- فتوی نمبر: 32-289
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
جناب عالی گزارش ہے کہ میرے والد محترم کا انتقال 1997 میں ہوا ان کے وارثان میں بیوی 6 بیٹے اور 6 بیٹیاں تھیں ۔
2013 میں والدہ محترمہ اور 2017 میں بڑے بھائی کا بھی انتقال ہوگیا بڑے بھائی کے وارثان میں ایک بیوہ 2 بیٹیاں (بالغ )اور ایک بیٹا (نابالغ) ہیں کس وارث کا کتنا حصہ بنتا ہے؟ رہنمائی فرمادیں ۔
وضاحت مطلوب ہےکہ:آپ کے دادا ،دادی ،نانا، نانی حیات ہیں یا فوت ہو چکے ہیں؟اگر فوت ہوئے ہیں تو والداور والدہ سے پہلے یا بعد میں؟
جواب وضاحت:دادا ،دادی،نانا،نانی والد اور والدہ سے کافی پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم کی جائیداد کے 288 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو 32-32 حصے (11.111فیصد) اور مرحوم کی ہر بیٹی کو 16-16 حصے (5.555فیصد)اور فوت شدہ بیٹے کی بیوی کو 4 حصے (1.38فیصد)، اور ان کے بیٹے کو 14 حصے(4.86فیصد) اور ان کی ہر بیٹی کو 7-7 حصے (2.43فیصد) ملیں گے ۔
نوٹ:والد مرحوم کی بیوی کے ورثاء بھی 6 بیٹے اور 6 بیٹیاں تھیں اور انہی کو والد کے حصے ملنے تھے اس لیے بیوی کو الگ شمار نہیں کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved