- فتوی نمبر: 32-296
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
زید 1982 میں وفات پاگئے ان کے ورثاء میں ایک بیوی (فاطمہ )، 5 بیٹے اور دو بیٹیاں موجود تھیں ۔ زید کے والدین ان کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے تھے۔اور مرحوم نے دو شادیاں کی تھیں، ایک بیوی (زینب ) ان کی زندگی ہی میں فوت ہوگئی تھی اور اپنے ورثاء میں تین بیٹے (بکر ، عمر اور خالد ) چھوڑے۔ بکر 2002 میں فوت ہوا اس نے اپنے ورثاء میں بیوی (کبریٰ)، دو بیٹے (واجد اور رضوان) اور ایک بیٹی (صغریٰ) چھوڑی اور دوسرا بیٹا (عمر ) 2008 میں فوت ہوا اس نے اپنے ورثاء میں ایک بھائی (خالد ) چھوڑا اور 2010 میں خالد فوت ہوا اس نے اپنے ورثاء میں بیوی (کلثوم)،دو بھتیجے اور ایک بھتیجی چھوڑی اور مرحوم زید کی دوسری بیوی (فاطمہ ) 2012 میں فوت ہوئی اس نے اپنے ورثاء میں دو بیٹے (ضیاء اور صہیب ) اور دو بیٹیاں (حفصہ اور عائشہ ) چھوڑیں۔ اب آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ میت کا ترکہ ان کے مابین کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مرحوم زید کے کل ترکہ کے 5760 حصے کیے جائیں گے جن میں سے 294 حصے (5.10 فیصد) واجد کو،294 حصے (5.10 فیصد) رضوان کو،147 حصے (2.55 فیصد) صغریٰ کو،1500 حصے (26.05 فیصد) ضیاء کو،1500 حصے (26.05 فیصد) صہیب کو، 750 حصے (13.02 فیصد) حفصہ کو،750 حصے (13.02 فیصد) عائشہ کو،105 حصے (1.82 فیصد) کبریٰ کو اور 420 حصے (7.29 فیصد) کلثوم کو ملیں گے۔
تسہیل الفرائض (ص:24) میں ہے:
مذکورہ پانچوں میں سے (اب، جد، مذکر اولاد، اخ عینی،عصبہ بننے والی اخت عینیہ) کوئی نہ ہو اور میت کا اخ علاتی ہو تو وہ خود بھی عصبہ ہوتا ہے اور اخت علاتیہ کو بھی عصبہ بنا دیتا ہے۔
مفید الوارثین (143) میں ہے:
جب میت کا حقیقی بھائی اور علاتی بھائی کوئی نہ ہو تو حقیقی بھائی کا بیٹا [بھتیجا] اس تمام مال کا مستحق ہوگا جو ذوی الفروض کے حصے لگادینے کے بعد باقی رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved