• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مرحوم کی اولاد اور مرحوم کے فوت شدہ بیٹے کے ورثاء میں وراثت کی تقسیم

استفتاء

جناب عالی گزارش ہے کہ میرے والد محترم کا انتقال 1997 میں ہوا ان کے وارثان میں بیوی 6 بیٹے اور 6 بیٹیاں تھیں ۔

2013 میں والدہ محترمہ اور 2017 میں بڑے بھائی کا  بھی انتقال ہوگیا بڑے بھائی کے وارثان میں ایک بیوہ 2 بیٹیاں (بالغ )اور ایک بیٹا (نابالغ) ہیں کس وارث کا کتنا حصہ  بنتا ہے؟ رہنمائی فرمادیں ۔

وضاحت مطلوب ہےکہ:آپ کے دادا ،دادی ،نانا، نانی حیات ہیں یا فوت ہو چکے ہیں؟اگر فوت ہوئے ہیں تو والداور والدہ  سے پہلے یا بعد میں؟

جواب وضاحت:دادا ،دادی،نانا،نانی والد اور والدہ سے کافی پہلے ہی فوت ہو چکے تھے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں مرحوم کی جائیداد کے 288 حصے کیے جائیں گے جن میں سے مرحوم کے ہر بیٹے کو 32-32 حصے (11.111فیصد) اور مرحوم کی ہر بیٹی کو 16-16 حصے (5.555فیصد)اور  فوت شدہ بیٹے کی بیوی کو 4 حصے (1.38فیصد)،  اور ان کے بیٹے کو 14 حصے(4.86فیصد) اور ان کی  ہر بیٹی کو 7-7 حصے (2.43فیصد) ملیں گے ۔

نوٹ:والد مرحوم کی بیوی کے ورثاء بھی 6 بیٹے اور 6 بیٹیاں تھیں اور انہی کو والد کے حصے ملنے تھے اس لیے بیوی کو الگ شمار نہیں کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved