• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوہ اور اولاد میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وراثت میں باپ کا ایک گھر ہے جس کی مالیت ایک کروڑ ستر لاکھ (17،000،000)روپےہے۔ورثاء میں سات  بیٹیاں، ایک  بیٹا  اور ایک بیوی ہے ۔سب کو کتنا حصہ ملے گا قرآن وحدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمایں۔

وضاحت مطلوب ہے:کیا مرحوم کے والدین حیات ہیں؟اگر فوت ہوگئے ہیں تو کب فوت ہوئے ہیں؟

جواب وضاحت: والدین مرحوم سے پہلے ہی وفات پا گئے تھے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کے گھر یا اس کی قیمت(ایک  کروڑ ستر لاکھ روپے) کے 72 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کی بیوی کو 9 حصے(12.5فیصد)(2125000)،بیٹے کو 14 حصے (19.44فیصد) (3305555)اور ہر بیٹی کو 7۔7 حصے (9.72فیصد)(1،652،777) ملیں گے۔

صورت تقسیم درج ذیل ہے:

8×11=88

بیوی1بیٹا7 بیٹیاں
ثمنعصبہ
17
1×97×9
963
9147+7+7+7+7+7+7

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved