• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ماں کی وفات کے بعد بچی کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟

استفتاء

بخدمت جناب عالی، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں ایک نہایت اہم شرعی مسئلے پر آپ سے رہنمائی چاہتی ہوں، جو ہمارے خاندان کے لیے انتہائی تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ میری بیٹی، جو ایک سرکاری ٹیچر تھی، 29 اپریل 2024 کو وفات پاگئی۔ وہ پیدائش سے ہی فیکٹر اے کمی نامی بیماری میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ معذور بھی تھی، اور زندگی بھر صحت کے شدید مسائل کا سامنا کرتی رہی۔ اس کی جسمانی کمزوری اور بیماری کے سبب اسے بار بار ہسپتال جانا پڑتا تھا، اور ان حالات میں اُس کی بیٹی (جسکی موجودہ عمر 2 سال ہے) پیدائش سے ہمارے پاس رہتی تھی تا کہ بچی کی بہتر دیکھ بھال یقینی بنائی جا سکے۔

میری بیٹی نے اپنے آخری وقت میں اپنی دونوں بہنوں اور مجھ سے عہد لیا کہ اس کی وفات کے بعد اس کی بیٹی کی پرورش ہم کریں گے وہ اس کے مائیکے ہی رہے اور اسے سسرالی خاندان کے حوالے نہ کریں ۔ یہ عہد میری بیٹی نے اپنی بچی کے بہترین مستقبل اور محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے جذبے کے تحت لیا تھا۔

بیٹی کی وفات کے 5 ماہ بعد بچی کے والد نے زبر دستی اُسے ہم سے لے لیا، حالانکہ ان کی مالی حالت اور طرز زندگی بچی کی پرورش کے لیے موزوں نہیں ہے۔ والد کی ملازمت کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہے ، اور ان پر کرپشن اور فراڈ کے الزامات ہیں۔ مزید براں، انہوں نے میری بیٹی کے زندگی بھر کے اخراجات میں کبھی مالی معاونت نہیں کی۔ میری بیٹی ، جو معذوری اور بیماری کے باوجود، اپنے طبعی اور ذاتی اخراجات خود اٹھاتی رہی حتی کہ اپنے شوہر کے اخراجات کے ساتھ ساتھ اس کے قرضے بھی اتارتی رہی۔ یہاں تک کہ  اس کا شوہر میری بیٹی کی وفات کے بعد بیٹی کے بینک سے بنابتائے پیسے نکالتا رہا جو کہ فراڈ میں آتا ہے۔ بچی کی دادی بھی بلڈ پریشر، شوگر اور جگر کی مریضہ ہیں اور گھر کرائے پر ہونے کے ساتھ ساتھ وہاں بچی کی مناسب دیکھ بھال اور پرورش کے امکانات نہایت محدود ہیں۔

ہم نے بچی کو 5 اکتوبر 2024 کو اُس کے چچا کی شادی میں شرکت کے لیے بھیجا تھا، لیکن شادی کے اختتام پر ، 13 اکتوبر 2024 کو اس کے والد نے اُسے زبردستی اپنے پاس روک لیا اور ہمیں بچی کو واپس نہیں لانے دیا۔ ہمارے نزدیک اس کو چھینے کی بنیادی وجہ بچی کے اثاثے ہیں جو اسکی ماں کی طرف سے اسے ملے ہیں۔ انہیں اثاثوں کی حفاظت کے لیے ہم نے عدالت سے بھی رجوع کیا ہوا ہے کہ انہیں بچی کی بلوغت تک بچی کے علاوہ کوئی استعمال نہ کر سکے۔

ہماری بنیادی ترجیح  بچی کی اچھی تربیت ہے اور وہاں اس کی حالت ہمیں پہلے جیسی معلوم نہیں ہوئی کیونکہ وہاں اسکی اچھی دیکھ بھال کرنے والا کوئی موجود نہیں ہے۔ براہ کرم، اسلامی نقطہ نظر سے ہماری رہنمائی فرمائیں کہ ماں کی وفات کے بعد بچی کی کسٹڈی ( پرورش کا حق ) کس کو حاصل ہے تاکہ ہم عدالت میں اسلام کے قوانین کے مطابق اپنا مدعی پیش کر سکیں۔ قرآن وسنت کی روشنی میں ہمیں اس معاملے پر شرعی اصولوں کے مطابق فیصلہ کرنے کی رہنمائی فراہم کریں تاکہ بچی کی بہترین پرورش اور حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں والدہ کے انتقال کے بعد بچی کی نو سال کی عمر تک پرورش کی زیادہ حقدار نانی ہے،اس کے بعد والد لے سکتا ہے۔

درِ مختار (5/259) میں ہے:

باب الحضانة: (تثبت للأم) النسبية ………. (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت أو لم تقبل أو سقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وان علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور

درمختار(5/274) میں ہے:

(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية ……… (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى ………. (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد زيلعي.

وقال الشامي تحته: قوله: (كذلك) أي في كونها أحق بها حتى تشتهى. قوله: (وبه يفتى) قال في البحر بعد نقل تصحيحه: والحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية

فتاویٰ عالمگیری (1/ 541)میں ہے:

أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدةً أو فاجرةً غير مأمونة، كذا في الكافي … وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجةً بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة … والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني، وقدر بسبع سنين، وقال القدوري: حتى يأكل وحده، ويشرب وحده، ويستنجي وحده. وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين، والفتوى على الأول. والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض. وفي نوادر هشام عن محمد رحمه الله تعالى: إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق، وهذا صحيح. هكذا في التبيين…

مسائل بہشتی زیور (2/143) میں ہے:

’’میاں بیوی میں جدائی ہوگئی اور طلاق مل گئی اور گود میں بچہ ہے تو اس کی پرورش کا حق سب سے پہلے ماں کو ہے۔ ماں لینے پر تیار نہ ہو [یا میاں بیوی میں جدائی تو نہیں ہوئی لیکن ماں کا انتقال ہوگیا ، کما مر عن الدر المختار] اور دوسرے لینے پر تیار ہوں تو پھر پرورش کا حق نانی کو پھر پڑنانی کو اس کے بعد دادی کو ہے۔ یہ نہ ہوں تو سگی بہنوں کو حق ہے کہ وہ اپنے بھائی کی پرورش کریں ۔ اس کی بہنیں نہ ہوں تو سوتیلی بہنوں کو مگر جو ماں شریک بہنیں ہیں وہ پہلے ہیں پھر باپ شریک بہنیں ہیں ۔ پھر خالہ اور پھرپھوپھی۔ اگر ان عورتوں میں سے کوئی نہ ہوتو پھر باپ زیادہ مستحق ہے ۔۔۔۔۔۔ الی قولہ بعد ورقۃ۔۔۔۔۔ اور لڑکی کی پرورش کا حق نو برس تک رہتا ہے، جب نو برس کی ہوگئی تو باپ لے سکتا ہے تاکہ وہ لڑکی کی حفاظت کرے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved