرف میرے بچے ہیں۔ اور اس وقت میری نیت یہی تھی کہ میرا اس عورت سے رشتہ ختم ہو جائے تاکہ میں ذہنی سکون حاصل کر سکوں۔میری بیوی نے ماضی میں کئی بار مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا تھا، اور میں ہر بار منع کرتا تھا کہ ایسے الفاظ مت نکالو، کیونکہ اگر میرے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے تو یہ تمہارے اور میرے لیے اچھا نہیں ہوگا۔ اپنی محدود تنخواہ کے باوجود، میں نے انہیں یہاں یو اے ای میں بھی رکھا تاکہ میری بیوی جو کہ تعلیم یافتہ ہے، کوئی نوکری کرے اور شاید کچھ معاملات میں آسانی ہو، لیکن نہ تو انہیں کوئی مناسب نوکری ملی، اور اُلٹا مجھے قرض میں ڈبو دیا، جس میں ان کی اور ان کے خاندان کی غلطی تھی جو ہمیشہ حقیقت سے منہ موڑتے تھے اور کہتے تھے کہ کچھ نہیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میری کوئی بھی نہیں سنتا تھا۔
میں نے اپنی بیوی کی ذمہ داری سے دستبرداری کا اعلان 27 دسمبر 2023 کو کال پر کیا جب انہوں نے انتہائی بدتمیزی سے مجھ سے بات کی، اور میں اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا۔ تو میں نے کہہ دیا کہ آج سے تم میری ذمہ داری میں نہیں ہو، جاؤ، میں نے تمہیں آزاد کیا۔مذکورہ صورت میں کیا میرا رشتہ ختم ہو چکاہے؟ مجھے تحریری فتوی چاہیے۔
وضاحت:(1) جو الفاظ بولے ہیں ان کو ترتیب سے بیان کریں کہ پہلے کونسے الفاظ بولے ہیں اور بعد میں کون سے؟ جو الفاظ بولے ہیں وہی بتائیں ۔
(2) الفاظ بولتے وقت لڑائی جھگڑا ہو رہا تھا؟
جواب وضاحت :(1)میرے الفاظ یہی تھے کہ “فاطمہ ، تم میری طرف سے جہنم میں جاؤ، جہاں رہنا ہے رہو۔ میں تمہارے ساتھ اب کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا، سوائے بچوں کے جن کی ذمہ داری مجھ پر ہے جب تک وہ بالغ نہیں ہو جاتے۔ تم میری طرف سے آزاد ہو، آزاد ہو۔ جو تمہیں ٹھیک لگتا ہے کرو، مجھے اب تمہاری کوئی پروا نہیں۔ تم میری طرف سے آزاد ہو۔ آج سے میں تمہاری ذمہ داری سے دستبردار ہوتا ہوں۔ تم میری ذمہ داری میں نہیں ہو، اور نہ ہی مجھ سے کسی قسم کی کوئی امید یا توقع رکھنا۔ میں تمہارا خرچہ نہیں اٹھاؤں گا۔ اپنے رشتہ داروں میں رہو اور چاہے تو انہیں بتا دو کہ میں نے ایسا کہہ دیا ہے، صاف صاف الفاظ میں۔ میں صرف اور صرف اپنے بچوں کا ذمہ دار ہوں۔ اور اس وقت میری یہی نیت تھی کہ میرا اس عورت سے رشتہ ختم ہو جائے۔اس وقت میری بیوی نے مجھ سے دو تین بار پوچھا کہ کیا تم مجھے طلاق دے رہے ہو؟ تو میں نے یہی کہا کہ تم نے جو سمجھنا ہے سمجھو، مجھ سے اب کسی قسم کی کوئی امید نہ رکھنا۔” اور یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا تھا۔
بقیہ حصہ: ایسے زندگی اب میں نہیں چلانا چاہتا۔ میں تم سے تنگ آ چکا ہوں۔ اپنے رشتہ داروں میں ہی رہو، جہاں تمہارا شروع سے ہی دل لگتا ہے، اور سب خرچے تو وہی تمہارے اٹھاتے ہیں، مجھ سے آج سے تم کچھ بھی توقع نہ رکھو۔ اس وقت میری یہی نیت تھی کہ اللہ کرے میرا اس عورت سے رشتہ ختم ہو جائے اور میں سکون کا سانس لے سکوں۔اس وقت میری بیوی نے مجھ سے دو یا تین بار پوچھا کہ کیا تم مجھے طلاق دے رہے ہو یہ کہہ کر؟تو میرا جواب اس وقت یہی تھا کہ تم اصل میں یہی چاہتی ہو، بس میرے منہ میں لقمہ ڈال رہی ہو کہ میں طلاق کہہ کر یہ رشتہ ختم کروں، تو تم نے جو سمجھنا ہے اب سمجھو، میں صرف اپنے بچوں کے لیے جو بھی کروں گا، وہی کروں گا۔ تمہیں جو صحیح لگے اور جو تمہارا خرچہ اور تمہاری خواہشات پوری کر سکتا ہے، اس کے پاس جاؤ، میں نہیں کر سکتا۔ اور یہ بات اور اس سے ملتی جلتی بات جنوری 2024 میں بھی ہوئی تھی، مجھے صحیح تاریخ اب یاد نہیں۔میں نے ان سے کہا تھا کہ تم بچوں کو میرے گھر چھوڑ دو اور اپنا خود سوچو۔ میرے خاندان میں سے کوئی نہ کوئی دیکھ بھال کر لے گا ان کی۔
(2) جی لڑائی جھگڑا ہو رہا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں شوہر نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں ان کی رو سے ایک طلاق بائن ہو چکی ہے جس سے سابقہ نکاح ختم ہو گیا ہے۔ لہذا اگر میاں بیوی اکٹھے رہنا چاہیں تو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں۔
درمختار (516/4) میں ہے:
(ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب
ہندیہ (2/239) میں ہے:
(الفصل الخامس فى الكنايات فى الطلاق ) لايقع بها الطلاق الا بنية او بدلالة حال كذا فى الجوهرة النيرة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved