• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک مدت بعد ملنے والے ڈسکاؤنٹ کو جلدی لینے کی ایک صورت

استفتاء

ایک ڈاکٹر صاحب کا کلینک ہے جس میں مریضوں کا معائنہ کرتا ہے، دوائی کی کمپنی ڈاکٹر کو 20 فیصد یا کم وبیش رعایت دیتی ہے اب ڈاکٹر کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ کرتا ہے کہ دو لاکھ کی دوائی میں جتنی بھی رعایت (ڈسکاؤنٹ ) بنتی  ہو یعنی فرض کریں تیس ہزار وہ مجھے ایڈوانس دیدیں اور دوائی مجھے بغیر رعایتی قیمت کے دے دیا کریں اور میں دو لاکھ کی دوائی آپ سے لینے کا پابند ہوں مدت متعین کیے بغیر۔ از روئے شرع اس ایڈوانس کا کیا حکم ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں ایڈوانس  رقم لینا جائز نہیں ہے۔

توجیہ: شرعی لحاظ سے مذکورہ رقم شرعاً ڈسکاؤنٹ نہیں بن سکتی اس لیے کہ ڈسکاؤنٹ اس وقت ہوتی ہے جب کوئی چیز خریدی جاتی ہے جبکہ مذکورہ صورت میں خریداری  ہی نہیں ہوئی اس لیے ڈسکاؤنٹ نہیں بن سکتی بلکہ مذکورہ  ڈسکاؤنٹ کی حقیقت رشوت کی ہے کہ ڈاکٹر میڈیکل کمپنی کو  کہہ رہا ہے کہ میں تمہارے ساتھ معاملہ اسی صورت میں کروں گا جب تم مجھے ایک مخصوص رقم دو گے۔

ہاں اگر دوائیں خریدنے کا معاملہ پہلے مکمل ہوجائے تو پھر ڈسکاؤنٹ لینے کی اجازت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved