- فتوی نمبر: 32-286
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > ہبہ و ہدیہ
استفتاء
میں زرعی زمین اور ایک مکان کا مالک ہوں۔زرعی زمین میں نے اپنے چار بیٹوں اور ایک بیٹی میں برابر تقسیم کر دی ہے،میرا ایک بیٹا ذہنی طور پر کمزور ہے وہ میرے نزدیک کھا کما نہیں سکتا اور ایک بیٹی وہ بھی کچھ نہیں کر سکتی۔مجھے قوی اندیشہ ہے کہ میرے بعد میرے بچے مکان بیچ دیں گے اور اس صورت میں میری بیٹی اور ایک ذہنی مریض بیٹا اپنے رہنے کے مکان نہیں بنا سکیں گے میں اپنا مکان بیٹی کو منتقل کرنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میرے اس مکان کا انتقال اس بیٹی کے نام ہو جائے تاکہ اس مکان میں وہ خود بھی رہ سکے اور اپنے ذہنی مریض بھائی کو بھی رکھ سکے اور میں پر امید ہوں کہ وہ ایسا کر لے گی۔
آپ سے گزارش ہے کہ میری رہنمائی فرمائیں کہ میرا یہ طریقہ غلط تو نہیں؟اور کیا میرا ایسا کرنا درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جو صورت حال آپ نے ذکر کی ہے اگر وہ واقعتاً درست ہے تو مذکورہ طریقہ غلط نہیں اور آپ کا ایسا کرنا درست ہے۔
توجیہ:مذکورہ صورت ہدیہ کی ہے اور اگر اولاد میں سے کسی کو کسی وجہ سے زیادہ دے دیا اور اس میں دوسروں کو نقصان پہنچانا مقصود نہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں، مذکورہ صورت میں آپ نے باقی اولاد کو بھی کچھ نہ کچھ دے دیا ہے اور بیٹی کو اس کی تنگدستی کی وجہ سے زیادہ دے رہے ہیں تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
فتاوی شامی (8/583) میں ہے:
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى.
خلاصۃ الفتاوی (4/400) میں ہے:
رجل له ابن وبنت اراد ان يهب لهما شيئا فالافضل ان يجعل للذكر مثل حظ الانثيين عند محمد وعند ابي يوسف بينهما سواء هو المختار لورود الآثار ولو اعطى بعض ولده شيئا دون البعض لزيادة رشده لا بأس به وان كانا سواء لا ينبغي ان يفضل.
امداد الاحکام (2/892) میں ہے:
تسویہ بین الأولاد عطایا میں بھی حنفیہ و جمہور ائمہ کے نزدیک واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اور ترک تسویہ مکروہ تنزیہی ہے اور اگر قصید اضرار ہو تو مکروہ تحریمی ہے۔اگر ایک لڑکے یا لڑکی کوکسی خاص وجہ سے ہبہ کیا جائے یا زائد دیا جائے اور دوسروں کو نہ کیا جائے اور اضرار آخرین کا قصد نہ ہو تو جائز ہے ۔
مسائل بہشتی زیور (2/305) میں ہے:
جو چیز ہو اپنی سب اولاد کو برابر برابر دینا چاہیے۔ لڑکا لڑکی سب کو برابر دے۔ اگر کبھی کسی کو کسی وجہ سے مثلاً اس کی دینداری،خدمت گزاری، دینی خدمات میں مشغولیت اور تنگدستی وغیرہ سے کچھ زیادہ دے دیا تو بھی خیر کچھ حرج نہیں ہے لیکن جسے کم دیا اس کو نقصان دینا مقصود نہ ہو، نہیں تو کم دینا درست نہیں ہے۔ البتہ اگر دوسروں کو نقصان دینے کی غرض سے ہی کسی کو زیادہ دیا یا سارا دے دیا تو وہ ہبہ نافذ ہوجائے گا لیکن باپ گناہ گار ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved