- فتوی نمبر: 32-297
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > متفرقات خاندانی معاملات
استفتاء
كيا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پہلے میرے چار نکاح ہوئے تھے جن میں سے بعض شوہر فوت ہوگئے اور بعض نے طلاق دیدی اب میں نے پانچواں نکاح کیا ہے تو خاندان کے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ چار سے زیادہ نکاح جائز نہیں تم نے حرام کام کیا ہے میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ اگر ایک عورت کو بار بار طلاق ہو یا اس کا شوہر فوت ہوجائے تو عورت کو بار بار نکاح کرنا پڑے تو ایک عورت اپنی زندگی میں کتنے نکاح کرسکتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
آپ کا پانچواں نکاح کرنا درست ہے اور حضرت عاتکہ بنت زیدؓ کے بھی پانچ نکاح ہوئے تھے لہٰذا یہ بات درست نہیں کہ چار سے زیادہ نکاح جائز نہیں۔
الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب (4/433) میں ہے:
عاتكة بنت زيد بن عمرو….. كانت من المهاجرات، تزوجها عبد الله بن أبي بكر الصديق…… ثم شهد عبد الله الطائف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فرمى بسهم فمات منه بعد بالمدينة……….. فتزوجها زيد بن الخطاب….. فقتل عنها يوم اليمامة شهيدا، ثم تزوجها عمر بن الخطاب…… ثم قتل عنها عمر……….. ثم تزوجها الزبير بن العوام…… فلما قتل الزبير بن العوام عنها……….وتزوجها الحسن بن علي فتوفى عنها، وهو آخر من ذكر من أزواجها.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved