- فتوی نمبر: 32-290
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں؟کہ میرے دادا کا انتقال ہوا۔ورثاء میں انہوں نے تین بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑیں۔وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ ان کی بیوی کا بھی انتقال ہوگیا انہوں نے ورثاء میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں اور دو بھائی چھوڑے پھر بھی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ انکی ایک بیٹی بھی انتقال کر گئی ۔بیٹی نے ورثاء میں تین بیٹے ،دو بیٹیاں ،ایک زوج، تین بھائی، دو بہنیں چھوڑی پھر بھی وراثت تقسیم نہیں ہوئی کہ ان کے زوج کا بھی انتقال ہوگیا ۔زوج نے ورثاء میں آٹھ بیٹے تین بیٹیاں،ایک بہن اور ایک بیوی چھوڑی۔اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔
وضاحت مطلوب ہے:1۔آپ کے دادا اور دادی کے انتقال کے وقت ان دادا ،دادی کے والدین حیات تھے یا فوت ہو چکے تھے؟2۔ جو بیٹی فوت ہوئی ہے اس کے زوج کی دو بیویاں تھیں؟3۔ زوج کے والدین بھی حیات تھے یا فوت ہو چکے تھے؟
جواب وضاحت: 1۔دادا ،دادی کے والدین پہلے وفات پا چکے تھے ۔2۔اس شخص کی دو بیویاں تھی اس میں سے ایک حیات ہے ۔3۔ زوج کے والدین بھی پہلے وفات پا چکے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں دادا مرحوم کی جائیداد کے 5472 حصے کیے جائیں گے جن میں سے دادا مرحوم کے ہر بیٹے کو 1216-1216 حصے(22.22فیصد)،اور ہر بیٹی کو 608-608 حصے (11.11فیصد) ملیں گے اور مرحومہ بیٹی کے ہر بیٹے کو 128-128 حصے (2.33فیصد) اور ہر بیٹی کو 64-64 حصے (1.16فیصد) ملیں گے اور بیٹی کے زوج کی بیوی کو 19 حصے (0.34فیصد)،اور دوسری بیوی سے ہر بیٹے کو 14-14 حصے (0.25فیصد) اور ہر بیٹی کو 7-7 حصے (0.12فیصد) ملیں گے۔
نوٹ:دادا مرحوم کی بیوی کے ورثاٰ ء بھی 3 بیٹے اور 3 بیٹیاں تھیں اور انہی کو دادا کے حصے ملنے تھے اس لیے بیوی کو الگ شمار نہیں کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved